مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

سنت کی آئینی حیثیت

اشاعت: 1961ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "سنت کی آئینی حیثیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک اہم علمی تصنیف ہے جو اسلامی شریعت کے دوسرے بنیادی ماخذ، یعنی سُنّت کی قانونی، عقیداتی اور عملی حیثیت کو واضح کرنے کے لیے تحریر کی گئی ہے۔ اس کتاب کا مرکزی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ سُنّت صرف اخلاقی یا وعظی ہدایت نہیں بلکہ قرآن کے ساتھ مل کر اسلامی نظامِ حیات کی تشکیل کرنے والا ایک لازمی اور معتبر ماخذِ قانون ہے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب کو اس وقت تحریر کیا جب انکارِ سنت کے فتنے نے دوبارہ سر اٹھایا تھا، خاص طور پر جدید دور کے بعض گروہوں نے سُنّت کو مشتبہ ٹھہرا کر اسلامی نظام کو قرآن تک محدود کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس تناظر میں مصنف نے نہ صرف تاریخی پس منظر بیان کیا بلکہ قرآن و حدیث، تاریخ اسلام، فقہ اور عقلی دلائل کی روشنی میں سُنّت کی آئینی حیثیت کو مستحکم بنایا۔

کتاب کا پہلا باب "دیباچہ: سنت کی آئینی حیثیت کا تاریخی و فکری پس منظر" اس فتنے کی تاریخی جڑوں کو کھوجتا ہے۔ مولانا مودودی بتاتے ہیں کہ انکارِ سنت کا فتنہ دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ کے ذریعے شروع ہوا، جن کا مقصد قرآن کو رسول اللہ ﷺ کی تشریح سے الگ کر کے اپنی من مانی تاویلات کے ذریعے ایک نیا نظام تشکیل دینا تھا۔ دونوں گروہوں نے سُنّت کو حجت ماننے سے انکار کیا، لیکن چوتھی صدی ہجری تک یہ فتنے ختم ہو گئے، کیونکہ محدثین کی تحقیقات، قرآنی آیات، امت کا اجتماعی ضمیر اور منکرینِ سنت کی تاویلات کی بے بنیادی نے ان کے موقف کو ناکام بنا دیا۔

کتاب کا بیشتر حصہ ایک ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ہونے والی خط و کتابت کی صورت میں مرتب ہے۔ باب دوم "منصبِ نبوت" میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت، وحیِ متلو اور غیر متلو کے فرق اور خلفائے راشدین پر لگائے گئے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے۔ باب سوم پچاس سے زائد نکات کی صورت میں منکرینِ سنت کے مخصوص اعتراضات (جیسے احادیث کی کتابت، فقہی اختلافات، اور رسول اللہ کے ذاتی و نبوی افعال میں امتیاز) کا تفصیلی جواب دیتا ہے۔

باب چہارم مغربی پاکستان کی عدالتِ عالیہ کے سنت کے خلاف ایک فیصلے کا حوالہ دیتا ہے، جس پر باب پنجم "تبصرہ" میں مولانا مفصل تنقید کرتے ہیں—فاضل جج کے موقف کی غلطیوں کی نشان دہی، امام بخاریؒ کے چھ لاکھ احادیث جمع کرنے کی روایت کی وضاحت، احادیث کے تدوین و تحفظ کی تاریخ، اور جھوٹی احادیث گھڑے جانے کے اسباب پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ سنت کا انکار دراصل قرآن کے فہم اور اسلامی قانون سازی دونوں کی بنیاد کو کمزور کرتا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"سنت کی آئینی حیثیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی حدیث و سنت کو ایک پابند مأخذِ اسلامی قانون کے طور پر دفاع کرنے والی سب سے تفصیلی تصنیف ہے، جو ایک مخصوص تنازعے میں لکھی گئی: 1960ء کی دہائی میں، پاکستان کے ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی، جس کی سربراہی جدیدیت پسند عالم فضل الرحمٰن ملک کر رہے تھے، نے ایسے مواقف پیش کیے جنہیں مولانا مودودی نے سنت کو نسبیت پسند بنانے کے طور پر پڑھا۔ اس تنازعے نے بالآخر فضل الرحمٰن کے پاکستان چھوڑنے میں کردار ادا کیا۔

کتاب کے ابواب براہِ راست بیان کرتے ہیں کہ سنت کیوں پابند آئینی حیثیت رکھتی ہے؛ "منصبِ نبوت" کا جائزہ لیتے ہیں، نبی اکرمﷺ کے مختلف حیثیتوں میں کیے گئے اعمال کو ممیز کرتے ہوئے — معلم، شارحِ وحی، شارع، سربراہِ مملکت، نجی فرد؛ ایک وسیع باب تنازعے میں اٹھائے گئے اعتراضات کو ایک ایک کر کے لیتا ہے؛ اور کتاب اضافی تبصرے پر ختم ہوتی ہے۔

اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ اسے ایک جدید ریاست میں اسلامی قانون کے مآخذ پر ایک حقیقی فکری معرکے کی بنیادی دستاویز کے طور پر پڑھنا چاہیے۔ مطالعاتی حلقے کو مولانا کی تفریقات کو فضل الرحمٰن کی بعد کی "دوہری حرکت" کی طریقہ کاری کے ساتھ پڑھنا چاہیے، تاکہ ایک ہی بنیادی سوال کے دو سنجیدہ، متصادم جوابات دیکھے جا سکیں۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. فضل الرحمٰن تنازعہ: یہ ایک ریاستی معاملہ کیوں بن گیا، خالصتاً علمی بحث کیوں نہ رہا؟
  2. نبی اکرمﷺ کے متعدد حیثیتیں: کیا مولانا کی تفریق عملاً قابلِ عمل ہے؟
  3. دو سنجیدہ مواقف: مولانا کے فریم ورک کا فضل الرحمٰن کے "دوہری حرکت" کے نظریے سے موازنہ کریں۔
  4. الہیات میں ریاستی مداخلت: ایک سرکاری ادارے کا ایسے تنازعے پر باضابطہ موقف اختیار کرنے کے کیا خطرات ہیں؟
  5. تنازعے کے نتائج: فضل الرحمٰن پاکستان چھوڑ گئے۔ یہ علمی آزادی کی حدود کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  6. سنت اور جدید قانون: مولانا کا فریم ورک قبول کرنے سے قانون سازی پر عملی مطلب کیا ہوگا؟
  7. اعتراضات و جوابات: کتاب کے تیسرے باب سے ایک اعتراض چنیں اور جانچیں کہ کیا مولانا کا جواب اسے حل کرتا ہے۔
  8. آج کی معنویت: کیا جدید ریاست میں حدیث کی پابند حیثیت کا سوال آج بھی زندہ ہے؟

احادیث کو زبانی روایت کرنے کی ہمت افزائی بلکہ تاکید

یہ تو ہے معاملہ کتابتِ حدیث کا، لیکن جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں، اہلِ عرب ہزاروں برس سے اپنے کام کتابت کے بجائے حفظ وروایت اور زبانی کلام سے چلانے کے عادی تھے، اور یہی عادت ان کی اِسلام کے ابتدائی دور میں بھی برسوں تک رہی۔ ان حالات میں قرآن کو محفوظ کرنے کے لیے تو کتابت ضروری سمجھی گئی، کیوں کہ اس کا لفظ لفظ آیات اور سورتوں کی ٹھیک اسی ترتیب کے ساتھ جو اللّٰہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی تھی، محفوظ کرنا مطلوب تھا لیکن حدیث کے معاملے میں اس کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، کیوں کہ اس میں مخصوص الفاظ اور ان کی خاص ترتیب کے وحی ہونے کا نہ دعوٰی تھا نہ تصور، بلکہ مقصود صرف ان احکام اور تعلیمات وہدایات کو یاد رکھنا اور پہنچانا تھا جو صحابہ کو حضورﷺ سے ملی تھیں۔ اس باب میں زبانی نقل وروایت کی محض کھلی اجازت ہی نہ تھی، بلکہ بکثرت احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نبی ﷺ نے لوگوں کو بار بار اور بکثرت اس کی تاکید فرمائی تھی۔ مثال کے طور پر چند احادیث ملاحظہ ہوں:

۱۔ زید بن ثابت، عبداللّٰہ بن مسعود، جبیر بن مطعم اور ابوالدردا رضی اللّٰہ عنہم حضورؐ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں: نَضَّرَ اللّٰہُ امْرَئً سَمِعَ مِنَّا حَدِیْثًا فَحَفِظَہَ حَتّٰی یُبَلِّغَہ‘ غَیْرَہ‘ فَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ اِلٰی مَنْ ھُوْ اَفْقَہُ مِنْہُ وَرُبَّ حَامِلٍ فِقْہٍ لَیْسَ بِفَقِیْہٍ(ابودائود، ترمذی، احمد، ابن ماجہ، دارمی) ’’اللّٰہ اس شخص کو خوش وخرم رکھے جو ہم سے کوئی بات سنے اور دوسروں تک پہنچائے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص سمجھ کی بات کسی ایسے شخص کو پہنچا دیتا ہے، جو اس سے زیادہ فقیہ ہو، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص خود فقیہ نہیں ہوتا مگر فقہ پہنچانے والا بن جاتا ہے۔

۲۔ ابوبکرہؓ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: لِیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ فَاِنَّ الشَّاھِدَ عَسٰی اَنْ یُّبَلِّغَ مَنْ ھُوَ اَوْعٰی لَہ‘ مِنْہُ(بخاری، مسلم) ’’جو حاضر ہے وہ ان لوگوں تک پہنچا دے جو حاضر نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کسی ایسے آدمی تک پہنچا دے جو اس سے زیادہ سمائی(یاد) رکھتا ہو۔

۳۔ ابوشریح کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دوسرے دن حضورﷺ نے خطبہ دیا جسے میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے اور خوب یاد رکھا ہے اور وہ موقع اب تک میری آنکھوں میں سمایا ہوا ہے۔ خطبہ ختم کرکے حضورﷺ نے فرمایا وَلْیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ (بخاری) ’’جوحاضر ہیں وہ اُن لوگوں تک پہنچا دیں جو حاضر نہیں ہیں۔‘‘

۴۔ حجۃ الوداع کے موقع پر بھی تقریر ختم کرکے آپ نے قریب قریب وہی بات فرمائی تھی جو اوپر والی دونوں حدیثوں میں منقول ہوئی ہے۔‘‘ (بخاری)

۵۔ بنی عبدالقیس کا وفد جب بحرین سے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے چلتے وقت عرض کیا کہ ہم بہت دور دراز کے باشندے ہیں، ہمارے اورآپﷺ کے درمیان کفار حائل ہیں، ہم صرف حرام مہینوں میں ہی حاضر خدمت ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا آپﷺ ہمیں کچھ ایسی ہدایات دیں جو ہم واپس جا کر اپنی قوم کے لوگوں کو بتائیں اور جنت کے مستحق ہوں۔ حضورﷺ نے جواب میں ان کو دین کے چند احکام بتائے اور فرمایا: اِحْفَظُوْہُ وَاَخْبِرُوْہُ مَنْ وَّرَائَ کُمْ(بخاری و مسلم) ’’ان باتوں کو یاد کر لو اور وہاں کے لوگوں کو بتا دو۔‘‘

کیا یہ ہدایات اور بار بار کی تاکیدیں یہی ظاہر کرتی ہیں کہ حضورﷺ روایت حدیث کی حوصلہ افزائی نہ کرنا چاہتے تھے، یا یہ کہ آپ اپنے احکام کو وقتی احکام سمجھتے تھے اور یہ نہ چاہتے تھے کہ لوگوں میں وہ پھیلیں اور عام حالات پر ان کا انطباق کیا جانے لگے؟