مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

ٹرکی میں عیسائیوں کی حالت

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "ٹرکی میں عیسائیوں کی حالت" ایک تاریخی و تجزیاتی تحریر ہے جس کا مقصد یورپ اور ہندوستان دونوں میں پھیلی ہوئی ان غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے جن کے ذریعے عثمانی ترکوں کو ظالم، متعصب اور غیر متمدن قرار دیا جاتا ہے۔ مولانا کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ عثمانی سلطنت نے صدیوں تک غیر مسلم اقلیتوں—خاص طور پر عیسائیوں اور یہودیوں—کو ایسی وسیع مذہبی، سماجی، قانونی اور سیاسی آزادیاں عطا کیں جو دنیا کی کسی دوسری معاصر حکومت میں میسر نہ تھیں۔ یہ کتاب اصل میں یورپی عوام کے لیے لکھی گئی تھی، کیونکہ انہیں ارمینیوں، یونانیوں اور یورپی سیاستدانوں کے ذریعہ ترکوں کے خلاف جھوٹی کہانیوں، ناولوں، رسالوں، اخباروں اور تقریروں کے ذریعہ متاثر کیا گیا تھا۔ مترجم نے اس کا اردو ترجمہ اس لیے ضروری سمجھا کہ ہندوستان میں بھی بعض لوگ ترکوں کے خلاف ایسی ہی غلط معلومات پھیلاتے ہیں، جس سے کمزور طبیعت والے لوگ متاثر ہو کر ترکوں کے مخالف ہو جاتے ہیں، جبکہ مضبوط طبیعت والے حقیقت نہ جاننے کی وجہ سے خاموش یا مذبذب رہتے ہیں۔

کتاب کا آغاز "دیباچہ" سے ہوتا ہے، جہاں مترجم اس ترجمہ کے مقاصد واضح کرتے ہیں، خاص طور پر یہ کہ ہندوستان میں برطانوی حکومت جو خود کو "علمدار حق و انصاف" کہلاتی ہے، مسلمانوں کو ان کے مذہبی معاملات میں خودمختاری دینے سے انکار کرتی ہے، جبکہ ترکوں کی وہ حکومت جسے یورپ "تاریک" اور "جابرانہ" قرار دیتا ہے، درحقیقت غیر مسلموں کو صدیوں سے یہ حق دیتی رہی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

۲- دستوری حقوق

مشرق میں مذہبیت اور قومیت ایک ہی سے شے کا نام ہے گزشتہ صفحات میں ان مراعات و حقوق کی جو ترکی میں عیسائیوں کو حاصل ہیں تاریخ بیان کی جا چکی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے جو حقوق مذہبیت کے رنگ میں گریک اور ارمنین چرچ کو عطا کئے گئے تھے، رفتہ رفتہ انہوں نے قومیت کا رنگ اختیار کر لیا تنظیمات نے سلطنت کی مختلف اقوام کو جو حقوق عطا کئے تھے ان سے فائدہ اٹھا کر ہر قوم نے اپنے مذہب، اپنی روایات اور اپنے رسم و رواج کے مطابق اپنے اندرونی معاملات کے لئے قوانین بنا لئے اور ۱۸۶۳ء میں یہودیوں، ارمنوں اور یونانیوں نے اپنے اپنے قومی قوانین باب عالی کے سامنے پیش کر کے انکی منظوری حاصل کر لی جو گویا دستوری فرمان کا حکم رکھتی تھی۔

ہر بطریق یا ربی اپنی قوم کا نمائندہ ہے۔ حکومت کو جب کسی جماعت سے کسی مسئلہ پر گفتگو کرنی ہوتی ہے تو وہ براہ راست نہیں کرتی بلکہ اس کے مذہبی سردار سے کرتی ہے۔ صرف عام مسائل ہی تک یہ قاعدہ محدود نہیں ہے بلکہ خاص خاص مسائل میں بھی وہ یہی کرتی ہے، اسی طرح جب کسی جماعت کو حکومت سے گفتگو کی ضرورت ہوتی ہے تو اس کا مذہبی سردار باب عالی کے نام مراسلات اور یادداشتیں اسطرح بھیجتا ہے جیسے وہ بھی غیر ملکی سفرا میں سے ایک ہے۔ اس طرح حکومت کے تعلقات اپنے عیسائی رعایا سے براہ راست نہیں ہیں بلکہ ایک حد تک بالواسطہ ہیں۔ [ترکی اور تنظیمات صفحہ ۲۴۰]

یونانی بطریقیت میں دو مجلسیں کام کرتی ہیں ایک مجلس مقدس اور دوسری مجلس قومی، مجلس مقدس کا ذکر مذہبی حقوق کے تحت میں مذکور ہو چکا ہے مجلس قومی میں ۱۲ ارکان ہوتے ہیں اور وہ قوم کے مالیات، مدارس، پنچایتوں اور دوسرے اندرونی معاملات کی نگرانی کرتی ہے، ان دونوں مجالس پر ایک مجلس ہے جس میں ان دونوں مجالس کے منتخب کردہ ارکان کے علاوہ بطریقیت کے خاص خاص افسر پارلیمنٹ کے یونانی ممبر اور مختلف فرقوں کے نمائندے شامل ہوتے ہیں، یہ مجلس عام قوم کے تمام مسائل پر بحث کرتی ہے اور تمام اندرونی معاملات طے کرتی ہے، ان تمام مجالس کا صدر بطریق ہوتا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ اپنی قوم کے لئے وہ سلطان کی نیابت کرتا ہے، تو کوئی مبالغہ نہیں ہے۔

یونانی بطریق جتنا جتنا قوی ہوتا جاتا ہے اسی قدر وہ سیاسی مقاصد اور خفیہ سازشوں میں حکومت یونان کے لئے ایک قوی آلہ بنتا جاتا ہے، حالانکہ ترکوں کی شرافت کا یہ حال ہے کہ اس کی تمام حرکات سے واقف ہو جانے کے باوجود اپنے عہد و مواثیق اور اپنے قوانین کا پاس کر کے درگذر کرتے ہیں، التوائے جنگ کے بعد سے تو بطریق قسطنطنیہ میں علانیہ عالمگیر یونانیت کی تبلیغ کر رہا ہے، اس کی حرکات اگرچہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں مگر ہم اپنی رائے دینے سے اس جگہ احتراز کرتے ہیں، اور اس موقع پر وائیکاونٹ ڈی لاجنک کے الفاظ نقل کرتے ہیں۔

”یونانی بطریق اگرچہ بظاہر دولت عثمانیہ کی وفاداری کا دم بھرتا ہے مگر یونان کی آزادی کے بعد سے اس میں سخت غداری پیدا ہو گئی ہے اور وہ ”میگالی آئیڈیا“ کے حامیوں میں سے ہو گیا ہے، جس کی بنیاد عالمگیر یونانیت کے خواب پریشان پر ہے [تاریخ دولت عثمانیہ (فرنج) صفحہ ۷۰۰]

ارمن بطریقیت میں بھی دو مجلسیں ہیں، ایک مجلس مذہبی اور دوسری مجلس قومی دونوں میں چودہ چودہ ممبر ہوتے ہیں، پہلی کا تعلق صرف مذہبی مسائل سے ہے اور دوسری ارمنی قوم کے تمام اندرونی معاملات کی نگرانی کرتی ہے، ٹیکس عائد کرنا اور ان کے خرچ کا انتظام کرنا، پنچایتوں کی نگرانی کرنا اور ارمن قوم کے مفاد و مصالح کی حفاظت اس کے فرائض میں سے ہے، ۱۸۶۳ء میں ارمنوں کے قومی دستور کی جسکو وہ ”سہمنا ور دسیوں“ کہتے ہیں، باب عالی نے منظوری دی تھی، اس دستور کے مطابق ترکی کی تمام ارمن آبادی ارمنی بطریق کے ماتحت آ گئی اور اس کے ماتحت ایک مجلس عام مقرر کی گئی جس میں ۱۴۰ ممبر ہوتے ہیں، ان ۱۴۰ ممبروں میں ۱۲۰ انتخاب عام سے چنے جاتے ہیں اور باقی چرچ کی جانب سے نمائندگی کرتے ہیں۔ انتخاب ہر دو سال کے بعد ہوتا ہے، ارمنوں کے تمام مدارس، معابد، شفاخانے اور تمام قومی معاملات اس مجلس عام کے ماتحت ہیں اور مذکورۃ الصدر دو مجلسیں مذہبی و دنیاوی شعبوں میں اس کے ماتحت بطور مجالس عاملہ کے کام کرتی ہیں۔

یہ ہے اس اندرونی خود مختاری کا نظام جو ترکی کی مظلوم ”اقلیتوں کو حاصل ہے۔“