اسی دور میں محدثین نے اسماء الرجال اور علمِ حدیث کی تدوین کا عظیم کام مکمل کیا، جس سے روایات کی صحت جانچنے کا مربوط نظام قائم ہوا۔
صحابہؓ اور تابعینؒ کے بعد جب احادیث کے بارے میں غلط روایات بھی پھیلنے لگیں تو علما نے ان کی جانچ کے لیے 'اسماء الرجال' کا علم وضع کیا، یعنی ہر حدیث بیان کرنے والے راوی کے حالات، عدالت، حافظے اور ملاقات کی تحقیق۔ اس کے ذریعے سند (راویوں کے سلسلے) کو دین کا حصہ سمجھ کر محفوظ کیا گیا۔
دوسری اور تیسری صدی ہجری میں امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ، امام بخاریؒ، امام مسلمؒ، ابو داودؒ، ترمذیؒ، نسائیؒ اور ابن ماجہؒ جیسے ائمہ نے احادیث کے عظیم مجموعے مرتب کیے، جو آج 'صحاحِ ستہ' اور دیگر کتبِ حدیث کی صورت میں معتبر ہیں۔ یحییٰ بن معینؒ اور علی بن المدینیؒ جیسے ناقدین نے راویوں کی جرح و تعدیل کے معیار طے کیے۔
اس علمی نظام کو مستشرقین نے بھی ایک بے مثال روایت قرار دیا ہے کیونکہ اس میں ہزاروں راویوں کے حالات باقاعدہ ضبط کیے گئے۔ یہ سلسلہ آج بھی مدارس اور جامعات میں علمِ حدیث کی بنیاد ہے۔