تحریکِ مجاہدین کے قائد سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ نے سکھ فوج کے خلاف بالاکوٹ میں جامِ شہادت نوش کیا۔
پشاور سے پیچھے ہٹنے کے بعد سید احمد نے مزید علاقوں میں اپنا مرکز بنانے کی کوشش کی اور کشمیر کی طرف پیش قدمی کا ارادہ کیا۔ مانسہرہ کے علاقے میں بالاکوٹ کے قریب مجاہدین کا قیام تھا جہاں رنجیت سنگھ کے بیٹے شیر سنگھ کی قیادت میں سکھ فوج نے حملہ کیا۔
6 مئی 1831ء کو بالاکوٹ کے قریب شدید معرکہ ہوا جس میں سید احمد اور شاہ اسماعیل دہلوی سمیت بہت سے مجاہدین شہید ہوئے۔ بعض روایات کے مطابق اپنوں کی بے وفائی نے بھی مجاہدین کی صف بندی پر اثر ڈالا۔ شہادت کے بعد سید احمد کے جسد کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔
بالاکوٹ کی شہادت کے باوجود تحریک ختم نہ ہوئی۔ ان کے ساتھی سِتھانہ اور دیگر مراکز سے جدوجہد جاری رکھے رہے، صادق پور (پٹنہ) کے علما اس کا پشت پناہ بنے، اور اس کی روح آگے چل کر 1857ء کی جدوجہد اور دیوبندی روایت میں بھی نمایاں رہی۔