مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

قرآن اپنے لانے والے کو کس رنگ میں پیش کرتا ہے؟

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

اس مضمون میں مولانا مودودی اس تاریخی رجحان کا ذکر کرتے ہیں کہ دنیا میں آنے والے تمام داعیانِ حق پر ان کے بعد ان کے ماننے والوں نے ہی سب سے بڑا ظلم کیا، یعنی ان کی تعلیمات کو مسخ کرکے اور ان کی شخصیت کو اُلوہیت کا رنگ دے کر۔ اسی تناظر میں وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ قرآن مجید خود اپنے لانے والے، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم، کو کس انداز میں پیش کرتا ہے۔

قرآنی آیات کی روشنی میں وہ یہ واضح کرتے ہیں کہ نبیؐ کا اصل کارنامہ تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیمِ کتاب و حکمت کی صورت میں سامنے آیا، اور یہ کہ آپؐ کے ذریعے دین کی تکمیل کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی مکمل رہنمائی کے لیے تمام ضروری آیات نازل کیں اور ایک مکمل قابلِ تقلید نمونہ عملاً پیش کر دیا، جس سے سابقہ امتوں کے درمیان اصل دین سے متعلق پیدا شدہ اختلافات کی حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے۔

(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت

<< لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ إِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ >>آل عمران3: 164

در حقیقت ایمان لانے والوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے ان کے درمیان خود انھی میں سے ایک ایسا رسول اٹھایا جو انھیں اس کی آیات سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انھیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، ورنہ اس سے پہلے تو وہ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔

تلاوت آیات سے مراد اللہ کے فرامین اور ارشادات جوں کا توں سنا دینا ہے، تزکیہ سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کے اخلاق اور اُن کی زندگی کو بُری صفات، بُری رسموں اور بُرے طریقوں سے پاک کیا جائے اور اُن کے اندر اچھے اوصاف، پاکیزہ اخلاق اور صحیح طریقوں کو نشوونما دیا جائے۔ تعلیم کتاب و حکمت یہ ہے کہ لوگوں کو خدا کی کتاب کا صحیح منشا و مدعا سمجھایا جائے ، ان کے اندر ایسی بصیرت پیدا کی جائے کہ وہ کتاب کی اصل روح تک پہنچ سکیں، اور انھیں وہ حکمت سکھائی جائے جس سے وہ اپنی زندگی کے تمام مختلف وسعت پذیر پہلوؤں کو کتاب اللہ کے مطابق ڈھالتے چلے جائیں۔