کمپنی نے 'بدانتظامی' کا الزام لگا کر نواب واجد علی شاہ کو معزول کیا اور اودھ کا الحاق کر لیا؛ یہ اقدام 1857ء کی بے چینی کے اسباب میں شمار ہوتا ہے۔
اودھ (لکھنؤ) کی ریاست شیعہ نوابوں کی حکومت تھی جو مغل بادشاہ کی برائے نام اطاعت کے ساتھ خود مختار رہی، اور جو فنون، ادب اور تہذیب کا مرکز تھی۔ کمپنی نے شجاع الدولہ کے بعد سے اس سے متعدد معاہدے کیے، بھاری رقوم لیں اور علاقے حاصل کیے، اور ریاست اس کی مقروض بھی رہی۔
فروری 1856ء میں لارڈ ڈلہوزی کی پالیسی کے تحت کمپنی نے نواب واجد علی شاہ پر 'بدانتظامی' کا الزام لگا کر انہیں معزول کیا اور اودھ کو براہِ راست اپنی عملداری میں شامل کر لیا۔ نواب کو کلکتہ (مٹیا برج) میں جلاوطن کر دیا گیا۔
اودھ کی فوج میں بڑی تعداد میں سپاہی بنگال آرمی کے تھے، اور اس الحاق سے وہ اپنی ریاست کی ختم ہونے، زمینداروں کی جاگیریں چھننے اور خود اپنے حقوق کے متاثر ہونے پر ناراض تھے۔ یہ ناراضی اگلے ہی سال 1857ء کی جنگ میں بغاوت کے اسباب میں شامل ہو گئی۔