مجاہدین نے پشاور کی وادی میں شرعی نظام قائم کیا، مگر مقامی خانوں کی سازشوں، زکوٰۃ و عشر کے نفاذ پر اختلاف اور غداری کے باعث سید احمد کو پنجتار واپس ہونا پڑا۔
امیر منتخب ہونے کے بعد سید احمد نے سکھ حکومت کے خلاف مہمات جاری رکھیں۔ 1829ء اور 1830ء کے دوران پشاور کے بارکزئی سرداروں (یار محمد خان وغیرہ) کے ساتھ لڑائیاں ہوئیں اور بالآخر پشاور کی وادی پر مجاہدین کا اثر قائم ہو گیا، جہاں انہوں نے مقامی سرداروں کو شرعی نظم کے تحت لانے کی کوشش کی۔
مگر مقامی سرداروں کے لیے عشر کی ادائیگی اور رسموں کی پابندی قبائلی روایات کے خلاف تھی۔ بعض خوانین نے شرارت اور غداری کی؛ بتایا جاتا ہے کہ ایک رات مقامی سرداروں کے اکسانے پر مجاہدین کے کئی مقرر کردہ عمال کو مختلف مقامات پر قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد سید احمد کو پشاور چھوڑ کر پنجتار اور پھر ہزارہ و کشمیر کی سمت جانا پڑا۔
پشاور کا یہ تجربہ تحریک کے لیے سبق آموز رہا: قبائلی معاشرے میں مذہبی و سیاسی نظم قائم کرنا وفا داروں کی کمی اور مقامی مفادات کی وجہ سے آسان نہیں تھا۔ اسی مشکل نے تحریک کے آخری مرحلے یعنی بالاکوٹ کی طرف جانے کے فیصلے پر اثر ڈالا۔