ترکمان قاجار قبیلے کی سلطنت، جس نے تہران کو دارالحکومت بنایا۔ اس دور میں روس اور برطانیہ کے دباؤ میں ایران نے قفقاز کے بڑے علاقے کھوئے، اور 1905ء–1911ء کے آئینی انقلاب سے پہلی پارلیمان (مجلس) قائم ہوئی۔
تاریخی تسلسل
- سلطنتِ منگول 1206ء–1368ء
- سلطنتِ تیموریہ 1370ء–1507ء
- سلطنتِ صفویہ 1501ء–1736ء
- سلطنتِ افشاریہ 1736ء–1796ء
- سلطنتِ زندیہ 1751ء–1794ء
- سلطنتِ قاجاریہ
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
جانشین:
عروج کے اسباب
زند حکمرانوں کے اختلافات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قاجار سردار آغا محمد خان نے شمالی ایران سے آغاز کیا، 1794ء میں لطف علی خان زند کو شکست دی اور 1796ء میں خراسان لے کر پورے ایران کو متحد کیا۔
زوال کے اسباب
روس سے جنگوں میں شکستیں (معاہدۂ گلستان 1813ء، معاہدۂ ترکمانچای 1828ء)، غیر ملکی مراعات اور مالی کمزوری؛ 1921ء میں رضا خان کی بغاوت کے بعد 1925ء میں مجلس نے قاجاروں کو معزول کر دیا۔
حکمران (5)
آغا محمد خان قاجار
1789ء – 1797ءایران کو دوبارہ متحد کیا؛ 1796ء میں تاج پوشی ہوئی۔
فتح علی شاہ
1797ء – 1834ءروس سے دو جنگوں میں قفقاز کے علاقے کھوئے۔
ناصر الدین شاہ
1848ء – 1896ءطویل ترین قاجار دور؛ جدید کاری کی محدود کوششیں اور غیر ملکی مراعات۔
مظفر الدین شاہ
1896ء – 1907ء1906ء میں آئین منظور کیا۔
احمد شاہ قاجار
1909ء – 1925ءآخری قاجار بادشاہ؛ 1925ء میں معزول ہوئے۔
ماخذ و وضاحت
آغاز کا سال 1789ء (آغا محمد خان کا اقتدار) لیا گیا ہے؛ باقاعدہ تاج پوشی 1796ء میں ہوئی۔
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔