مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

میکالے کی تعلیمی یادداشت — انگریزی ذریعۂ تعلیم

1835ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ1835ء
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

لارڈ میکالے کی سفارش پر سرکاری تعلیم میں انگریزی کو ذریعہ بنایا گیا، جس سے فارسی، عربی اور مقامی تعلیمی روایت کمزور ہوئی اور نئے ملازمتی مواقع انگریزی جاننے والوں تک محدود ہو گئے۔

1830ء کی دہائی میں کمپنی کی تعلیمی پالیسی پر شرقیوں (Orientalists) اور انگریزی حامی افسران (Anglicists) میں بحث تھی؛ کچھ افسران کا خیال تھا کہ عربی، فارسی اور سنسکرت میں تعلیم کی سرپرستی جاری رہے اور دوسرے انگریزی تعلیم چاہتے تھے۔ گورنر جنرل کی کونسل کے رکن تھامس بابنگٹن میکالے نے فروری 1835ء میں اپنی مشہور یادداشت لکھی۔

اس میں کہا گیا کہ ہندوستان کی مقامی علمی روایت کو کم تر قرار دے کر تعلیم کے لیے انگریزی کو ذریعہ بنانا چاہیے اور ایسا طبقہ پیدا کرنا چاہیے جو خون اور رنگ میں ہندوستانی، مگر ذوق، رائے اور فہم میں انگریز ہو۔ گورنر جنرل ولیم بنٹنک نے اس پالیسی کی منظوری دے دی اور سرکاری فنڈ انگریزی تعلیم کے لیے مخصوص کر دیے گئے۔

اس فیصلے کے نتیجے میں مدارس اور روایتی تعلیمی اداروں کو سرکاری سرپرستی سے محروم ہونا پڑا۔ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے نے انگریزی تعلیم سے دوری اختیار کی، جس سے وہ سرکاری ملازمتوں میں پیچھے رہ گئے؛ آگے چل کر سر سید احمد خان اور علی گڑھ تحریک نے اسی خلا کو پر کرنے کی کوشش کی۔

غلامی و جدوجہدِ آزادیعلمی ارتقاءایسٹ انڈیا کمپنی

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں