مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

قرآن اپنے لانے والے کو کس رنگ میں پیش کرتا ہے؟

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

اس مضمون میں مولانا مودودی اس تاریخی رجحان کا ذکر کرتے ہیں کہ دنیا میں آنے والے تمام داعیانِ حق پر ان کے بعد ان کے ماننے والوں نے ہی سب سے بڑا ظلم کیا، یعنی ان کی تعلیمات کو مسخ کرکے اور ان کی شخصیت کو اُلوہیت کا رنگ دے کر۔ اسی تناظر میں وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ قرآن مجید خود اپنے لانے والے، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم، کو کس انداز میں پیش کرتا ہے۔

قرآنی آیات کی روشنی میں وہ یہ واضح کرتے ہیں کہ نبیؐ کا اصل کارنامہ تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیمِ کتاب و حکمت کی صورت میں سامنے آیا، اور یہ کہ آپؐ کے ذریعے دین کی تکمیل کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی مکمل رہنمائی کے لیے تمام ضروری آیات نازل کیں اور ایک مکمل قابلِ تقلید نمونہ عملاً پیش کر دیا، جس سے سابقہ امتوں کے درمیان اصل دین سے متعلق پیدا شدہ اختلافات کی حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے۔

(۲) تکمیل دین

<<اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا>>المائدہ 3:5

آج میں نے تمھارے دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمھارے لیے اسلام کے طریقے کو پسند کیا۔

دوسرے الفاظ میں قرآن کے بھیجنے والے نے اس کے لانے والے سے صرف اتنی ہی خدمت نہیں لی کہ وہ اس کی آیات کی تلاوت کرے ، نفوس کا تزکیہ کرے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دے، بلکہ اس نے اپنے اسی نیک بندے کے ذریعے سے اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچا دیا۔ جو آیات نوع انسانی تک بھیجنی تھیں وہ سب اُس کے واسطے سے بھیج دیں۔ جن خرابیوں سے انسانی زندگی کو پاک کرنا مقصود تھا وہ سب اُس کے ہاتھوں سے دُور کرا کے دکھا دیں۔ جن خوبیوں کا نشوونما، جس شان کے ساتھ افراد اور سوسائٹی میں ہونا چاہیے تھا، اس کا بہترین نمونہ اس کی رہنمائی میں پیش کر دیا اور کتاب وحکمت کی ایسی تعلیم اس کے ذریعے سے دلوادی کہ آنے والے تمام زمانوں میں مقصودِ کتاب کے مطابق انسانی زندگی کی تشکیل و تعمیر کی جاسکتی ہے۔

(۳) اُن تمام اختلافات کی حقیقت واضح کرنا جو اصل دین سے پچھلے انبیا کی اُمتوں کے درمیان پیدا ہو گئے تھے، اور تمام پردوں کو ہٹا کر، تمام آمیزشوں کو چھانٹ کر، تمام اُلجھنوں کو صاف کر کے، اُس راہِ راست کو پوری روشنی میں نمایاں کر دینا جس کی پیروی ہمیشہ سے خدا کی رضا کو پہنچنے کی ایک ہی راہ رہی ہے :

<<تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ ٥ وَ مَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِى اخْتَلَفُوْا فِيْهِ وَهُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ ٥>> نحل 16: 63-64

بخدا کہ ! ہم نے (اے محمدؐ ! ) تم سے پہلے مختلف اُمتوں کی طرف ہدایت بھیجی، مگر اس کے بعد شیطان نے ان کے غلط اعمال کو ان کے لیے خوش نما بنا دیا، چنانچہ آج وہی اُن کا سرپرست بنا ہوا ہے اور وہ دردناک عذاب کے مستحق ہو گئے ہیں، اور ہم نے تم پر یہ کتاب صرف اس لیے نازل کی ہے کہ اس حقیقت کو اُن کے سامنے واضح کر دو جس میں ان کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، اور اس لیے کہ یہ کتاب ہدایت اور رحمت ہو، اُن لوگوں کے لیے جو اس کی پیروی قبول کرلیں۔

<<يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ يَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِيْنٌ ٥ يَّهْدِىْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَيَهْدِيْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ>> مائدہ 5: 15-16

اے اہلِ کتاب ! تمھارے پاس ہمارا رسول آگیا ہے جو تمھارے سامنے بہت سی اُن چیزوں کو کھول کر بیان کرتا ہے جنھیں تم کتاب میں سے چھپاتے ہو اور بہت سی باتوں کو معاف کر دیتا ہے، تمھارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور ایک واضح کتاب آگئی ہے جس کے ذریعے سے اللہ اُن لوگوں کو جو اس کی پسند کے مطابق چلتے ہیں، امن و سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے اور اُنھیں تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے اور سیدھی راہ کی طرف اُن کی رہنمائی کرتا ہے۔

(۴) نافرمانوں کو ڈرانا، فرمانبرداروں کو رحمتِ الٰہی کی خوشخبری دینا اور اللہ کے دین کی اشاعت کرنا۔

<<يَأَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّا اَرْسَلْنكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًا ه وَّ دَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهِ وَ سِرَاجًا مُّنِيْرًا>> الاحزاب 46:33

اے نبی! ہم نے تم کو گواہ اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور اللہ کے حکم سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور ایک روشن گر آفتاب بنا کر بھیجا ہے۔

دوسرا شعبہ عملی زندگی اور اس کے معاملات سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے دو کام ہیں:

(۱) نیکی کا حکم دینا، بُرائی سے روکنا، حرام و حلال کی حدود قائم کرنا اور انسان کو خدا کے سوا دوسروں کی عائد کردہ پابندیوں سے آزاد اور ان کے لادے ہوئے بوجھوں سے ہلکا کرنا:

<<يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ يَنْهُهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ يُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَ يُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ يَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهِ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْ أُنْزِلَ مَعَهُ أُولٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ>> الاعراف 157:7

وہ اُن کو نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزوں کو حلال کرتا ہے اور ناپاک چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے، اور اُن پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے اور ان بندشوں کو کاٹتا ہے جن میں وہ دبے اور جکڑے ہوئے تھے، پس جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت کریں اور اس کی مدد کریں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں۔

(۲) بندگانِ خدا میں حق اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرنا:

<<اِنَّا اَنْزَلْنَا اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرٰكَ اللّٰهُ وَلَا تَكُنْ لِّلْخَائِنِيْنَ خَصِيْمًا>> النساء 105:4

اے محمدؐ! ہم نے تم پر حق کے ساتھ یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ تم اللہ کے بتائے ہوئے قوانین کے مطابق لوگوں کے فیصلے کرو اور خیانت کرنے والوں کے وکیل نہ بنو۔

(۳) اللہ کے دین کو اس طرح قائم کر دینا کہ انسانی زندگی کا پورا نظام اسی کے تابع ہو اور دوسرے سب طریقے اس کے مقابلے میں دَب کر رہ جائیں:

<<هُوَ الَّذِيْ أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهِ>> الفتح 28:48

وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے پورے دین پر غالب کر دے۔

اس طرح نبی کے کام کا یہ شعبہ سیاست، عدالت، اصلاح اخلاق و تمدن، اور قیامِ تہذیبِ صالح کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہو جاتا ہے۔

(۵) محمدؐ کا یہ کام کسی ایک قوم یا ملک یا دَور کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام نوعِ انسانی کے لیے اور تمام زمانوں کے لیے عام ہے:

<<وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ>>

سبا 28:34

اے محمدؐ! ہم نے تم کو تمام انسانوں کے لیے ڈرانے والا اور بشارت دینے والا بنا کر بھیجا ہے، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔

<<قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعًاۨ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ>> الاعراف 158:7

اے محمدؐ! کہو، اے انسانو! میں تم سب کی طرف خدا کا رسول ہوں، اُس خدا کا جو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک ہے، جس کے سوا کوئی خدا نہیں، جو مارنے اور جلانے والا ہے، پس ایمان لاؤ خدا پر اور اُس کے رسول نبی امی پر جو خدا اور اس کے فرامین پر ایمان رکھتا ہے، اور اس کی پیروی کرو، امید ہے کہ تم راہِ راست پالوگے۔

<<وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ>> الانعام 19:6

(اے محمدؐ! کہو) اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ میں اس کے ذریعے تم کو متنبہ کروں اور ہر اس شخص کو جسے یہ پہنچے۔

<<اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ ۝ لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَ>> التکویر 28:81-27

یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لیے، ہر اُس شخص کے لیے جو تم میں سے راست رو بننا چاہے۔

(۶) نبوت محمدیؐ کی ایک اور خصوصیت قرآن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اس پر سلسلۂ نبوت و رسالت ختم کر دیا گیا اور اس کے بعد دنیا کو پھر کسی نبی کی حاجت باقی نہ رہی۔

<<مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ الاحزاب 40:33>>

محمدؐ تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں مگر وہ اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں۔

یہ درحقیقت لازمی نتیجہ ہے نبوت محمدی کی عالمگیری اور ابدیت اور تکمیل دین کا۔ چونکہ قرآن کے مذکورہ بالا بیانات کی رُو سے محمدؐ کی نبوت تمام دنیا کے انسانوں کے لیے ہے نہ کہ ایک قوم کے لیے، اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے نہ کہ ایک زمانے کے لیے، اور آپؐ کے ذریعے یہ کام بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ چکا ہے جس کے لیے دنیا میں انبیا کے آنے کی ضرورت تھی، اس لیے یہ سراسر معقول بات ہے کہ آپؐ پر سلسلۂ نبوت کو ختم کر دیا گیا۔ اس مضمون کو خود نبیؐ نے بہترین اسلوب کے ساتھ ایک حدیث میں واضح کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ”میری مثال نبیوں میں ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک نہایت خوب صورت مکان بنایا اور تمام عمارت بنا کر صرف ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ اب جو لوگوں نے اس کے گرد چکر لگایا تو وہ خالی جگہ انھیں کھٹکنے لگی اور وہ کہنے لگے کہ اگر یہ آخری اینٹ بھی رکھ دی جاتی تو مکان بالکل مکمل ہو جاتا۔ سو وہ آخری اینٹ جس کی جگہ نبوت کے محل میں باقی رہ گئی تھی، میں ہی ہوں۔ اب میرے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔“ اس مثال سے ختم نبوت کی وجہ صاف سمجھ میں آ جاتی ہے۔ جب دین کامل ہو چکا، آیاتِ الٰہی پوری وضاحت کے ساتھ بیان ہو چکیں، اوامر و نواہی، عقائد و عبادات، تمدن و معاشرت، حکومت و سیاست، غرض انسانی زندگی کے ہر شعبے کے متعلق پورے پورے احکام بیان کر دیئے گئے، اور دنیا کے سامنے اللہ کا کلام اور اللہ کے رسولؐ کا اُسوۂ حسنہ اس طرح پیش کر دیا گیا کہ ہر قسم کی تلبیس و تحریف سے پاک ہے اور ہر عہد میں اس سے ہدایت حاصل کی جاسکتی ہے، تو نبوت کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔ صرف تجدید و تذکیر کی ضرورت رہ گئی ہے جس کے لیے علمائے حق اور مؤمنین صادقین کی جماعت کافی ہے۔

(۷) آخری سوال جو دریافت طلب رہ جاتا ہے، یہ ہے کہ اس کتاب کا لانے والا ذاتی طور پر کس قسم کے اخلاق کا انسان تھا؟ اس سوال کے جواب میں قرآن مجید نے دوسری رائج الوقت کتابوں کی طرح اپنے لانے والے کی تعریف کے پل نہیں باندھے ہیں، نہ آپ کی تعریف کو ایک مستقل موضوع گفتگو بنایا ہے۔ البتہ آمدِ سخن میں محض اشارۃً آنحضرتؐ کی اخلاقی خصوصیات ظاہر کی ہیں، جن سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اُس وجودِ مسعودؐ میں کمالِ انسانیت کے بہترین خصائص موجود تھے۔

(۱) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا اخلاق کے نہایت بلند مقام پر تھا:

<<وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ ہ القلم 68:4>>

اور اے محمدؐ! یقیناً تم اخلاق کے بڑے درجے پر ہو۔

(۲) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا ایک ایسا راسخ العزم، مستقیم الارادہ اور اللہ پر ہر حال میں بھروسا رکھنے والا انسان تھا کہ جس وقت اس کی ساری قوم اسے مٹا دینے پر آمادہ ہو گئی تھی اور وہ صرف ایک مددگار کے ساتھ ایک غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوا تھا، اُس سخت مصیبت کے وقت بھی اُس نے ہمت نہ ہاری اور اپنے عزم پر قائم رہا:

<<إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا التوبۃ 9:40>>

یاد کرو جب کافروں نے اس کو نکال دیا تھا، جبکہ وہ غار میں صرف ایک آدمی کے ساتھ تھا، جبکہ وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

(۳) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا ایک نہایت فراخ حوصلہ اور فیاض انسان تھا، جس نے اپنے بدترین دشمنوں کے لیے بھی بخشش کی دعا کی اور آخر اللہ تعالیٰ کو اسے اپنا یہ قطعی فیصلہ سنا دینا پڑا کہ وہ ان لوگوں کو نہیں بخشے گا۔

<<اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ التوبۃ 9:80>>

چاہے تم ان کے لیے معافی مانگو، چاہے نہ مانگو، اگر تم ستر بار بھی ان کے لیے معافی مانگو گے تب بھی اللہ ان کو معاف نہ کرے گا۔

(۴) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا مزاج کا نہایت نرم تھا۔ وہ کبھی کسی کے ساتھ درشتی سے پیش نہیں آتا تھا اور اسی لیے دنیا اس کی گرویدہ ہوگئی تھی۔

<<فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ>>آل عمران 3: 159

یہ اللہ کی رحمت ہے کہ تم ان کے ساتھ نرم ہو، ورنہ اگر تم زبان کے تیز اور دل کے سخت ہوتے تو یہ سب تمھارے گرد و پیش سے چھٹ کر الگ ہوجاتے۔

(۵) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا بندگانِ خدا کو راہِ راست پر لانے کی سچی تڑپ دل میں رکھتا تھا اور ان کے گمراہی پر اصرار کرنے سے اُس کی روح کو صدمہ پہنچتا تھا، حتیٰ کہ وہ ان کے غم میں گھلا جاتا تھا۔

<<فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا>> الکہف 18: 6

اے محمدؐ! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم ان کے پیچھے رنج و غم میں اپنی جان کھو دو گے، اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائے۔

(۶) وہ بتاتا ہے کہ اس کے لانے والے کو اپنی اُمت سے بے حد محبت تھی، وہ ان کی بھلائی کا حریص تھا، اُن کے نقصان میں پڑنے سے کڑھتا تھا، اور ان کے حق میں سراپا شفقت و رحمت تھا:

<<لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ>>التوبۃ 9: 128

تمھارے پاس خود تم ہی میں سے ایک ایسا رسول آیا ہے جسے ہر وہ چیز شاق گزرتی ہے جو تمھیں نقصان پہنچانے والی ہو، جو تمھاری فلاح کا حریص ہے اور اہلِ ایمان کے ساتھ نہایت شفیق و رحیم ہے۔

(۷) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا صرف اپنی قوم ہی کے لیے نہیں بلکہ تمام عالم کے لیے اللہ کی رحمت تھا:

<<وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ>> الانبیاء 21: 107

اے محمدؐ! ہم نے تم کو تمام عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

(۸) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا راتوں کو گھنٹوں اللہ کی عبادت کرتا اور خدا کی یاد میں کھڑا رہتا تھا:

<<اِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّيْلِ وَنِصْفَهٗ وَثُلُثَهٗ>> المزمل 20:73

اے محمدؐ ! تمھارا رب جانتا ہے کہ تم رات کو تقریباً دو تہائی حصہ تک، اور کبھی نصف رات اور کبھی ایک تہائی حصہ تک نماز میں کھڑے رہتے ہو۔

(۹) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا ایک سچا انسان تھا، نہ کبھی اپنی زندگی میں راہِ حق سے بھٹکا، نہ فاسد خیالات سے متاثر ہوا اور نہ کبھی اُس نے ایک لفظ خواہشِ نفس کی پیروی میں حق کے خلاف زبان سے نکالا :

<<مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوٰى o وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى o>> النجم 3:53

لوگو! تمھارا صاحب نہ کبھی سیدھی راہ سے بھٹکا اور نہ صحیح خیالات سے بہکا اور نہ وہ خواہشِ نفس سے بولتا ہے۔

(۱۰) وہ بتاتا ہے کہ اس کے لانے والے کی ذات تمام عالم کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ تھی اور اس کی پوری زندگی کمالِ اخلاق کا صحیح معیار تھی :

<<لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ>> الاحزاب 21:33

تمھارے لیے رسولؐ اللہ کی ذات میں ایک اچھا نمونہ ہے۔

قرآن مجید کا تتبع کرنے سے صاحبِ قرآن کی بعض اور خصوصیات پر بھی روشنی پڑتی ہے، لیکن اس مضمون میں تفصیل کی گنجائش نہیں۔ جو کوئی قرآن کا مطالعہ کرے گا وہ خود دیکھ لے گا کہ بخلاف دوسری موجود الوقت مذہبی کتابوں کے یہ کتاب اپنے لانے والے کو جس رنگ میں پیش کرتی ہے وہ کس قدر صاف، واضح اور آلودگی سے پاک ہے۔ اس میں نہ اُلوہیت کا کوئی شائبہ ہے، نہ تعریف و ثنا میں مبالغہ ہے، نہ غیر معمولی قوتیں آپؐ کی طرف منسوب کی گئی ہیں، نہ آپؐ کو خدا کے کاروبار میں شریک و سہیم بنایا گیا ہے، اور نہ آپؐ کو ایسی کمزوریوں سے متہم کیا گیا ہے جو ایک ہادی اور داعی الی الحق کی شان سے گری ہوئی ہوں۔ اگر اسلامی لٹریچر کی دوسری تمام کتابیں دنیا سے ناپید ہو جائیں اور صرف قرآن مجید ہی باقی رہ جائے تب بھی رسول اکرمؐ کی شخصیت کے متعلق کوئی غلط فہمی، کسی شک و شبہ اور کسی لغزش عقیدت کی گنجائش نہیں نکل سکتی۔ ہم اچھی طرح معلوم کر سکتے ہیں کہ اس کتاب کا لانے والا ایک کامل انسان تھا، بہترین اخلاق سے متصف تھا، انبیائے سابقین کی تصدیق کرتا تھا، کسی نئے مذہب کا بانی نہ تھا اور کسی فوق البشر حیثیت کا مدعی نہ تھا۔ اس کی دعوت تمام عالم کے لیے تھی، اس کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے چند مقرر خدمات پر مامور کیا گیا تھا اور جب اس نے خدمات کو پوری طرح انجام دے دیا تو نبوت کا سلسلہ اس کی ذات پر ختم ہو گیا[دراصل یہ مضمون ۱۹۲۷ء میں اخبار ”الجمعیۃ“ دہلی کے حبیب نمبر کے لیے لکھا گیا تھا۔ پھر دوبارہ ۱۹۳۴ء میں ترجمان القرآن میں شائع کیا گیا].