منگول سلطنت کا مغربی حصہ، جو چنگیز خان کے بیٹے جوچی کی اولاد کے حصے میں آیا اور دشتِ قپچاق (موجودہ جنوبی روس، یوکرین اور قازقستان) پر پھیلا رہا۔ خان اوزبک کے دور میں اسلام ریاست کا مذہب بنا، اور روسی ریاستیں صدیوں تک اسے خراج دیتی رہیں۔
تاریخی تسلسل
- سلطنتِ منگول 1206ء–1368ء
- اردوئے زریں (الوسِ جوچی)
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
جانشین:
عروج کے اسباب
1236ء–1242ء کی مغربی مہمات میں باتو خان نے دشتِ قپچاق اور روسی ریاستیں فتح کیں اور وولگا کے کنارے سرائے کو دارالحکومت بنایا؛ منگول سلطنت کی تقسیم کے بعد یہ عملاً خود مختار ہو گئی۔
زوال کے اسباب
چودہویں صدی کی طاعون کی وبا، جانشینی کی جنگیں اور تیمور کے حملے (1395ء)؛ پندرہویں صدی میں قازان، کریمیا اور آستراخان کی خانیتیں الگ ہو گئیں، 1480ء میں ماسکو نے خراج بند کر دیا اور 1502ء میں کریمیائی خان نے «عظیم اردو» کا خاتمہ کر دیا۔
حکمران (3)
باتو خان
1242ء – 1255ءاردوئے زریں کے بانی؛ مشرقی یورپ کی منگول مہمات کے سالار۔
برکہ خان
1257ء – 1266ءاسلام قبول کرنے والے اولین منگول حکمرانوں میں سے؛ ہلاکو خان کے خلاف مملوکوں سے اتحاد کیا۔
اوزبک خان
1313ء – 1341ءاسلام کو ریاستی مذہب بنایا؛ ان کا دور اردوئے زریں کا عروج تھا۔
ماخذ و وضاحت
1313ء سے پہلے حکمران طبقہ زیادہ تر غیر مسلم تھا؛ اسے مسلم ریاستوں میں اس لیے رکھا گیا ہے کہ اپنے بیشتر دور میں یہ مسلم ریاست رہی۔ یہ دشتِ قپچاق کی ریاست تھی، اس لیے «ایران و وسطی ایشیا» کے خطے میں دکھائی گئی ہے۔
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔