تیتو میرؒ نے، جو 1822ء میں سید احمد سے مل چکے تھے، زمینداروں اور نیل کے کاشتکاروں کے ظلم کے خلاف کسانوں کی قیادت کی اور نارکل بریا کے بانس کے قلعے میں انگریزی فوج سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔
میر نثار علی (تیتو میر) بنگال کے مسلم کسان گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ نوجوانی میں پہلوانی اور لڑائی کا شوق رکھتے تھے، لیکن 1822ء کے حج کے موقع پر ان کی ملاقات سید احمد شہیدؒ سے ہوئی اور وہ ان کی دعوت سے متاثر ہو کر اصلاحی تحریک کے پیرو بن گئے۔ واپسی پر انہوں نے بنگال کے دیہات میں توحید، سنت کی پیروی اور رسومات کے خاتمے کی دعوت شروع کی۔
زمینداروں نے، جو زیادہ تر ہندو تھے، کسانوں پر داڑھی رکھنے کا ٹیکس اور مساجد پر پابندیاں لگا رکھی تھیں۔ تیتو میر نے ان مظالم کے خلاف کسانوں کو منظم کیا۔ نومبر 1831ء میں انہوں نے نارکل بریا (24 پرگنہ) میں بانس کا قلعہ بنایا جہاں سے جدوجہد کی گئی۔
انگریزی توپخانے کے سامنے یہ بانس کا قلعہ چند دن ہی ٹھہر سکا۔ تیتو میر لڑتے ہوئے شہید ہو گئے اور کئی ساتھی مارے یا قید کیے گئے۔ ان کی جدوجہد کو بنگال میں کسانوں کی مزاحمت اور مسلمانوں کی اصلاحی تحریک کی ایک اہم علامت مانا جاتا ہے۔