مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تنقیحات

اشاعت: 1939ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مولانا مودودی کے ان مختصر مضامین کا مجموعہ ہے جو انہوں نے اسلام اور مغربی تہذیب کے تصادم سے پیدا ہونے والے مسائل پر مختلف اوقات میں تحریر کیے۔ ناشر کے بقول اس مجموعے کو ایک مسلسل و مربوط کتاب کی حیثیت حاصل نہیں، ہر مضمون بجائے خود مستقل ہے، البتہ مقصدی اعتبار سے ان میں گہرا ربط پایا جاتا ہے۔

کتاب میں شامل مضامین میں ذہنی و سیاسی غلامی کے اسباب، ہندوستان میں اسلامی تہذیب کے انحطاط کے عوامل، دورِ جدید کی اقوام کی اخلاقی و تمدنی بیماریوں، انسانی اور الٰہی قانون کا موازنہ (امریکہ کے قانونِ تحریمِ خمر کی منسوخی کی مثال سے)، اور مغربی تہذیب کے اندرونی زوال جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے ہیں، جن کا مشترک مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ مغربی تہذیب کی مادہ پرستانہ بنیادیں بالآخر خود اسی کی تباہی کا سبب بنتی ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"تنقیحات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے مضامین کا ایک اور مجموعہ ہے، کوئی ایک مسلسل دلیل پر مبنی تصنیف نہیں، جس میں ایسی تحریریں جمع کی گئی ہیں جو ان کے ابتدائی سے وسطی دورِ حیات کی معلوم ہوتی ہیں۔ اس کا وحدانی موضوع تشخیصی ہے: مسلم ہندوستان کے فکری و تہذیبی زوال کی وجہ کیا ہے، اور حقیقی اصلاح کے لیے کیا درکار ہے۔

اس کے مضامین "ہماری ذہنی غلامی" کو بنیادی مسئلے کے طور پر نامزد کرتے ہوئے شروع ہوتے ہیں، اور ہندوستان میں اسلامی تہذیب کے زوال کا سراغ لگاتے ہیں؛ یہ دلیل دیتے ہیں کہ مغربی تہذیب (جسے مولانا ایک مضمون میں تہذیبی "خودکشی" کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں) کامیاب جدیدیت کا نمونہ نہیں، بطور ثبوت لارڈ لوتھین کے خطبے اور ترکی میں مشرق و مغرب کی کشمکش کا حوالہ دیتے ہوئے؛ "عقلیت کے فریب" اور "تجدد کے پائے چوبیں" پر حملہ کرتے ہیں؛ اور بعد کے مضامین تعمیری رخ اختیار کرتے ہیں، ملی تعمیرِ نو کے صحیح طریقے، "مسلمان" کے حقیقی مفہوم (اقبال کے فقرے سے مستعار عنوان)، اور تعلیمی پالیسی پر مبنی ہیں۔

اہمیت اور اسے کیسے پڑھا جائے۔ اسے اپنے دور کی تحریروں کے ایک موضوعاتی مجموعے کے طور پر پڑھنا بہتر ہے، جو جنگوں کے درمیانی دور کے مخصوص حوالہ جات سے مکالمہ کرتا ہے۔ اس کی تشخیص — کہ مسلم زوال مغرب پر فکری انحصار سے پیدا ہوتا ہے — بیسویں صدی کی اسلام پسند فکر میں بار بار آنے والا موضوع ہے، اور مطالعاتی حلقہ مولانا اقبال جیسے معاصرین سے اس کا موازنہ کر سکتا ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. فکری انحصار کا نظریہ: اس تشخیص کا مقابلہ کون سی دیگر توضیحات کرتی ہیں؟
  2. تجدد کا "پائے چوبیں": کیا یہ ایک منصفانہ تشخیص ہے یا ایک مسترد کنندہ رویہ؟
  3. تقابلی تہذیبی تنقید: ایک قاری کو ایک دور کے مخصوص شواہد پر بنی دلیل کو دہائیوں بعد کیسے جانچنا چاہیے؟
  4. بطور کیس اسٹڈی ترکی: کمالسٹ ترکی کا تجربہ ریاستی زیرِ قیادت سیکولرائزنگ اصلاح کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  5. اصلاح کے مقام کے طور پر تعلیم: تعلیم کو فیصلہ کن لیور کیوں سمجھا جا سکتا ہے؟
  6. اقبال سے استعارہ: یہ مولانا مودودی اور اقبال کے فکری تعلق کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  7. صنف اور دور: مطالعاتی حلقے کو اب بھی متعلقہ بصیرت کو دور کے مخصوص دلائل سے کیسے ممیز کرنا چاہیے؟
  8. تشخیصوں کا موازنہ: اس کا بیان "اسلامی تہذیب" کے الہیاتی بیان سے کیسے موازنہ رکھتا ہے؟

دورِ جدید کی بیمار قومیں

مشرق ہو یا مغرب‘ مسلمان ہو یا غیر مسلم‘ بلا اِستثنا(بغیر کسی کو الگ کیے) سب ایک ہی مصیبت میں گرفتار ہیں‘ اور وہ یہ ہے کہ ان پر ایک تہذیب مسلط ہوگئی ہے جس نے سراسر مادیت کے آغوش میں پرورش پائی ہے۔ اس کی حکمت نظری و حکمت عملی‘ دونوں کی عمارت غلط بنیادوں پر اٹھائی گئی ہے۔ اس کا فلسفہ‘ اس کا سائنس‘ اس کا اخلاق‘ اس کی معاشرت‘ اس کی سیاست‘ اس کا قانون‘ غرض اس کی ہر چیز ایک غلط نقطۂ آغاز سے چل کر ایک غلط رُخ پر ترقی کرتی چلی گئی ہے اور اب اس مرحلے پر پہنچ گئی ہے جہاں سے ہلاکت کی آخری منزل قریب نظر آرہی ہے۔

اس تہذیب کا آغاز ایسے لوگوں میں ہوا جن کے پاس درحقیقت حکمت الٰہی کا کوئی صاف اور پاکیزہ سرچشمہ نہ تھا۔ مذہب کے پیشوا(امام) وہاں ضرور موجود تھے‘ مگر ان کے پاس حکمت نہ تھی‘ ان کے پاس علم نہ تھا‘ ان کے پاس خدا کا قانون نہ تھا۔ محض ایک غلط مذہبی تخیل تھا جو فکر و عمل کی راہوں میں نوعِ انسانی کو سیدھے راستے پر اگر چلانا چاہتا بھی تو نہ چلا سکتا تھا۔ وہ بس اتنا ہی کر سکتا تھا کہ علم و حکمت کی ترقی میں سدِراہ(روک، مزاحم) بن جاتا۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور اس مزاحمت کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو لوگ ترقی کرنا چاہتے تھے وہ مذہب اور مذہبیت کو ٹھوکر مار کر ایک دوسرے راستے پر چل پڑے جس میں مشاہدے‘ تجربے اور قیاس و استقرا کے سوا کوئی اور چیز ان کی رہنما نہ تھی۔ یہی ناقابل اعتماد رہنما‘ جو خود ہدایت اور نور کے محتاج ہیں‘ ان کے معتمد علیہ(جس پر اعتبارکیا جائے) بن گئے۔ ان کی مدد سے انھوں نے فکر و نظر‘ تحقیق و اکتشاف‘ اور تعمیر و تنظیم کی راہ میں بہت کچھ جدوجہد کی مگر ان کو ہر میدان میں ایک غلط نقطۂ آغاز نصیب ہوا، اور ان کی تمام ترقیات کا رُخ ایک غلط منزلِ مقصود کی طرف پھر گیا۔ وہ الحاد اور مادیت کے نقطے سے چلے۔ انھوں نے کائنات کو اس نظر سے دیکھا کہ اس کا کوئی خدا نہیں ہے۔ آفاق(دنیا) اور انفس(روحیں، دل) میں یہ سمجھ کر نظر کی(توجہ کی ) کہ حقیقت جو کچھ بھی ہے مشاہدات اور محسوسات کی ہے اور اس ظاہری پردے کے پیچھے کچھ بھی نہیں۔ تجربے اور قیاس سے انھوں نے قانون فطرت کو جانا اور سمجھا‘ مگر اس کے فاطر(پیدا کرنے والا، خالق) تک نہ پہنچ سکے۔ انھوں نے موجودات کو مسخر پایا اور ان سے کام لینا شروع کیا مگر اس تخیل سے ان کے ذہن خالی تھے کہ وہ بالاصل ان اشیاء کے مالک اور حاکم نہیں ہیں بلکہ اصلی مالک کے خلیفہ(نائب) ہیں۔ اس جہالت و غفلت نے انھیں ذمہ داری اور جواب دہی کے بنیادی تصور سے بیگانہ(غیر، اجنبی) کر دیا، اور اس کی وجہ سے ان کی تہذیب اور ان کے تمدن کی اساس ہی غلط ہو گئی۔ وہ خدا کو چھوڑ کر خودی کے پرستار بن گئے‘ اور خودی نے خدا بن کر ان کو فتنے میں ڈال دیا۔ اب یہ اسی جھوٹے خدا کی بندگی ہے جو فکر و عمل کے ہر میدان میں ان کو ایسے راستوں پر لیے جارہی ہے جن کی درمیانی منزلیں تو نہایت خوش آئند(خوش گوار، خوش کن) اور نظر فریب ہیں مگر آخری منزل بجز ہلاکت کے اور کوئی نہیں۔ وہی ہے جس نے سائنس کو انسان کی تباہی کا آلہ بنایا۔ اخلاق کو نفسانیت‘ ریا‘ خلاعت(ناقربانی ) اور بے قیدی کے سانچوں میں ڈھال دیا۔ معیشت پر خود غرضی اور برادر کشی کا شیطان مسلط کر دیا۔ معاشرت کی رگ رگ اور ریشے ریشے میں نفس پرستی‘ تن آسانی اور خود کامی(خود غرضی) کا زہر اتار دیا۔ سیاست کو قوم پرستی و وطنیت‘ رنگ و نسل کے امتیازات‘ اور خداوند طاقت کی پرستاری سے آلودہ کرکے انسانیت کے لیے ایک بدترین لعنت بنا دیا۔ غرض یہ کہ وہ تخم خبیث(بد ذات بیج ) جو مغرب کی نشاۃ ثانیہ(نئی زندگی رینیسا کا دور) کے زمانے میں بویا گیا تھا چند صدیوں کے اندر تمدن و تہذیب کا ایک عظیم الشان شجر خبیث بن کر اٹھا ہے جس کے پھل میٹھے مگر زہر آلود ہیں‘ جس کے پھول خوش نما مگر خار دار ہیں‘ جس کی شاخیں بہار کا منظر پیش کرتی ہیں مگر ایسی زہریلی ہوا اگل رہی ہیں جو نظر نہیں آتی اور اندر ہی اندر نوعِ بشری کے خون کو مسموم(زہریلا) کیے جارہی ہے۔

اہل مغرب جنھوں نے اس شجر خبیث کو اپنے ہاتھوں سے لگایا تھا‘ اب خود اس سے بیزار ہیں۔ اس نے زندگی کے ہر شعبے میں ایسی الجھنیں اور پریشانیاں پیدا کر دی ہیں جن کو حل کرنے کی ہر کوشش بہت سی الجھنیں پیدا کر دیتی ہے۔ جس شاخ کو کاٹتے ہیں اس کی جگہ بہت سی خاردار شاخیں نکل آتی ہیں۔ سرمایہ داری پر تیشہ چلایا تو اشتراکیت نمودار ہوگئی۔ جمہوریت پر ضرب لگائی تو ڈکٹیٹر شپ پھوٹ نکلی۔ اجتماعی مشکلات کو حل کرنا چاہا تو نسوانیت (feminism) اور برتھ کنٹرول کا ظہور ہوا۔ اخلاقی مفاسد کا علاج کرنے کے لیے قوانین سے کام لینے کی کوشش کی تو قانون شکنی اور جرائم پیشگی نے سر اٹھایا(سراونچا کیا، ظاہراور نمایاں کیا )۔ غرض فساد کا ایک لامتناہی(جس کی انتہا نہیں نہ ختم ہونے والا ) سلسلہ ہے جو تہذیب و تمدن کے بداصل درخت سے نکل رہا ہے اور اس نے مغربی زندگی کو از سر تا پا مصائب وآلام(مصیبتوں کا ) کا ایک پھوڑا بنادیا ہے جس کی ہر رگ میں ٹیس(درد) اور ہر ریشے میں دُکھن(تکلیف) ہے۔ مغربی قومیں درد سے بے تاب ہو رہی ہیں۔ ان کے دل بے قرار ہیں۔ان کی روحیں کسی امرت رس(آب حیات ) کے لیے تڑپ رہی ہیں، مگر انھیں خبر نہیں کہ امرت رس کہاں ہے۔ ان کی اکثریت ابھی تک اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ مصائب کا سرچشمہ اس شجرِ خبیث کی محض شاخوں میں ہے اس لیے وہ شاخیں کاٹنے میں اپنا وقت اور اپنی محنتیں ضائع کر رہی ہے مگر نہیں سمجھتی کہ خرابی جو کچھ بھی ہے اس درخت کی جڑ میں ہے اور اصل فاسد سے فرع صالح نکلنے کی امید رکھنا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ دوسری طرف ایک قلیل جماعت ایسے صحیح العقل لوگوں کی بھی ہے جنھوں نے اس حقیقت کو پالیا ہے کہ ان کے شجرِ تہذیب کی جڑ خراب ہے مگر چونکہ وہ صدیوں تک اسی درخت کے سائے میں پرورش پاتے رہے ہیں اور اسی کے ثمرات سے ان کی ہڈی بوٹی بنی ہے‘ اس لیے ان کے ذہن یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس اصل کے بجائے کون سی دوسری اصل ایسی ہوسکتی ہے جو صالح برگ و بار(پتے اور پھل) لانے کی قوت رکھتی ہو۔ نتیجے میں دونوں جماعتوں کا حال ایک ہی ہے۔ وہ سب کے سب بے تابی کے ساتھ کسی چیز کے طالب ہیں جو اُن کے درد کا درماں(علاج) کرے‘ مگر انھیں خبر نہیں ہے کہ ان کا مطلوب کیا اور کہاں ہے۔

یہ وقت ہے کہ مغربی قوموں کے سامنے قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو پیش کیا جائے اور انھیں بتایا جائے کہ یہ ہے وہ مطلوب جس کی طلب میں تمھاری روحیں بے قرار ہیں‘ یہ ہے وہ امرت رس جس کے تم پیاسے ہو‘ یہ ہے وہ شجر طیب جس کی اصل بھی صالح ہے اور شاخیں بھی صالح‘ جس کے پھول خوش بودار بھی ہیں اور بے خار بھی‘ جس کے پھل میٹھے بھی ہیں اور جاں بخش بھی‘ جس کی ہوا لطیف بھی ہے اور روح پرور بھی۔ یہاں تم کو خالص حکمت عملی ملے گی‘ یہاں تم کو فکر و نظر کے لیے ایک صحیح نقطۂ آغاز ملے گا‘ یہاں تم کو وہ علم ملے گا جو انسانی سیرت کی بہترین تشکیل کرتا ہے‘ یہاں تم کو وہ روحانیت ملے گی جو راہبوں(تارک الدنیا) اور سنیاسیوں(فقیر، جوگی) کے لیے نہیں بلکہ کار زار(مقابلہ یا جنگ) دنیا میں جدوجہد کرنے والوں کے لیے سکونِ قلب اور جمعیت خاطر کا سرچشمہ ہے‘ یہاں تم کواخلاق اور قانون کے وہ بلند اور پائدار قواعد ملیں گے جو انسانی فطرت کے علم جامع پر مبنی ہیں اور خواہشات نفس کے اتباع(اطاعت، پیروی، تقلید) میں بدل نہیں سکتے‘ یہاں تم کو تہذیب و تمدن کے وہ صحیح اصول ملیں گے جو طبقات کے جعلی امتیازات اور اقوام کی مصنوعی تفریقوں کو مٹا کر خالص عقلی بنیادوں پر انسانی جمعیت کی تنظیم کرتے ہیں اور عدل‘ مساوات‘ فیاضی اور حُسنِ معاملت کی ایسی پُر امن اور مناسب فضا پیدا کر دیتے ہیں جس میں افراد اور طبقات اور فرقوں کے درمیان حقوق کی کش مکش اور مفاد و مصالح کے تصادم اور اغراض و مقاصد کی جنگ کے لیے کوئی موقع باقی نہیں رہتا بلکہ سب کے سب باہمی تعاون کے ساتھ شخصی و اجتماعی فلاح کے لیے خوش دلی اور اطمینان کے ساتھ عمل کرسکتے ہیں۔ اگر تم ہلاکت سے بچنا چاہو تو قبل اس کے کہ تمھاری تہذیب ہول ناک صدمے سے پاش پاش ہو کر تاریخ کی برباد شدہ تہذیبوں میں ایک اور مٹی ہوئی تہذیب کا اضافہ کرے، تم کو چاہیے کہ اسلام کے خلاف ان تمام تعصبات کوجو تمھیں قرونِ وسطیٰ کے مذہبی دیوانوں سے وراثت میں ملے ہیں اور جن کو تم نے اس تاریک دور کی تمام دوسری چیزوں سے قطع تعلق کرنے کے باوجود ابھی تک نہیں چھوڑا ہے‘ اپنے دلوں سے نکال ڈالو اور کھلے دل کے ساتھ قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو سنو‘ سمجھو اور قبول کرو۔

مسلمان قوموں کا حال مغربی قوموں کے حال سے مختلف ہے۔ مرض اور ہے‘ اسبابِ مرض بھی دوسرے ہیں‘ مگر علاج ان کا بھی وہی ہے جو اہل مغرب کا ہے۔ یعنی اس علم و ہدایت کی طرف رجوع جس کو اللہ نے اپنی آخری کتاب اور اپنے آخری نبی کے ذریعے سے بھیجا ہے۔

اسلام کے ساتھ مغربی تہذیب کا تصادم جن حالات میں پیش آیا وہ ان حالات سے بالکل مختلف ہیں جن میں اس سے پہلے اسلام اور دوسری تہذیبوں کے درمیان تصادم ہوئے ہیں۔ رومی‘ فارسی‘ ہندی اور چینی تہذیبیں اس وقت اسلام سے ٹکرائیں جب اسلام اپنے متبعین کی فکری و عملی قوتوں پر پورے زور کے ساتھ حکمران تھا۔ جہاد اور اجتہاد کی زبردست روح ان کے اندر کار فرما تھی‘ روحانی اور مادی دونوں حیثیتوں سے وہ دنیا میں ایک غالب قوم تھے اور تمام اقوام عالم کی پیشوائی کا منصب ان کو حاصل تھا۔ اس وقت کوئی تہذیب ان کی تہذیب کے مقابلے میں نہ ٹھہرسکی۔ انھوں نے جس طرف رُخ کیا‘ قوموں کے خیالات‘ نظریات‘ علوم‘ اخلاق و عادات اور طرز تمدن میں انقلاب پیدا کر دیا۔ ان میں تأثر کی قابلیت کم اور تاثیر کی قوت بہت زیادہ تھی۔ بلاشبہ انھوں نے دوسروں سے بہت کچھ لیا‘ مگر ان کی تہذیب کا مزاج اس قدر طاقت ور اور مضبوط تھا کہ باہر سے جو چیز بھی اس میں آئی وہ اس کی طبیعت کے مطابق ڈھل گئی اور کسی بیرونی اثر سے اس میں سوئے مزاج مختلف پیدا نہ ہو سکا۔ بخلاف اس کے انھوں نے جو اثرات دوسروں پر ڈالے وہ انقلاب انگیز ثابت ہوئے۔ بعض غیر مسلم تہذیبیں تو اسلام میں جذب ہو کر اپنی انفرادیت ہی کھوبیٹھیں‘ اور بعض جن میں زندگی کی طاقت زیادہ تھی وہ اسلام سے اس قدر متاثر ہوئیں کہ ان کے اصول میں بہت کچھ تغیر واقع ہوگیا، مگر یہ قصہ ہے جب کا کہ آتش جواں تھا۔

مسلمان صدیوں تک قلم اور تلوار کے ساتھ فرماں روائی کرتے کرتے آخر کار تھک گئے۔ ان کی روح جہاد سرد پڑ گئی۔ قوتِ اجتہاد شل(تھک جانا) ہوگئی۔ جس کتاب نے ان کو علم کی روشنی اور عمل کی طاقت بخشی تھی اس کو انھوں نے محض ایک متبرک یادگار بنا کرغلافوں میں لپیٹ دیا۔ جس ہادی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نے ان کی تہذیب کو ایک مکمل فکری و عملی نظام کی صورت بخشی تھی اس کی پیروی کو انھوں نے چھوڑ دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی ترقی کی رفتار رک گی۔ بہتا ہوا دریا یکایک جمود(جم جانا، کام رک جانا) کی وادی میں ٹھہر کر تالاب بن گیا۔ امامت کے منصب سے مسلمان معزول ہوئے۔ دنیا کی قوموں پر ان کے افکار‘ ان کے علوم‘ ان کے تمدن اور ان کے سیاسی اقتدار نے جو قابو پالیا تھا‘ ان کی گرفت ڈھیلی ہوگئی۔ پھر اسلام کے بالمقابل ایک دوسری تہذیب نے جنم لیا۔ جہاد اور اجتہاد کا جھنڈا جس کو مسلمانوں نے پھینک دیا تھا‘ مغربی قوموں نے اٹھا لیا۔ مسلمان سوتے رہے اور اہل مغرب اس جھنڈے کو لے کر علم و عمل کے میدان میں آگے بڑھے‘ یہاں تک کہ امامت کا منصب جس سے یہ معزول ہوچکے تھے ان کو مل گیا۔ ان کی تلوار نے دنیا کے سوادِ اعظم کو فتح کیا۔ ان کے افکار و نظریات‘ علوم و فنون اور اصول تہذیب و تمدن دنیا پر چھا گئے‘ ان کی فرماںروائی نے صرف اجسام ہی کا نہیں‘ دلوں اور دماغوں کا بھی احاطہ کرلیا۔ آخر صدیوں کی نیند سے جب مسلمانوں کی آنکھیں کھلیں تو انھوں نے دیکھا کہ میدان ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ دوسرے اس پر قابض ہو چکے ہیں۔ اب علم ہے تو ان کا ہے‘ تہذیب ہے تو ان کی ہے‘ قانون ہے تو ان کا ہے‘ حکومت ہے تو ان کی ہے‘ مسلمانوں کے پاس کچھ بھی نہیں۔

ع اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے

اب اسلام اور مغربی تہذیب کا تصادم ایک دوسرے ڈھنگ پر ہو رہا ہے۔ یقیناً مغربی تہذیب کسی حیثیت سے بھی اسلام کے مقابلے کی تہذیب نہیں۔ اگر تصادم اسلام سے ہو تو دنیا کی کوئی قوت اس کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکتی، مگر اسلام ہے کہاں؟ مسلمانوں میں نہ اسلامی سیرت ہے‘ نہ اسلامی اخلاق‘ نہ اسلامی افکار ہیں نہ اسلامی جذبہ۔ حقیقی اسلامی روح نہ ان کی مسجدوں میں ہے نہ مدرسوں میں‘ نہ خانقاہوں میں۔ عملی زندگی سے اسلام کا ربط باقی نہیں رہا۔ اسلام کا قانون نہ ان کی شخصی زندگی میں نافذ ہے نہ اجتماعی زندگی میں۔ تمدن و تہذیب کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کا نظم صحیح اسلامی طرز پر باقی ہو۔ ایسی حالت میں دراصل مقابلہ اسلام اور مغربی تہذیب کا نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی افسردہ‘ جامد(جما ہوا، ٹھوس، بے حس و حرکت) اور پس ماندہ تہذیب کا مقابلہ ایک ایسی تہذیب سے ہے جس میں زندگی ہے‘ حرکت ہے‘ روشنیِ علم ہے‘ گرمیِ عمل ہے۔ ایسے نامساوی مقابلے کا جو نتیجہ ہوسکتا ہے وہی ظاہر ہو رہا ہے۔ مسلمان پسپا ہو رہے ہیں۔ ان کی تہذیب شکست کھا رہی ہے۔ وہ آہستہ آہستہ مغربی تہذیب میں جذب ہوتے چلے جارہے ہیں۔ ان کے دلوں اور دماغوں پر مغربیت مسلط ہو رہی ہے۔ ان کے ذہن مغربی سانچوں میں ڈھل رہے ہیں‘ ان کی فکری و نظری قوتیں مغربی اصولوں کے مطابق تربیت پارہی ہیں۔ ان کے تصورات‘ ان کے اخلاق‘ ان کی معیشت‘ ان کی معاشرت‘ ان کی سیاست‘ ہر چیز مغربی رنگ میں رنگی جارہی ہے۔ ان کی نئی نسلیں اس تخیل کے ساتھ اٹھ رہی ہیں کہ زندگی کا حقیقی قانون وہی ہے جو مغرب سے ان کو مل رہا ہے۔ یہ شکست دراصل مسلمانوں کی شکست ہے مگر بدقسمتی سے اس کو اسلام کی شکست سمجھا جاتا ہے۔

ایک ملک نہیں جو اس مصیبت میں گرفتار ہو۔ ایک قوم نہیں جو اس خطرے میں مبتلا ہو۔ آج تمام دنیائے اسلام اسی خوف ناک انقلاب کے دور سے گزر رہی ہے۔ درحقیقت یہ علما کاکام تھا کہ جب اس انقلاب کی ابتدا ہو رہی تھی اس وقت وہ بیدارہوتے‘ آنے والی تہذیب کے اصول و مبادی کو سمجھتے‘ مغربی ممالک کا سفر کرکے ان علوم کا مطالعہ کرتے جن کی بنیاد پر یہ تہذیب اٹھی ہے۔ اجتہاد کی قوت سے کام لے کر ان کار آمدعلمی اکتشافات(تحقیق) اور عملی طریقوں کو اخذ کرلیتے جن کے بل پر مغربی قوموں نے ترقی کی ہے اور ان نئے کل پرزوں کو اصولِ اسلام کے ماتحت مسلمانوں کے تعلیمی نظام اور ان کی تمدنی زندگی کی مشین میں اس طرح نصب کر دیتے کہ صدیوں کے جمود سے جو نقصان پہنچا تھا اس کی تلافی ہو جاتی اور اسلام کی گاڑی پھر سے زمانے کی رفتار کے ساتھ چلنے لگتی، مگرافسوس کہ علما (اِلاَّ مَاشَائَ اللہ)خود اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہو چکے تھے۔ ان میں اجتہاد کی قوت نہ تھی‘ ان میں تفقہ نہ تھا‘ ان میں حکمت نہ تھی‘ ان میں عمل کی طاقت نہ تھی‘ ان میں یہ صلاحیت ہی نہ تھی کہ خدا کی کتاب اور رسولؐ خدا کی علمی و عملی ہدایت سے اسلام کے دائمی اور لچک دار اصول اخذ کرتے اور زمانے کے متغیر حالات میں ان سے کام لیتے۔ ان پر تو اسلاف کی اندھی اور جامد تقلید کا مرض پوری طرح مسلط ہو چکا تھا جس کی وجہ سے وہ ہر چیز کو ان کتابوں میں تلاش کرتے تھے جو خدا کی کتابیں نہ تھیں کہ زمانے کی قیود(شکنجہ، بندش، روک) سے بالاتر ہوتیں۔ وہ ہر معاملے میں ان انسانوں کی طرف رجوع کرتے تھے جو خدا کے نبی نہ تھے کہ ان کی بصیرت اوقات اور حالات کی بندشوں سے بالکل آزاد ہوتی۔ پھر یہ کیوں کر ممکن تھا کہ وہ ایسے وقت میں مسلمانوں کی کامیاب رہنمائی کرسکتے جب کہ زمانہ بالکل بدل چکا تھا اور علم و عمل کی دنیا میں ایسا عظیم تغیر واقع ہو چکا تھا جس کو خدا کی نظر تو دیکھ سکتی تھی‘ مگر کسی غیر نبی انسان کی نظر میں یہ طاقت نہ تھی کہ قرنوں(بڑی مدت، زمانہ دراز) اورصدیوں کے پردے اٹھا کر ان تک پہنچ سکتی۔ اس میں شک نہیں کہ علما نے نئی تہذیب کا مقابلہ کرنے کی کوشش ضرور کی‘ مگر مقابلے کے لیے جس سرو سامان کی ضرورت تھی وہ اُن کے پاس نہ تھا۔ حرکت کا مقابلہ جمود سے نہیں ہوسکتا۔ رفتارِ زمانہ کو منطق کے زور سے نہیں بدلا جاسکتا۔ نئے اسلحے کے سامنے فرسودہ(پرانا، خستہ حال ) اور زنگ آلود ہتھیار کام نہیں دے سکتے۔

علما نے جن طریقوں سے امت کی رہنمائی کرنی چاہی ان کا کامیاب ہونا کسی طرح ممکن ہی نہ تھا۔ جو قوم مغربی تہذیب کے طوفان میں گھِر چکی تھی وہ آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر اور حواس کو معطل کرکے کب تک طوفان کے وجود سے انکار کرتی اور اس کے اثرات سے محفوظ رہتی؟ جس قوم پر تمدن و تہذیب کا جدید نظام سیاسی طاقت کے ساتھ محیط ہو چکا تھا وہ اپنی عملی زندگی کو مغلوبی و محکومی کی حالت میں اس کے نفوذ و اثر سے کس طرح بچا سکتی تھی؟ آخر کار وہی ہوا جو ایسے حالات میں ہونا چاہیے تھا۔ سیاست کے میدان میں شکست کھانے کے بعد مسلمانوں نے علم اور تہذیب و تمدن کے میدان میں بھی شکست کھائی اور اب ہماری آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ دنیائے اسلام کے ہر خطے میں مغربیت کا طوفان بلا کی تیزی سے بڑھتا چلا آرہا ہے جس کی رَو میں بہتے بہتے مسلمانوں کی نئی نسلیں اسلام کے مرکز سے دور____ کوسوں دور نکل گئیں۔

بدقسمتی یہ ہے کہ علمائے اسلام کو اب تک اپنی غلطی کا احساس نہیں ہوا ہے۔ قریب قریب ہر اسلامی ملک میں علما کی جماعت اب بھی اسی روش پر قائم ہے جس کی وجہ سے ابتدا میں ان کو ناکامی ہوئی تھی۔ چند مستثنیٰ شخصیتوں کو چھوڑ کر علما کی عام حالت یہ ہے کہ وہ زمانے کے موجودہ رجحانات اور ذہنیتوں کی نئی ساخت کو سمجھنے کی قطعاً کوشش نہیں کرتے۔ جو چیزیں مسلمانوں کی نئی نسلوں کو اسلام سے بیگانہ کر رہی ہیں اُن پر اظہارِ نفرت تو اُن سے جتنا چاہیے کرا لیجیے، لیکن اس زہر کا تریاق( زہرکی دوائی) بہم پہنچانے کی زحمت وہ نہیں اٹھا سکتے۔ جدید حالات نے مسلمانوں کے لیے جو پیچیدہ علمی اور عملی مسائل پیدا کر دیے ہیں اُن کو حل کرنے میں ان حضرات کو ہمیشہ ناکامی ہوتی ہے۔ اس لیے کہ ان مسائل کا حل اجتہاد کے بغیر ممکن نہیں، اور اجتہاد کو یہ اپنے اوپر حرام کر چکے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات اور اس کے قوانین کو بیان کرنے کا جو طریقہ آج ہمارے علما اختیار کر رہے ہیں وہ جدید تعلیم یافتہ لوگوں کو اسلام سے مانوس کرنے کے بجائے الٹا متنفر( نفرت ) کر دیتا ہے اور بسا اوقات ان کے مواعظ سن کر یا اُن کی تحریروں کو پڑھ کر بے اختیار دل سے یہ دُعا نکلتی ہے کہ خدا کرے کسی غیر مسلم یا بھٹکے ہوئے مسلمان کے چشم و گوش تک یہ صدائے بے ہنگام(بے موقع آواز) نہ پہنچی ہو۔ انھوں نے اپنے ارد گرد دو سو برس پرانی فضا پیدا کر رکھی ہے۔ اسی فضا میں سوچتے ہیں‘ اسی میں رہتے ہیں اور اسی کے مناسب حال باتیں کرتے ہیں۔

بلاشبہ علوم اسلامی کے جوہر آج دنیا میں انھی بزرگوں کے دم سے قائم ہیں اور جو کچھ دینی تعلیم پھیل رہی ہے انھی کے ذریعے سے پھیل رہی ہے، لیکن دو سو برس کی جو وسیع خلیج انھوں نے اپنے اور زمانہ حال کے درمیان حائل کر رکھی ہے وہ اسلام اور جدید دنیا کے درمیان کوئی ربط قائم نہیں ہونے دیتی۔ جو اسلامی تعلیم کی طرف جاتا ہے وہ دنیا کے کسی کام کا نہیں رہتا۔ جو دنیا کے کام کا بننا چاہتا ہے وہ اسلامی تعلیم سے بالکل بیگانہ رہتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس وقت دنیائے اسلام میں ہر جگہ دو ایسے گروہ پائے جاتے ہیں جو بالکل ایک دوسرے کی ضد ہیں:

٭ ایک گروہ اسلامی علوم اور اسلامی ثقافت کا علم بردار ہے مگر زندگی کے ہر شعبے میں مسلمانوں کی رہنمائی کے قابل نہیں۔

٭ دوسرا گروہ مسلمانوں کی علمی‘ ادبی اور سیاسی گاڑی کو چلا رہا ہے مگر اسلام کے اصول ومبادی سے ناواقف ہے‘اسلامی تہذیب کی اسپرٹ سے بیگانہ ہے‘ اسلام کے اجتماعی نظام اور تمدنی قوانین سے ناآشنا ہے۔ صرف دل کے ایک گوشے میں ایمان کا تھوڑا بہت نور رکھتا ہے‘ باقی تمام حیثیتوں سے اس میں اور ایک غیر مسلم میں کوئی فرق نہیں، مگر چونکہ علمی و عملی طاقت جو کچھ بھی ہے اسی گروہ کے ہاتھ میں ہے اور اسی کے دست و بازو ہیں جو گاڑی چلانے کی طاقت رکھتے ہیں‘ اس لیے وہ ملت کی گاڑی کو لے کر گمراہی کی وادیوں میں بھٹکتا چلا جارہا ہے اورکوئی نہیں جو اس کو سیدھا راستہ بتائے۔

میں اس حالت کو دیکھ رہا ہوں اور اس کا خوف ناک انجام میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ اگرچہ رہنمائی کے لیے جس علم و فضل اور جامعیت کی ضرورت ہے وہ مجھ کو حاصل نہیں۔ نہ اتنی قوت میسر ہے کہ ایسے بگڑے ہوئے حالات میں اتنی بڑی قوم کی اصلاح کر سکوں، لیکن اللہ نے دل میں ایک درد دیا ہے اوروہی دردمجبور کرتا ہے کہ جو تھوڑا سا علم اور نورِ بصیرت اللہ تعالیٰ نے بخشا ہے اس سے کام لے کر مسلمانوں کے ان دونوں گروہوں کو اسلامی تعلیم کے اصل منبع اور اسلامی تہذیب کے حقیقی سرچشمے کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دوں اور کامیابی و ناکامی سے بے پروا ہو کر اپنی سی کوشش کر دیکھوں۔ کام کی بزرگی اور اپنی کمزوری کو دیکھ کر اپنی کوششیں خود مجھ کو ہیچ میرز(ناکافی، حقیر، بے قیمت) معلوم ہوتی ہیں مگر کامیابی اور ناکامی جو کچھ بھی ہے اُس قادر مطلق کے ہاتھ میں ہے۔ میرا کام کوشش کرنا ہے اور اپنی حد وسع(دسترس، توانائی) تک میں اپنی کوشش کے دائرے کو پھیلانا چاہتا ہوں۔

(ترجمان القرآن، رجب ۱۳۵۴ھ۔ اکتوبر ۱۹۳۵ء)