مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تنقیحات

اشاعت: 1939ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مولانا مودودی کے ان مختصر مضامین کا مجموعہ ہے جو انہوں نے اسلام اور مغربی تہذیب کے تصادم سے پیدا ہونے والے مسائل پر مختلف اوقات میں تحریر کیے۔ ناشر کے بقول اس مجموعے کو ایک مسلسل و مربوط کتاب کی حیثیت حاصل نہیں، ہر مضمون بجائے خود مستقل ہے، البتہ مقصدی اعتبار سے ان میں گہرا ربط پایا جاتا ہے۔

کتاب میں شامل مضامین میں ذہنی و سیاسی غلامی کے اسباب، ہندوستان میں اسلامی تہذیب کے انحطاط کے عوامل، دورِ جدید کی اقوام کی اخلاقی و تمدنی بیماریوں، انسانی اور الٰہی قانون کا موازنہ (امریکہ کے قانونِ تحریمِ خمر کی منسوخی کی مثال سے)، اور مغربی تہذیب کے اندرونی زوال جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے ہیں، جن کا مشترک مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ مغربی تہذیب کی مادہ پرستانہ بنیادیں بالآخر خود اسی کی تباہی کا سبب بنتی ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"تنقیحات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے مضامین کا ایک اور مجموعہ ہے، کوئی ایک مسلسل دلیل پر مبنی تصنیف نہیں، جس میں ایسی تحریریں جمع کی گئی ہیں جو ان کے ابتدائی سے وسطی دورِ حیات کی معلوم ہوتی ہیں۔ اس کا وحدانی موضوع تشخیصی ہے: مسلم ہندوستان کے فکری و تہذیبی زوال کی وجہ کیا ہے، اور حقیقی اصلاح کے لیے کیا درکار ہے۔

اس کے مضامین "ہماری ذہنی غلامی" کو بنیادی مسئلے کے طور پر نامزد کرتے ہوئے شروع ہوتے ہیں، اور ہندوستان میں اسلامی تہذیب کے زوال کا سراغ لگاتے ہیں؛ یہ دلیل دیتے ہیں کہ مغربی تہذیب (جسے مولانا ایک مضمون میں تہذیبی "خودکشی" کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں) کامیاب جدیدیت کا نمونہ نہیں، بطور ثبوت لارڈ لوتھین کے خطبے اور ترکی میں مشرق و مغرب کی کشمکش کا حوالہ دیتے ہوئے؛ "عقلیت کے فریب" اور "تجدد کے پائے چوبیں" پر حملہ کرتے ہیں؛ اور بعد کے مضامین تعمیری رخ اختیار کرتے ہیں، ملی تعمیرِ نو کے صحیح طریقے، "مسلمان" کے حقیقی مفہوم (اقبال کے فقرے سے مستعار عنوان)، اور تعلیمی پالیسی پر مبنی ہیں۔

اہمیت اور اسے کیسے پڑھا جائے۔ اسے اپنے دور کی تحریروں کے ایک موضوعاتی مجموعے کے طور پر پڑھنا بہتر ہے، جو جنگوں کے درمیانی دور کے مخصوص حوالہ جات سے مکالمہ کرتا ہے۔ اس کی تشخیص — کہ مسلم زوال مغرب پر فکری انحصار سے پیدا ہوتا ہے — بیسویں صدی کی اسلام پسند فکر میں بار بار آنے والا موضوع ہے، اور مطالعاتی حلقہ مولانا اقبال جیسے معاصرین سے اس کا موازنہ کر سکتا ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. فکری انحصار کا نظریہ: اس تشخیص کا مقابلہ کون سی دیگر توضیحات کرتی ہیں؟
  2. تجدد کا "پائے چوبیں": کیا یہ ایک منصفانہ تشخیص ہے یا ایک مسترد کنندہ رویہ؟
  3. تقابلی تہذیبی تنقید: ایک قاری کو ایک دور کے مخصوص شواہد پر بنی دلیل کو دہائیوں بعد کیسے جانچنا چاہیے؟
  4. بطور کیس اسٹڈی ترکی: کمالسٹ ترکی کا تجربہ ریاستی زیرِ قیادت سیکولرائزنگ اصلاح کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  5. اصلاح کے مقام کے طور پر تعلیم: تعلیم کو فیصلہ کن لیور کیوں سمجھا جا سکتا ہے؟
  6. اقبال سے استعارہ: یہ مولانا مودودی اور اقبال کے فکری تعلق کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  7. صنف اور دور: مطالعاتی حلقے کو اب بھی متعلقہ بصیرت کو دور کے مخصوص دلائل سے کیسے ممیز کرنا چاہیے؟
  8. تشخیصوں کا موازنہ: اس کا بیان "اسلامی تہذیب" کے الہیاتی بیان سے کیسے موازنہ رکھتا ہے؟

عرضِ ناشر

تجدید و احیائے دین اور قیامِ نظامِ اسلامی کے مقصد کے پیش نظر بیسویں صدی کے تیسرے اور چوتھے عشرے میں متکلم اسلام اور مسلم حنیف مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے قلم سے اسلامی لٹریچر کا ایک عظیم اور بے بہا ذخیرہ تیار ہوا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ جماعت اسلامی کے بانی تھے، ان کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار خوبیوں‘ کمالات اور صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ایک طرف انھوں نے اپنی سلیس اور عام فہم تحریروں میں اسلام کو ایک قابل فخر تہذیب اور ایک منفرد نظام زندگی کے طور پر پیش کیا تو دوسری طرف انھوں نے اس دین حق کو انسانی معاشرے کے تمام شعبوں اورپہلوئوں میں نافذ و جاری کرنے کے لیے زبردست سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا۔ ان کی شخصیت کا یہ پہلو انھیں فی زمانہ مفکرین و سیاسی قائدین میں ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تحریروں کا اعجاز ہے کہ وہ حق کا راستہ محض دکھاتی ہی نہیں بلکہ اُس پر چلنے اور ____ دوسرے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی تڑپ ____ بھی پیدا کرتی ہیں کہ یہ تحریریں کسی مسلک اور فرقے کی نہیں بلکہ خالص اسلام کی دعوت ہے۔

ترقی یافتہ مغرب کی بے خدا تہذیب نے افراد کو مادہ پرستی اور تنہائی کا شکار بھی کیا ہے اور معاشرتی مسائل میں بھی اُلجھایا ہے، لیکن معاشرتی مسائل میں حوصلہ شکن اضافے کے سبب سے بے چین مغرب میں خود کشی اور قبولِ اسلام کے واقعات خود اُس تہذیب کی ناپائداری اور اسلام کی حقانیت کا زندہ اورواضح ثبوت ہیں۔

حقیقی اسلام کو جاننے کے لیے سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تحریروں کو پڑھیے کہ یہ کفر و الحاد کی تندو تیز آندھیوں میں ایمان کی شمع کو روشن رکھنے کا ذریعہ ہیں۔

جی ہاں! ایمان، قوت اور زندگی سے آشنا کرنے والی تحریریں۔

زیر نظر تالیف تنقیحات دراصل مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے اُن مضامین کا مجموعہ ہے جو انھوں نے ۱۹۳۴ء سے ۱۹۳۷ء تک مختلف اوقات میں ماہنامہ ترجمان القرآن کے لیے لکھے تھے۔ اتنی طویل مدت گزر جانے کے باوجود اِن مضامین کی افادیت قائم ہے۔

ان تحریروں میں سید مودودیؒ مغرب کی بے خدا اور چکا چوند تہذیب سے مرعوب مسلمانوں کو اسلام کی اُس فطری اور قابل فخر تہذیب کو اپنانے کی دعوت دیتے ہیں جو ایک ہزار برس تک دنیا پر حکمران رہی۔ سید مودودیؒ یہ بھی بتاتے ہیں کہ انحطاط اور تنزل سے پریشان مسلم معاشروں کی ترقی ____ غیروں کی نقالی سے نہیں، بلکہ ____ اسلام کے زریںاصولوں ____ کو اپنانے ہی سے ممکن ہے۔ مسلم اُمہ کو اقوام عالم میں اپنا تشخص قائم اور برقرار رکھنے کے لیے اسلام کی آغوش کی طرف پلٹنا ہوگا۔ جدید علوم سے استفادہ وقت کی ضرورت ہے، لیکن غیروں کی غلامی اور اتباع بہرحال تباہی کا راستہ ہے۔

ہم اپنے قارئین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس اہم کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے جہاں کہیں طباعت و اشاعت کے حوالے سے کوئی کمی کوتاہی محسوس کریں تو اُس سے ہمیں ضرور آگاہ کریں۔ اسلامک پبلی کیشنز کی دیگر مطبوعات پر بھی اپنی رائے ہمیں ضرور پہنچائیں۔

نیاز کیش

منیجنگ ڈائریکٹر

اسلامک پبلی کیشنز، لاہور