مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · غلامی و جدوجہدِ آزادی (1757ء – 1947ء)

سید احمد کی امامت پر بیعت

جنوری 1827ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخجنوری 1827ء
دورغلامی و جدوجہدِ آزادی

علما اور سرحدی قبائل کے سرداروں نے سید احمد کو 'امیر المؤمنین' مانتے ہوئے ان کی بیعت کی اور شرعی نظمِ حکومت کی بنیاد رکھی گئی۔

اکوڑہ کی جھڑپ کے بعد سرحدی علاقوں کے علما، خوانین اور عوام نے سید احمد کو اپنا امیر تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ جنوری 1827ء میں پنجتار کے مقام پر بڑے اجتماع میں انہیں 'امیر المؤمنین' یا امام تسلیم کر کے ان کی بیعت کی گئی، اور علما نے فتویٰ دیا کہ جہاد کی قیادت شریعت کے مطابق ایک امام کی ہونی چاہیے۔

بیعت کے بعد شرعی نظم قائم کیا گیا، قاضی مقرر ہوئے، عشر و زکوٰۃ کی وصولی کا نظام بنا اور جہاد کے لیے مالی و انتظامی ڈھانچہ ترتیب دیا گیا۔ سید احمد نے سرداروں اور قبائل کو سنت کی پیروی اور جاہلی رسموں (جیسے بیواؤں کی شادی میں رکاوٹ) کے خاتمے کی تلقین کی۔

یہ ایک منفرد تجربہ تھا کیونکہ انیسویں صدی میں ایک مسلم امام کی قیادت میں شریعت کی بنیاد پر خودمختار اسلامی نظم قائم کرنے کی یہ منظم کوشش تھی۔ مگر مقامی قبائلی مفادات اور روایتی اختلافات آگے چل کر اس نظم کے لیے بڑا چیلنج بنے۔

غلامی و جدوجہدِ آزادیآزادی کی تحریکیں

متعلقہ شخصیات