مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

سنت کی آئینی حیثیت

اشاعت: 1961ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "سنت کی آئینی حیثیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک اہم علمی تصنیف ہے جو اسلامی شریعت کے دوسرے بنیادی ماخذ، یعنی سُنّت کی قانونی، عقیداتی اور عملی حیثیت کو واضح کرنے کے لیے تحریر کی گئی ہے۔ اس کتاب کا مرکزی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ سُنّت صرف اخلاقی یا وعظی ہدایت نہیں بلکہ قرآن کے ساتھ مل کر اسلامی نظامِ حیات کی تشکیل کرنے والا ایک لازمی اور معتبر ماخذِ قانون ہے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب کو اس وقت تحریر کیا جب انکارِ سنت کے فتنے نے دوبارہ سر اٹھایا تھا، خاص طور پر جدید دور کے بعض گروہوں نے سُنّت کو مشتبہ ٹھہرا کر اسلامی نظام کو قرآن تک محدود کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس تناظر میں مصنف نے نہ صرف تاریخی پس منظر بیان کیا بلکہ قرآن و حدیث، تاریخ اسلام، فقہ اور عقلی دلائل کی روشنی میں سُنّت کی آئینی حیثیت کو مستحکم بنایا۔

کتاب کا پہلا باب "دیباچہ: سنت کی آئینی حیثیت کا تاریخی و فکری پس منظر" اس فتنے کی تاریخی جڑوں کو کھوجتا ہے۔ مولانا مودودی بتاتے ہیں کہ انکارِ سنت کا فتنہ دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ کے ذریعے شروع ہوا، جن کا مقصد قرآن کو رسول اللہ ﷺ کی تشریح سے الگ کر کے اپنی من مانی تاویلات کے ذریعے ایک نیا نظام تشکیل دینا تھا۔ دونوں گروہوں نے سُنّت کو حجت ماننے سے انکار کیا، لیکن چوتھی صدی ہجری تک یہ فتنے ختم ہو گئے، کیونکہ محدثین کی تحقیقات، قرآنی آیات، امت کا اجتماعی ضمیر اور منکرینِ سنت کی تاویلات کی بے بنیادی نے ان کے موقف کو ناکام بنا دیا۔

کتاب کا بیشتر حصہ ایک ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ہونے والی خط و کتابت کی صورت میں مرتب ہے۔ باب دوم "منصبِ نبوت" میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت، وحیِ متلو اور غیر متلو کے فرق اور خلفائے راشدین پر لگائے گئے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے۔ باب سوم پچاس سے زائد نکات کی صورت میں منکرینِ سنت کے مخصوص اعتراضات (جیسے احادیث کی کتابت، فقہی اختلافات، اور رسول اللہ کے ذاتی و نبوی افعال میں امتیاز) کا تفصیلی جواب دیتا ہے۔

باب چہارم مغربی پاکستان کی عدالتِ عالیہ کے سنت کے خلاف ایک فیصلے کا حوالہ دیتا ہے، جس پر باب پنجم "تبصرہ" میں مولانا مفصل تنقید کرتے ہیں—فاضل جج کے موقف کی غلطیوں کی نشان دہی، امام بخاریؒ کے چھ لاکھ احادیث جمع کرنے کی روایت کی وضاحت، احادیث کے تدوین و تحفظ کی تاریخ، اور جھوٹی احادیث گھڑے جانے کے اسباب پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ سنت کا انکار دراصل قرآن کے فہم اور اسلامی قانون سازی دونوں کی بنیاد کو کمزور کرتا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"سنت کی آئینی حیثیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی حدیث و سنت کو ایک پابند مأخذِ اسلامی قانون کے طور پر دفاع کرنے والی سب سے تفصیلی تصنیف ہے، جو ایک مخصوص تنازعے میں لکھی گئی: 1960ء کی دہائی میں، پاکستان کے ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی، جس کی سربراہی جدیدیت پسند عالم فضل الرحمٰن ملک کر رہے تھے، نے ایسے مواقف پیش کیے جنہیں مولانا مودودی نے سنت کو نسبیت پسند بنانے کے طور پر پڑھا۔ اس تنازعے نے بالآخر فضل الرحمٰن کے پاکستان چھوڑنے میں کردار ادا کیا۔

کتاب کے ابواب براہِ راست بیان کرتے ہیں کہ سنت کیوں پابند آئینی حیثیت رکھتی ہے؛ "منصبِ نبوت" کا جائزہ لیتے ہیں، نبی اکرمﷺ کے مختلف حیثیتوں میں کیے گئے اعمال کو ممیز کرتے ہوئے — معلم، شارحِ وحی، شارع، سربراہِ مملکت، نجی فرد؛ ایک وسیع باب تنازعے میں اٹھائے گئے اعتراضات کو ایک ایک کر کے لیتا ہے؛ اور کتاب اضافی تبصرے پر ختم ہوتی ہے۔

اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ اسے ایک جدید ریاست میں اسلامی قانون کے مآخذ پر ایک حقیقی فکری معرکے کی بنیادی دستاویز کے طور پر پڑھنا چاہیے۔ مطالعاتی حلقے کو مولانا کی تفریقات کو فضل الرحمٰن کی بعد کی "دوہری حرکت" کی طریقہ کاری کے ساتھ پڑھنا چاہیے، تاکہ ایک ہی بنیادی سوال کے دو سنجیدہ، متصادم جوابات دیکھے جا سکیں۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. فضل الرحمٰن تنازعہ: یہ ایک ریاستی معاملہ کیوں بن گیا، خالصتاً علمی بحث کیوں نہ رہا؟
  2. نبی اکرمﷺ کے متعدد حیثیتیں: کیا مولانا کی تفریق عملاً قابلِ عمل ہے؟
  3. دو سنجیدہ مواقف: مولانا کے فریم ورک کا فضل الرحمٰن کے "دوہری حرکت" کے نظریے سے موازنہ کریں۔
  4. الہیات میں ریاستی مداخلت: ایک سرکاری ادارے کا ایسے تنازعے پر باضابطہ موقف اختیار کرنے کے کیا خطرات ہیں؟
  5. تنازعے کے نتائج: فضل الرحمٰن پاکستان چھوڑ گئے۔ یہ علمی آزادی کی حدود کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  6. سنت اور جدید قانون: مولانا کا فریم ورک قبول کرنے سے قانون سازی پر عملی مطلب کیا ہوگا؟
  7. اعتراضات و جوابات: کتاب کے تیسرے باب سے ایک اعتراض چنیں اور جانچیں کہ کیا مولانا کا جواب اسے حل کرتا ہے۔
  8. آج کی معنویت: کیا جدید ریاست میں حدیث کی پابند حیثیت کا سوال آج بھی زندہ ہے؟

۹۔ خلفائے راشدین پر بہتان

آ پ کا نکتہ نمبر ۹ یہ ہے:

حضرات خلفائے کرام اچھی طرح سمجھتے تھے کہ وحی الکتاب کے اندر محفوظ ہے اور اس کے بعد حضور ﷺ جو کچھ کرتے تھے، باہمی مشاورت سے کرتے تھے۔ اس لیے حضور ﷺ کی وفات کے بعد نظام میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ سلطنت کی وسعت کے ساتھ تقاضے بڑھتے گئے اس لیے آئے دن نئے نئے امور سامنے آتے تھے جن کے تصفیے کے لیے اگرکوئی پہلا فیصلہ مل جاتا جس میں تبدیلی کی ضرورت نہ ہوتی تو اسے علیٰ حالہٖ قائم رکھتے تھے۔ اگر اس میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی تو باہمی مشاورت سے تبدیلی کر لیتے اور اگر نئے فیصلے کی ضرورت ہوتی تو باہمی مشاورت سے نیا فیصلہ کر لیتے۔ یہ سب کچھ قرآن کی روشنی میں ہوتا تھا۔ یہی طریقہ رسول اللّٰہﷺ کا تھا، اور اسی کو حضور ﷺ کے جانشینوں نے قائم رکھا۔ اسی کا نام اتباع رسولﷺ تھا۔

اس عبارت میں آپ نے پے درپے متعدد غلط باتیں فرمائی ہیں۔ آپ کی پہلی غلط بیانی یہ ہے کہ رسول اللّٰہﷺ جوکچھ کرتے تھے، باہمی مشاورت سے کرتے تھے، حالانکہ مشاورت حضورﷺ نے صرف تدابیر کے معاملے میں کی ہے اور وہ بھی ان تدابیر کے معاملے میں جن کے اختیار کرنے کا حکم آپ کو وحی سے نہیں ملا ہے۔ قرآن کی تعبیر وتفسیر، اور اس کے کسی لفظ یا فقرے کا منشا مشخص کرنے میں حضور ﷺ نے کبھی کسی سے مشورہ نہیں لیا۔ اس معاملے میں آپ کی اپنی ہی شرح قطعی ناطق تھی۔ اسی طرح آپﷺ کے پورے عہد ِرسالت میں کبھی یہ طے کرنے کے لیے کوئی مشاورت نہیں ہوئی کہ لوگوں کے لیے کس چیز کو فرض وواجب، کس چیز کو حلال وجائز اور کس چیز کو ممنوع وحرام ٹھہرایا جائے اور معاشرے میں کیا قاعدے اور ضابطے مقرر کیے جائیں۔ حضور ﷺ کی حیات طیبہ میں تنہا آپﷺ کی زبان اور آپ کی عملی زندگی ہی لیجسلیچر(legislature) تھی۔کوئی مومن یہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ ان معاملات میں وہ حضور ﷺ کے سامنے زبان کھولنے کا مجاز ہے۔ کیا آپ کوئی مثال ایسی پیش کر سکتے ہیں کہ عہدِ رسالت میں قرآن کے کسی حکم کی تعبیر مشورے سے کی گئی ہو، یا کوئی قانون مشورے سے بنایا گیا ہو؟ بہت سی نہیں، صرف ایک مثال ہی آپ پیش فرما دیں۔

دوسری خلافِ واقعہ بات آپ یہ فرما رہے ہیں کہ خلفائے راشدین صرف قرآن کو منبع ہدایت سمجھتے تھے اور رسول اللّٰہ ﷺ کے قول وعمل کو واجب الاتباع مآخذ قانون نہیں سمجھتے تھے۔ یہ ان بزرگوں پر آپ کا سخت بہتان ہے جس کے ثبوت میں نہ آپ اُن کا کوئی قول پیش کر سکتے ہیں، نہ عمل۔ اگر اس کا کوئی ثبوت آپ کے پاس ہے تو وہ سامنے لائیے۔ ان کے طرز عمل کی جو شہادتیں ان کے زمانے سے متصل لوگوں نے دی ہیں وہ تو یہ ہیں:

اتباعِ سنت اور خلفائے راشدین

۱۔ ابن سیرین (۳۳ھ۔ ۱۱۰ھ) کہتے ہیں کہ:

ابوبکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے سامنے جب کوئی معاملہ پیش ہوتا اور وہ نہ کتاب اللّٰہ میں سے اس کے لیے کوئی حکم پاتے، نہ سُنّت میں اس کی کوئی نظیر ملتی تب وہ اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرتے اور فرماتے یہ میری رائے ہے، اگر صحیح ہے تو اللّٰہ کا فضل ہے۔

(ابن القیم، اعلام الموقعین، ج۱، ص ۵۴)

۲۔میمون بن مہران کہتے ہیں:

ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا طریقہ یہ تھا کہ اگر کسی معاملے کا فیصلہ انھیں کرنا ہوتا تو پہلے کتاب اللّٰہ میں دیکھتے، اگر وہاں اس کا حکم نہ ملتا تو سُنّتِ رسول اللّٰہ ﷺ میں تلاش کرتے۔ اگر وہاں حکم مل جاتا تو اس کے مطابق فیصلہ کرتے اور اگر انھیں اس مسئلے میں سُنّت کا علم نہ ہوتا تو لوگوں سے پوچھتے تھے کہ کیا تم میں سے کسی کو معلوم ہے کہ اس طرح کے کسی معاملے میں رسول اللّٰہ ﷺ نے کوئی فیصلہ فرمایا ہے۔

(کتاب مذکور، ص ۶۲)

۳۔ علامہ ابن قیم ؒنے پوری تحقیق کے بعد اپنا نتیجہ ٔتحقیق یہ بیان کیا ہے کہ لَایُحْفَظُ لِلصَّدِیّقِ خِلاَفَ نَصٍّ وَاحِدٍ اَبَدًا۔’’ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی زندگی میں نص کی خلاف ورزی کی ایک مثال بھی نہیں ملتی۔ (کتاب مذکور، ج۴، ص ۱۲۰)

۴۔ مشہور واقعہ ہے کہ ایک دادی اپنے پوتے کی میراث کا مطالبہ لے کر آئی جس کی ماں مر چکی تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں کتاب اللّٰہ میں کوئی حکم نہیں پاتا جس کی رو سے تجھ کو ماں کا حصہ پہنچتا ہو۔ پھر انھوں نے لوگوں سے پوچھا کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے تو اس معاملے میں کوئی حکم نہیں دیا ہے۔ اس پر مغیرہ ؓبن شعبہ اور محمد بن مسلمہؓ نے اٹھ کر شہادت دی کہ حضور ﷺ نے دادی کو چھٹا حصہ (یعنی حصہ مادری) دلوایا ہے۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓنے اسی کے مطابق فیصلہ کر دیا۔ (بخاری ومسلم)

۵۔ مؤطا میں یہ واقعہ مذکور ہے حضرت ابوبکرؓ نے اپنی صاحب زادی حضرت عائشہؓ کو اپنی زندگی میں کچھ مال دینے کے لیے کہا تھا، مگر انھیں یہ یاد نہیں تھا کہ یہ مال ان کے حوالے کر دیا گیا تھا یا نہیں۔ وفات کے وقت آپ نے ان سے فرمایا کہ اگر وہ مال تم لے چکی ہو، تب تو وہ تمھارے پاس رہے گا (کیوں کہ وہ ہبہ ہو گیا)، لیکن اگر ابھی تک تم نے اسے قبضے میں نہیں لیا ہے تو اب و ہ میرے سب وارثوں میں تقسیم ہو گا (کیوں کہ اس کی حیثیت ہبہ کی نہیں بلکہ وصیت کی ہے اور حدیث لَا وَصِیَّۃَ لِوَارِثٍ کی رو سے وارث کے حق میں کوئی وصیت میت کے ترکے میں نافذ نہیں ہو سکتی تھی)۔ اس طرح کی بکثرت مثالیں خلیفۂ اول کی زندگی میں ملتی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ رسول اللّٰہ ﷺ کے طریقے سے بال برابر ہٹنا بھی جائز نہ رکھتے تھے۔

۶۔ کون نہیں جانتا کہ خلیفہ ہونے کے بعد حضرت ابوبکرؓ کا اولین اعلان یہ تھا کہ اَطِیْعُوْ نِیْ مَااَطَعْتُ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ‘ فَاِنْ عَصَیْتُ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ‘ فَلاَ طَاعَۃَ لِیْ عَلَیْکُمْ’’میری اطاعت کرو جب تک میں اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرتا رہوں، [منکرینِ حدیث کہتے ہیں کہ قرآن میں جہاں بھی اللہ اور رسولؐ کے الفاظ آئے ہیں ان سے مراد مرکز ملت ہے- لیکن یہ نکتہ حضرت ابوبکرؓ کی سمجھ میں نہ آیا۔ وہ بے چارے یہی سمجھتے رہے کہ میں مرکز ملت ہونے کی حیثیت سے اللہ اور اس کے رسول کا تابع فرمان ہوں۔ اگر کہیں خلیفۂ اول کی بیعت کے وقت ماہنامہ طلوعِ اسلام رونما ہو چکا ہوتا تو وہ ان سے کہتا کہ اے مرکز ملت! اللہ اور رسول تو تم خود ہو، تم کس اللہ اور رسول کی اطاعت کرنے چلے ہو؟] لیکن اگر میں اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کروں تو میری کوئی اطاعت تم پر نہیں ہے۔‘‘ کس کو معلوم نہیں کہ انھوں نے حضورﷺ کی وفات کے بعد جیشِ اُسامہؓ کو صرف اس لیے بھیجنے پر اصرار کیا کہ جس کام کا فیصلہ حضور ﷺ اپنی زندگی میں کر چکے تھے، اسے بدل دینے کا وہ اپنے آپ کو مجاز نہ سمجھتے تھے۔ صحابہ کرام نے جب ان خطرات کی طرف توجہ دلائی جن کا طوفان عرب میں اٹھتا نظر آ رہا تھا اور اس حالت میں شام کی طرف فوج بھیج دینے کو نامناسب قرار دیا، تو حضرت ابوبکرؓ کا جواب یہ تھا کہ لَوْ خَطَفَتْنِیْ الْکِلَابُ وَالذِّئَابُ لَمْ اَرُدَّقضائً قَضٰی بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔’’اگر کتے اور بھیڑئیے بھی مجھے اچک لے جائیں تو میں اس فیصلہ کو نہ بدلوں گا جو رسول اللّٰہ ﷺ نے کر دیا تھا۔‘‘ حضرت عمرؓ نے خواہش ظاہر کی کہ کم از کم اسامہؓ ہی کو اس لشکر کی قیادت سے ہٹا دیں کیوں کہ بڑے بڑے صحابہ اس نوجوان لڑکے کی ماتحتی میں رہنے سے خوش نہیں ہیں تو حضرت ابوبکرؓ نے ان کی ڈاڑھی پکڑ کر فرمایا:

ثَکِلَتْکَ اُمُّکَ وَعَدَمَتْکَ یَاابْنَ الْخَطَّابِ اِسْتَعْمَلَہ‘ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَتَأْ مُرُ نِیْ اَنْ اُنَزِّعَہ‘۔

خطاب کے بیٹے! تیری ماں تجھے روئے اور تجھے کھودے، رسول اللّٰہ ﷺ نے اس کو مقرر کیا اور تو مجھ سے کہتا ہے کہ میں اسے ہٹا دوں۔

اس موقع پر لشکر کو روانہ کرتے ہوئے جو تقریر انھوں نے کی اس میں فرمایا:

اِنَّمَا اَنَامُتَّبِعٌ لَسْتُ بِمُبْتَدِعٍ۔

میں تو پیروی کرنے والا ہوں۔ نیا راستہ نکالنے والا نہیں ہوں۔

۷۔ پھر کس سے یہ واقعہ پوشیدہ ہے کہ حضرت فاطمہؓ اور حضرت عباسؓ کے مطالبہ میراث کو ابوبکر صدیق ؓ نے حدیث رسول اللّٰہﷺ ہی کی بنیاد پر قبول کرنے سے انکار کیا تھا اور اس ’’قصور‘‘ پر وہ آج تک گالیاں کھا رہے ہیں۔

۸۔ مانعین زکوٰۃ کے خلاف جب وہ جہاد کا فیصلہ کر رہے تھے تو حضرت عمرؓ جیسے شخص کو اس کی صحت میں اس لیے تامل تھا کہ جو لوگ کلمہ لاالٰہ الا اللّٰہ کے قائل ہیں ان کے خلاف تلوار کیسے اُٹھائی جا سکتی ہے، مگر اس کا جو جواب انھوں نے دیا، وہ یہ تھا کہ وَاللّٰہِ لَوْمَنَعُوْنِیْ عِقَالاً کَانُوْا یُؤَدُّوْنَہ‘ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُھُمْ عَلٰی مَنْعِہٖ۔’’خدا کی قسم! اگر وہ اونٹ باندھنے کی ایک رسی بھی اس زکوٰۃ میں سے روکیں گے جو وہ رسول اللّٰہ ﷺ کے زمانے میں دیتے تھے تو میں اس پر ان سے لڑوں گا۔‘‘ یہ قول اور یہ عمل تھا اس شخص کا جس نے حضور ﷺ کے بعد سب سے پہلے زمام کار سنبھالی تھی اور آپ کہتے ہیں کہ خلفائے کرام اپنے آپ کو رسول اللّٰہ ﷺ کے فیصلے بدلنے کا مجاز سمجھتے تھے۔

۸۔حضرت ابوبکرؓ کے بعد حضرت عمرؓ کا مسلک اس معاملے میں جو کچھ تھا، اسے وہ خود قاضی شریح کے نام اپنے خط میں اس طرح بیان فرماتے ہیں:

اگر تم کوئی حکم کتاب اللّٰہ میں پائو تو اس کے مطابق فیصلہ کر دو اور اس کی موجودگی میں کسی دوسری چیز کی طرف توجہ نہ کرو اور اگر کوئی ایسا معاملہ آئے جس کا حکم کتاب اللّٰہ میں نہ ہو تو رسول اللّٰہﷺ کی سُنّت میں جو حکم ملے اس پر فیصلہ کرو، اور اگر معاملہ ایسا ہو جس کا حکم نہ کتاب اللّٰہ میں ہو اور نہ سُنّت رسول اللّٰہﷺ میں، تو اس کا فیصلہ اس قانون کے مطابق کرو جس پر اجماع ہو چکا ہو لیکن اگر کسی معاملے میں کتاب اللّٰہ اور سُنّت رسول اللّٰہﷺ دونوں خاموش ہوں اور تم سے پہلے اس کے متعلق کوئی اجماعی فیصلہ بھی نہ ہوا ہو تو تمھیں اختیار ہے کہ یا تو پیش قدمی کرکے اپنی اجتہادی رائے سے فیصلہ کر دو، یا پھر ٹھہر کر انتظار کرو [یعنی اس بات کا انتظار کرو کہ اس معاملے میں کوئی اجماعی فیصلہ ہو جائے] اور میرے نزدیک تمھارا انتظار کرنا زیادہ بہتر ہے۔ (اعلام الموقّعین، ج۱، ص ۶۱۔۶۲)

یہ حضرت عمرؓ کا اپنا لکھا ہوا سرکاری ہدایت نامہ ہے، جو انھوں نے خلیفۂ وقت کی حیثیت سے ضابطۂ عدالت کے متعلق کوفہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بھیجا تھا۔ اس کے بعد کسی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ ان کے مسلک کی کوئی دوسری ترجمانی کرے۔

۹۔(حضرت [بعد کا اضافہ] عمرؓ کے بعد تیسرے خلیفہ حضرت عثمانؓ ہیں۔ بیعت کے بعد اولین خطبہ جو انھوں نے دیا، اس میں وہ علی الاعلان تمام مسلمانوں کومخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

خبردار رہو! میں پیروی کرنے والا ہوں، نئی راہ نکالنے والا نہیں ہوں۔ میرے اوپر کتاب اللّٰہ اور سُنّت نبی ﷺ کی پابندی کے بعد تمھارے تین حق ہیں جن کی میں ذمہ داری لیتا ہوں۔ ایک یہ کہ میرے پیش رو خلفا کے زمانے میں تمھارے اتفاق واجتماع سے جو فیصلے اور طریقے طے ہو چکے ہیں، ان کی پیروی کروں گا۔ دوسرے یہ کہ جو امور اب اہلِ خیر کے اجتماع واتفاق سے طے ہوں گے ان پر عمل درآمد کروں گا۔ تیسرے یہ کہ تمھارے اوپر دست درازی کرنے سے باز رہوں گا جب تک کہ تم ازروئے قانون مواخذے کے مستوجب نہ ہو جائو۔ (تاریخ طبری، ج۳، ص ۴۴۶)

۱۰۔ چوتھے خلیفہ حضرت علیؓ ہیں۔ انھوں نے خلیفہ ہونے کے بعد اہل مصر سے بیعت لینے کے لیے، اپنے گورنر حضرت قیس بن سعد بن عبادہ کے ہاتھ جو سرکاری فرمان بھیجا تھا اُس میں وہ فرماتے ہیں:

خبردار رہو! ہمارے اوپر تمھارا یہ حق ہے کہ ہم اللّٰہ عزوجل کی کتاب اور اس کے رسولﷺ کی سُنّت کے مطابق عمل کریں اور تم پر وہ حق قائم کریں جو کتاب وسُنّت کی رو سے حق ہو، اور رسول اللّٰہ ﷺ کی سُنّت کو جاری کریں اور تمھاری بے خبری کی حالت میں بھی تمھارے ساتھ خیر خواہی کرتے رہیں۔‘‘ (تاریخ طبری، ج۳، ص ۵۵۰)

یہ چاروں خلفا راشدین کے اپنے بیانات ہیں۔ آپ کن ’’حضرات خلفا کرام‘‘ کا ذکر فرما رہے ہیں جو اپنے آپ کو سُنّت رسول اللّٰہﷺ کی پابندی سے آزاد سمجھتے تھے؟ اور ان کا یہ مسلک آپ کو کن ذرائع سے معلوم ہوا ہے؟)

آپ کا یہ خیال بھی محض ایک دعوٰی بلا ثبوت ہے کہ خلفائے راشدین قرآن مجید کے احکام کو تو قطعی واجب الاطاعت مانتے تھے، مگر رسول اللّٰہ ﷺ کے فیصلوں میں جن کو وہ باقی رکھنا مناسب سمجھتے تھے، انھیں باقی رکھتے تھے اور جنھیں بدلنے کی ضرورت سمجھتے تھے انھیں بدل کر باہمی مشاورت سے نئے فیصلے کر لیتے تھے۔ آپ اس کی کوئی نظیر پیش فرمائیں کہ خلافتِ راشدہ کے پورے دور میں نبی ﷺ کا کوئی فیصلہ بدلا گیا ہو، یا کسی خلیفہؓ یا صحابی ؓنے یہ خیال ظاہر کیا ہو کہ ہم حضور ﷺ کے فیصلے حسبِ ضرورت بدل لینے کے مجاز ہیں۔