مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

قرآن اپنے لانے والے کو کس رنگ میں پیش کرتا ہے؟

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

اس مضمون میں مولانا مودودی اس تاریخی رجحان کا ذکر کرتے ہیں کہ دنیا میں آنے والے تمام داعیانِ حق پر ان کے بعد ان کے ماننے والوں نے ہی سب سے بڑا ظلم کیا، یعنی ان کی تعلیمات کو مسخ کرکے اور ان کی شخصیت کو اُلوہیت کا رنگ دے کر۔ اسی تناظر میں وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ قرآن مجید خود اپنے لانے والے، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم، کو کس انداز میں پیش کرتا ہے۔

قرآنی آیات کی روشنی میں وہ یہ واضح کرتے ہیں کہ نبیؐ کا اصل کارنامہ تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیمِ کتاب و حکمت کی صورت میں سامنے آیا، اور یہ کہ آپؐ کے ذریعے دین کی تکمیل کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی مکمل رہنمائی کے لیے تمام ضروری آیات نازل کیں اور ایک مکمل قابلِ تقلید نمونہ عملاً پیش کر دیا، جس سے سابقہ امتوں کے درمیان اصل دین سے متعلق پیدا شدہ اختلافات کی حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے۔

اپنے لانے والے کو کس رنگ میں پیش کرتا ہے؟

دنیا میں انسان کی ہدایت ورہنمائی کے لیے ہمیشہ ایسے پاک نفوس پیدا ہوتے رہے ہیں، جنھوں نے اپنی زبان اور اپنے عمل سے اس کو حق وصداقت کا سیدھا راستہ دکھایا ہے، لیکن انسان اکثر اُن کے اس احسان کا بدلہ ظلم ہی کی شکل میں دیتا رہا ہے۔ اُن پر ظلم صرف اُن کے اپنے مخالفوں ہی نے نہیں کیے کہ اُن کے پیغام سے بے رُخی برتی، اُن کی صداقت سے انکار کیا، اُن کی دعوت کو ردّ کر دیا اور ان کو تکلیفیں دے کر راہِ حق سے پھیرنے کی کوشش کی بلکہ اُن پر ظلم، اُن کے عقیدت مندوں نے بھی کیا کہ ان کے بعد ان کی تعلیمات کو مسخ کیا، ان کی ہدایتوں کو بدل ڈالا، اُن کی لائی ہوئی کتابوں میں تحریف کی اور خود اُن کی شخصیتوں کو اپنی عجائب پسندی کا کھلونا بنا کر اُلوہیت اور خدائی کا رنگ دے دیا۔ پہلی قسم کا ظلم تو ان نفوسِ قدسیہ کی زندگی تک، یا حد سے حد اس کے چند سال بعد تک ہی محدود رہا، مگر یہ دوسری قسم کا ظلم ان کے بعد صدیوں تک ہوتا رہا اور بہت سے بزرگوں کے ساتھ اب تک ہوئے جا رہا ہے۔

دنیا میں آج تک جتنے داعیانِ حق مبعوث ہوئے ہیں، سب نے اپنی زندگی اُن جھوٹے خداؤں کی خدائی ختم کرنے میں صرف کی ہے، جنھیں انسان نے خدائے واحد کو چھوڑ کر اپنا خدا بنا لیا تھا، لیکن ہمیشہ یہی ہوتا رہا کہ ان کے بعد ان کے پیروؤں نے جاہلانہ عقیدت کی بنا پر خود انھی کو خدا یا خدائی میں خدا کا شریک بنالیا اور وہ بھی اُن بتوں میں شامل کر لیے گئے، جنھیں توڑنے میں انھوں نے اپنی تمام عمر کی محنتیں صرف کر دی تھیں۔

دراصل انسان اپنے آپ سے کچھ ایسا بدگمان ہے کہ اسے انسانیت میں قدسی اور ملکوتی صفات کے امکان اور وجود کا بہت کم یقین آتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو محض کمزوریوں اور پستیوں ہی کا مجموعہ سمجھتا ہے۔ اس کا ذہن اس حقیقتِ کبریٰ کے علم واذعان سے عموماً خالی رہتا ہے کہ اس کالبدِ خاکی میں حق جل مجدہٗ نے وہ قوتیں بھی ودیعت کی ہیں جو اس کو بشر ہونے اور بشری صفات سے متصف رہنے کے باوجود عالم پاک میں ملائکہ مقربین سے بھی بلند درجے تک پہنچا سکتی ہیں! یہی وجہ ہے کہ جب کبھی اس دنیا میں کسی انسان نے اپنے آپ کو اللہ کے نمائندے کی حیثیت سے پیش کیا ہے تو اس کے ہم جنسوں نے پہلے تو یہ دیکھ کر کہ یہ تو ہماری ہی طرح گوشت پوست کا انسان ہے، اُسے خدارسیدہ ماننے سے صاف انکار کر دیا اور جب بالآخر اس کی ذات میں غیر معمولی محاسن کا جلوہ دیکھ کر سرِ عقیدت جھکایا تو پھر کہا کہ جو ہستی ایسی غیر معمولی خوبیوں کی مالک ہو، وہ ہرگز بشر نہیں ہوسکتی۔ پھر کسی گروہ نے اس کو خدا بنایا، کسی نے حلول کا عقیدہ ایجاد کر کے یقین کر لیا کہ خدا نے اس کی شکل میں ظہور کیا تھا، کسی نے اس کے اندر خدائی صفات اور خداوندانہ اختیارات کا گمان کیا اور کسی نے حکم لگا دیا کہ وہ خدا کا بیٹا ہے۔ <<سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يَصِفُونَ>>۔

دنیا کے کسی پیشوائے دین کی زندگی کو لے لو۔ تم دیکھو گے کہ اس کی ذات پر سب سے زیادہ ظلم اس کے معتقدین ہی نے کیا ہے۔ انھوں نے اس پر اپنے تخیلات و اوہام کے اتنے پردے ڈال دیے ہیں کہ اس کی شکل وصورت دیکھنا ہی بالکل محال ہوگیا ہے۔ صرف یہی نہیں کہ ان کی مُحرف کتابوں سے یہ معلوم کرنا مشکل ہوگیا ہے کہ اس کی اصلی تعلیم کیا تھی بلکہ ہم اُن سے یہ بھی معلوم نہیں کرسکتے کہ وہ خود اصل میں کیا تھا، اس کی پیدائش میں اعجوبگی، اس کی طفولیت میں اعجوبگی، اس کی جوانی اور بڑھاپے میں اعجوبگی، اس کی زندگی کی ہر ہر بات میں اعجوبگی، اور اس کی موت تک میں اعجوبگی، غرض ابتدا سے لے کر انتہا تک وہ ایک افسانہ ہی افسانہ نظر آتا ہے اور اس کو اس شکل میں پیش کیا جاتا ہے کہ یا تو وہ خود خدا تھا، یا خدا کا بیٹا تھا، یا خدا اس میں حلول کر گیا تھا، یا کم از کم وہ خدائی میں کسی حد تک شریک و سہیم تھا۔

مثال کے طور پر گوتم بدھ کو دیکھو! بدھ مذہب کے نہایت گہرے مطالعے سے صرف اتنا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اُس اولوالعزم انسان نے برہمنیت کے بہت سے نقائص کی اصلاح کی تھی اور خصوصیت کے ساتھ اُن بے شمار ہستیوں کی خدائی کا بطلان کیا تھا، جن کو اس عہد کے لوگوں نے اپنا معبود بنا لیا تھا، مگر اس کے انتقال کو پوری ایک صدی بھی نہ گزری تھی کہ ویسالی کی کونسل میں اس کے پیروؤں نے اس کی تمام تعلیمات کو بدل ڈالا۔ اصل سوتروں کے بجائے نئے سوتر بنا لیے اور اصول اور فروع میں اپنے اہوا و افکار کے مطابق جس طرح چاہا تصرف کر ڈالا۔ ایک طرف انھوں نے بودھ کے نام سے اپنے مذہب کے ایسے عقائد مقرر کر لیے جن میں خدا کا سرے سے وجود ہی نہ تھا اور دوسری طرف بودھ کو عقلِ کُل، مدارِ کائنات اور ایک ایسی ہستی قرار دے لیا، جو ہر عہد میں دنیا کی اصلاح کے لیے بدھ بن کر آیا کرتی ہے! اس کی پیدائش، زندگی اور گزشتہ و آیندہ جنموں کے متعلق ایسے ایسے عجیب افسانے بنا لیے جن کو پڑھ کر پروفیسر ولسن جیسے محققین حیران ہوکر یہ کہہ اٹھتے ہیں کہ تاریخ میں فی الواقع بودھ کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ تین چار صدی کے اندر ان افسانوں نے بودھ میں الوہیت کا رنگ بھر دیا اور کنشک کے زمانے میں بودھ مت کے اعیان و ائمہ کی ایک بہت بڑی کونسل نے (جو کشمیر میں منعقد ہوئی تھی) فیصلہ دے دیا کہ بودھ دراصل خدا کا مادی ظہور تھا، یا بالفاظِ دیگر خدا اس کے جسم میں حلول کر گیا تھا۔

یہی سلوک رام چندر جی کے ساتھ ہوا! رامائن کے مطالعے سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ رام چندر جی محض ایک انسان تھے۔ نیک دلی، انصاف، شجاعت، فیاضی، تواضع، حلم اور ایثار میں کمال کا مرتبہ تو انھیں ضرور حاصل تھا، مگر الوہیت کا شائبہ تک ان میں نہ تھا، لیکن بشریت اور ان اعلیٰ صفات کا اجتماع ایک ایسا معمہ ثابت ہوا کہ اہلِ ہند کی عقل اس کو حل نہ کر سکی۔ چنانچہ رام چندر جی کی وفات پر ایک زمانہ گزرنے کے بعد یہ عقیدہ تسلیم کرلیا گیا کہ ان کے اندر وشنو[ وشنو ہندوؤں کے موجودہ عقائد کے مطابق کائنات کی پرورش کرنے والے خدا یا دیوتا کا نام ہے۔ غالباً اصل میں یہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ ربوبیت کا تصور تھا جسے بعد میں ایک مستقل شخصیت قرار دے لیا گیا۔ ہندوؤں کی دیوتا پرستی کی ابتدا اسی طرح سے ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں ہر صفت کو انھوں نے ذاتِ حق سے الگ کر کے بجائے خود ایک خدا ٹھہرا لیا۔] نے حلول کیا تھا اور وہ ان ہستیوں میں سے ایک تھے جن کی شکل میں وشن جی سنسار کی اصلاح کے لیے باوقات مختلفہ ظہور کرتے رہے ہیں۔

سری کرشن اس معاملے میں ان دونوں سے زیادہ مظلوم ہیں۔ بھگوت گیتا تحریف و تنسیخ کے کئی عملوں سے نکل کر جس شکل میں ہم تک پہنچی ہے، اس کے عمیق مطالعے سے کم از کم اتنا معلوم ہوتا ہے کہ کرشن جی ایک موحد تھے اور انھوں نے ہستی باری تعالیٰ کے ہمہ گیر قادر مطلق اور شدید القویٰ ہونے کا وعظ کہا تھا، لیکن مہا بھارت وشنو پران، بھاگوت پران وغیرہ کتابیں اور خود گیتا اُن کو اس طرح پیش کرتی ہیں کہ ایک طرف وہ وشنو کے جسمانی مظہر، خالق موجودات اور مدبّر کائنات نظر آتے ہیں اور دوسری طرف ایسی ایسی کمزوریاں اُن کی طرف منسوب ہیں کہ اُنھیں خدا تو خدا، پاکیزہ اخلاق کا انسان بھی تسلیم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ گیتا میں کرشن جی کے یہ اقوال ملتے ہیں:

اس دنیا کا ماں باپ، سہارا اور بابا میں ہی ہوں۔ جو کچھ پاکیزہ یا جو کچھ جاننے کے قابل ہے وہ اور اونکار،[ واحد کارگزار]رگ وید، یجر وید، سام وید بھی میں ہی ہوں، سب کا پالنے والا، مالک، گواہ، جائے قیام، جائے پناہ، باعثِ پیدائش، باعثِ خاتمہ، باعثِ قیام، خزانہ اور پیدائش کا لازوال بیج میں ہی ہوں۔ ارے ارجن! میں گرمی دیتا ہوں، میں پانی روکتا ہوں، میں برساتا ہوں، میں امرت ہوں، اور موت، ست اور است [ یعنی سچ اور جھوٹ ]بھی میں ہی ہوں۔ (۹: ۱۷-۱۹)

تمام دیوتا گن [یعنی دیوتا لوگ ]اور مہرشی [ یعنی اولیا]میری پیدائش کو نہیں جانتے۔ کیونکہ سب دیوتاؤں اور مہرشیوں کی ابتدا بہرحال مجھ ہی سے ہے۔ جو شخص یہ جانتا ہے کہ میں پرتھوی [ زمین]وغیرہ سب لوکوں [لوک یعنی عالم، جہان]کا بڑا ایشور ہوں اور میرا جنم یعنی آغاز نہیں ہے، وہی انسانوں میں موہ [ یعنی لگاؤ، دُنیا کی محبت۔] سے آزاد ہوکر سب پاپوں سے چھوٹ جاتا ہے۔ (۱۰: ۲-۳)

ہے گُڈاکیش![یعنی اے گندھے ہوئے بالوں والے، مراد ارجن ہے] سب جانداروں میں رہنے والی آتما [ یعنی تمام جانداروں کی رُوح۔ ]میں ہوں۔ سب جانداروں کا آغاز، وسط اور انجام بھی میں ہی ہوں۔ بارہ آدتیوں میں وشنو [ہندؤوں کے تمام دیوتاؤں میں سے ۱۲دیوتا سب سے بڑے ہیں، جن کو آدتیا کہتے ہیں اور وشنو ان میں سب سے بڑا دیوتا ہے۔ یہ ۱۲ آدتیا ہندؤوں کے عقیدے کے مطابق ادیتی کے بیٹے تھے۔] میں ہوں۔ تیجسویوں [تیجسوی یعنی نیر] میں کرنوں کی مالا والا سورج، مرتوں مریچی [ ہندوؤں کی اصطلاح میں مُرت ان ۴۹ دیوتاؤں کا نام ہے جو ہوا کا انتظام کرتے ہیں اور ان کے سردار کا نام مریچی ہے]؂اور نکھشتروں میں چندرمان [یعنی تاروں میں چاند]بھی میں ہوں ۔(۲:۱۰-۲۱)

ایسا کوئی متحرک یا ساکن جاندار نہیں جو مجھ سے باہر ہو، میں صرف اپنے ایک ہی حصہ سے اس تمام جگت میں پھیلا ہوا ہوں ۔ (۲۹:۱۰-۴۲)

ہے پانڈو! جو شخص اس بدھی [بدھی یعنی شعور]کے ساتھ کرم [ یعنی فعل، کام]کرتا ہے کہ یہ سب کرم میرے یعنی پرمیشور کے ہیں، جو میرا بھروسا رکھ کر اور سب تعلقات چھوڑ کر جانداروں کے بارے میں نرویر [عداوت سے مبرا۔]ہے۔ وہ میرا بھگت مجھ میں مل جاتا ہے۔ (۵۵:۱۱)

میں سب جانداروں کا مالک ہوں اور پیدائش سے بالاتر ہوں۔ اگر چہ میرے آتھم سروپ میں کبھی تغیر نہیں ہوتا، [میری ذات میں کبھی تغیر نہیں ہوتا۔]مگر پھر بھی میں اپنی پرکرتی (خاصیت) میں قائم ہو کر اپنی مایا [ مایا یعنی قدرت یا تدبیر۔]سے جنم لیا کرتا ہوں۔ ہے بھارت! [بھارت یعنی نیک]جب دھرم کا تنزل ہوتا ہے اور ادھرم کا زور پھیل جاتا ہے تب میں خود ہی جنم لیا کرتا ہوں۔ نیکوں کی حفاظت اور بُروں کی ناش کرنے کے لیے اور یگ یگ [ یگ یعنی زمانہ]میں دھرم قائم کرنے کے لیے میں جنم لیا کرتا ہوں۔ (۴:۴-۸)

ان اقوال میں صاف طور پر گیتا کے کرشن نے خدا ہونے کا دعویٰ کیا ہے [اگر گیتا خود اس بات کی مدعی ہوتی کہ وہ خدا کی کتاب ہے اور کرشن اس کے پیش کرنے والے نبی ہیں تو مندرجہ بالا اقوال بیشتر خدا کے قرار پاسکتے تھے اور کرشن جی کی طرف خدائی کا دعویٰ منسوب نہ ہوتا، مگر مشکل یہ ہے کہ یہ کتاب خود اپنے آپ کو کرشن کے اپدیش کی حیثیت سے پیش کرتی ہے۔ پوری گیتا میں کہیں کوئی اشارہ تک بھی اس بات کی طرف نہیں ہے کہ وہ کلام الہی ہے]مگر دوسری طرف بھاگوت پران انھی کرشن جی کو اس شکل میں پیش کرتی ہے کہ وہ نہاتے میں گوپیوں کے کپڑے چھپا لیتے ہیں، اُن سے لطف اندوز ہونے کے لیے اُتنے ہی جسم پیدا کر لیتے ہیں جتنی کہ گوپیاں تھیں، اور جب شک رشی سے راجہ پرکشت پوچھتا ہے کہ خدا تو اوتار کی شکل میں اس لیے ظاہر ہوتا ہے کہ سچا دھرم پھیلائے۔ پھر یہ کیسا خدا ہے کہ دھرم کے تمام اصول کے خلاف دوسروں کی عورتوں سے ناجائز تعلقات رکھتا ہے؟ تو رشی کو یہ اعتراض رفع کرنے کے لیے اس حیلے کے دامن میں پناہ لینی پڑتی ہے کہ خود دیوتا بھی بعض اوقات نیکی کی راہ سے ہٹ جاتے ہیں ، مگر اُن کے گناہ ان کی ذات پر اس طرح اثر نہیں کرتے جس طرح آگ تمام چیزوں کو جلانے کے باوجود موردِ الزام نہیں ہو سکتی ۔

کوئی سلیم العقل آدمی یہ باور نہیں کر سکتا کہ کسی بلند پایہ معلم دین کی زندگی ایسی ناپاک ہو سکتی ہے ، اور نہ وہ یہی تصور کر سکتا ہے کہ کسی سچے مذہبی پیشوا نے فی الحقیقت اپنے آپ کو انسانوں کے اور کائنات کے رب کی حیثیت سے پیش کیا ہو گا ، لیکن قرآن اور بائبل کے متقابل مطالعے سے یہ حقیقت واضح طور پر ہمارے سامنے روشن ہو جاتی ہے کہ قوموں نے اپنے ذہنی انحطاط اور اخلاقی زوال کے دَور میں کس طرح دنیا کے پاکیزہ ترین انسانوں کی سیرتوں کو ایک طرف گندی سے گندی شکل میں ڈھالا ہے تاکہ خود اپنی کمزوریوں کے لیے وجہِ جواز پیدا کریں اور دوسری طرف ان کی شخصیتوں کے گرد کیسے کیسے وہمی افسانے جمع کر دیئے ہیں ، اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ یہی سب کچھ کرشن جی کے ساتھ بھی ہوا ہو گا اور ان کی اصل تعلیم اور اصل شخصیت اُس سے بالکل مختلف ہو گی جیسی ہندوؤں کی کتابیں اسے پیش کرتی ہیں ۔

جن بزرگوں کی نبوت معلوم و مسلّم ہے ، اُن میں سب سے بڑھ کر ظلم سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر کیا گیا ہے ! حضرت عیسیٰؑ ویسے ہی ایک انسان تھے جیسے سب انسان ہوا کرتے ہیں ۔ بشریت کی تمام خصوصیتیں ان میں بھی اسی طرح موجود تھیں جس طرح ہر انسان میں ہوتی ہیں ۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت و نبوت اور اعجاز کی قوتیں عطا فرما کر ایک بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح کے لیے مامور فرمایا تھا ، لیکن اوّل تو اُن کی قوم نے اُن کو جھٹلایا اور پورے تین سال بھی ان کے وجودِ مسعود کو برداشت نہ کر سکی ، یہاں تک کہ عین عالمِ شباب میں انھیں قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ پھر جب وہ اُن کے بعد اُن کی عظمت کی قائل ہوئی تو اس قدر حد سے تجاوز کر گئی کہ ان کو خدا کا بیٹا بلکہ عین خدا بنا دیا ، اور یہ عقیدہ اُن کی طرف منسوب کیا کہ خدا مسیح کی شکل میں اس لیے نمودار ہوا تھا کہ صلیب پر چڑھ کر انسان کے گناہوں کا کفارہ ادا کرے ، کیونکہ انسان فطرتاً گناہ گار تھا اور خود اپنے عمل سے اپنے لیے نجات حاصل نہ کر سکتا تھا ۔ معاذ اللہ ! ایک نبی صادق اپنے پروردگار پر اتنا بڑا بہتان کس طرح اُٹھا سکتا تھا، مگر اس کے معتقدوں نے جوشِ عقیدت میں اس پر یہ بہتان اُٹھایا اور اس کی تعلیمات میں اپنی ہوائے نفس کے مطابق اتنی تحریف کی کہ آج دنیا کی کسی کتاب میں (سوائے قرآن کے) مسیح کی اصلی تعلیم اور خود اُن کی حقیقت کا نشان نہیں ملتا۔ بائبل کے عہدِ جدید میں جو کتابیں اناجیلِ اربعہ کے نام سے موجود ہیں انھیں اٹھا کر دیکھ جاؤ۔ سب حلول، ابنیت، اور عینیت کے فاسد تخیلات سے آلودہ ہیں۔ کہیں حضرت مریم علیہا السلام کو بشارت ہوتی ہے کہ تیرا بچہ خدا کا بیٹا کہلائے گا۔ (لوقا ۱: ۳۵) کہیں خدا کی روح کبوتر کے مانند یسوع پر اُتر آتی ہے اور پکار کر کہتی ہے کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے۔ (متی ۱۷:۱۷)۔ کہیں مسیح خود کہتا ہے کہ میں خدا کا بیٹا ہوں اور تم مجھے قادرِ مطلق کے داہنی جانب بیٹھے ہوئے دیکھو گے (مرقس ۱۴: ۶۲)۔ کہیں روزِ جزا میں خدا کے بجائے مسیح کو تختِ جلال پر بٹھایا جاتا ہے اور وہ سزا و جزا کے فرمان کو نافذ کرتا ہے۔ (متی ۲۵: ۳۱-۴۶) کہیں مسیح کے منہ سے کہلوایا جاتا ہے کہ باپ مجھ میں ہے اور میں باپ میں ہوں ۔ (یوحنا ۱۰: ۳۸) کہیں اس راست گو انسان کی زبان سے یہ غلط الفاظ نکلوائے جاتے ہیں کہ میں خدا میں سے نکل کر آیا ہوں ۔ (یوحنا ۸: ۴۲) کہیں اس کو اور خدا کو بالکل ایک کر دیا جاتا ہے اور اس کی طرف یہ قول منسوب کیا جاتا ہے کہ جس نے مجھے دیکھا اس نے باپ کو دیکھا اور باپ مجھ میں رہ کر اپنے کام کرتا ہے۔ (یوحنا ۱۴: ۹-۱۰) کہیں خدا کی تمام چیزیں مسیح کی طرف منتقل کر دی جاتی ہیں۔ (یوحنا ۳: ۳۵) اور خدا اپنی خدائی کا سارا کاروبار مسیح کے سپرد کر دیتا ہے۔ (یوحنا ۵: ۲۰-۲۲)

ان مختلف قوموں نے اپنے پیشواؤں اور ہادیوں پر جتنے بہتان و افترا کے ردّے چڑھائے ہیں ان کی اصل وجہ وہی غلو ہے جس کا ہم نے ابتدا میں ذکر کیا ہے! پھر اس خرابی کو جس چیز سے سب سے زیادہ مدد ملی ، وہ یہ تھی کہ ان بزرگوں کے بعد اکثر حالات میں تو ان کی ہدایات اور تعلیمات کو تحریری شکل میں قلمبند ہی نہ کیا گیا اور بعض حالات میں اس طرف توجہ کی بھی گئی تو اس کی حفاظت کا کوئی خاص اہتمام نہ کیا گیا، اس لیے تھوڑا زمانہ گزرنے کے بعد اس میں اتنی آمیزش اور تحریف و ترمیم ہو گئی کہ اصل و جعل میں امتیاز کرنا محال ہو گیا۔ اسی طرح کسی واضح ہدایت کے موجود نہ ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ جتنا جتنا زمانہ گزرتا گیا،

حقیقت پر اوہام غالب آتے گئے اور چند صدیوں میں ساری حقیقت گم ہو گئی۔ صرف افسانے ہی افسانے باقی رہ گئے!

دنیا کے تمام ہادیوں میں یہ خصوصیت صرف حضرت محمدؐ کو حاصل ہے کہ آپؐ کی تعلیم اور آپؐ کی شخصیت ۱۳ صدیوں سے بالکل اپنے حقیقی رنگ میں محفوظ ہے اور خدا کے فضل سے کچھ ایسا انتظام ہو گیا ہے کہ اب اس کا بدلنا غیر ممکن ہے۔ انسان کی اوہام پرستی اور اعجوبہ پرستی سے بعید نہ تھا کہ وہ اس برگزیدہ ہستی کو بھی، جو کمال کے سب سے اعلیٰ درجے پر پہنچ چکی تھی، افسانہ بنا کر اُلوہیت سے کسی نہ کسی طرح متصف کر ڈالتی اور پیروی کے بجائے محض ایک تحیر و استعجاب اور عبادت و پرستش کا موضوع بنا لیتی، لیکن اللہ تعالیٰ کو بعثت انبیا کے آخری مرحلے میں ایک ایسا ہادی و رہنما بھیجنا منظور تھا جس کی ذات انسان کے لیے دائمی نمونۂ عمل اور عالمگیر سرچشمۂ ہدایت ہو، اس لیے اس نے محمدؐ ابن عبداللہ کی ذات کو اس ظلم سے محفوظ رکھا جو جاہل معتقدوں کے ہاتھوں دوسرے انبیا اور ہادیانِ اقوام کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ اوّل تو آپؐ کے صحابہ و تابعین اور بعد کے محدثین نے پچھلی اُمتوں کے برعکس اپنے نبی کی سیرت کو محفوظ رکھنے کا خود ہی غیر معمولی اہتمام کیا ہے، جس کی وجہ سے ہم آپؐ کی شخصیت کو ساڑھے تیرہ سو برس گزر جانے پر بھی آج تقریباً اتنے ہی قریب سے دیکھ سکتے ہیں جتنے قریب سے خود آپؐ کے عہد کے لوگ دیکھ سکتے تھے، لیکن اگر کتابوں کا وہ تمام ذخیرہ دنیا سے مٹ جائے جو ائمہ اسلام نے سالہا سال کی محنتوں سے مہیا کیا ہے، حدیث و سیر کا ایک ورق بھی دنیا میں نہ رہے جس سے محمدؐ کی زندگی کا کچھ حال معلوم ہو سکتا ہو، اور صرف کتاب اللہ (قرآن) ہی باقی رہ جائے تب بھی ہم اس کتاب سے اُن تمام بنیادی سوالات کا جواب حاصل کر سکتے ہیں جو اس کے لانے والے کے متعلق ایک طالب علم کے ذہن میں پیدا ہو سکتے ہیں۔

آئیے اب ہم دیکھیں کہ قرآن اپنے لانے والے کو کس رنگ میں پیش کرتا ہے؟

(۱) قرآن مجید نے رسالت کے معاملے میں سب سے پہلے جس مسئلے کو انتہائی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے وہ رسول کی بشریت ہے۔ نزولِ قرآن سے پہلے صدیوں کے معتقدات نے یہ ایک طے شدہ مسئلہ بنادیا تھا کہ انسان کبھی اللہ کا رسول اور نائب نہیں بن سکتا، دنیا کی اصلاح کے لیے جب کبھی ضرورت ہوتی ہے خدا خود ہی انسان کی صورت میں ظاہر ہوا کرتا ہے، یا کسی فرشتے یا دیوتا کو بھیج دیتا ہے، اور یہ کہ جتنے بزرگ دنیا میں اصلاح کے لیے آئے ہیں، وہ سب کے سب فوق البشر ہستی تھے۔ اس عقیدے نے انسان میں اتنی گہری جڑیں پکڑ لی تھیں کہ جب کبھی اللہ کا کوئی نیک بندہ لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے آتا تو سب سے پہلے لوگ حیرت سے پوچھتے تھے: یہ کیسا نبی ہے جو ہماری طرح کھاتا پیتا، سوتا اور چلتا پھرتا ہے؟ یہ کیسا پیغمبر ہے کہ ہماری طرح تمام عوارض اس کو بھی لاحق ہوتے ہیں؟ بیمار ہوتا ہے، تکلیف اور راحت میں مبتلا ہوتا ہے اور رنج و مسرت سے متاثر ہوا کرتا ہے۔ اگر اللہ کو ہماری ہدایت مقصود ہوتی تو وہ ہم جیسا ایک کمزور انسان کیوں بھیجتا؟ کیا خدا خود نہیں آسکتا تھا؟ یہ سوالات ہر نبی کی بعثت پر ہوتے تھے اور انھی کو حجت بنا کر لوگ انبیا کا انکار کیا کرتے تھے۔ حضرت نوح علیہ السلام جب اپنی قوم کی طرف پیغام لے کر آئے تو کہا گیا:

<<مَا هٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۙ يُرِيْدُ اَنْ يَّتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ ؕ وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً ۖ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِيْ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِيْنَ ۚ المؤمنون 24:23>>

یہ شخص اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ تم ہی جیسا ایک انسان ہے جو تم پر فضیلت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ اگر خدا چاہتا تو فرشتوں کو اتارتا، یہ انوکھی بات تو ہم نے اپنے بزرگوں سے کبھی سنی ہی نہ تھی (کہ انسان خدا کا پیغمبر بن کر آئے)

جب حضرت ھود علیہ السلام اپنی قوم کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے تو ان پر بھی سب سے پہلے یہی اعتراض ہوا:

<<مَا هٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ o وَلَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ المؤمنون 34-33:23>>

یہ شخص اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک بشر ہے تم ہی جیسا، وہی کچھ کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی کچھ پیتا ہے جو تم پیتے ہو۔ اگر تم نے اپنے جیسے ایک بشر کی اطاعت کی تو بڑے ٹوٹے میں رہو گے۔

جب حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام فرعون کے پاس صداقت کا پیغام لے کر پہنچے تو ان کی بات ماننے سے بھی اسی بنا پر انکار کر دیا گیا:

<< أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا >> المؤمنون 47:23

کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں؟۔

چنانچہ ٹھیک یہی سوال اُس وقت بھی تھا جب مکہ کے ایک اُمّی انسان نے چالیس برس تک خاموش زندگی بسر کرنے کے بعد دفعتاً اعلان کیا کہ میں خدا کی طرف سے رسول مقرر کیا گیا ہوں۔ لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہ آتی تھی کہ ایک شخص جو ہماری طرح ہاتھ، پاؤں، آنکھ، ناک اور جسم و جان رکھتا ہے، کیوں کر اللہ کا رسول ہو سکتا ہے۔ وہ حیران ہو کر پوچھتے تھے کہ:

<< مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِيْ فِي الْأَسْوَاقِ ۙ لَوْلَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَهُ نَذِيْرًا ۙ أَوْ يُلْقٰى إِلَيْهِ كَنْزٌ أَوْ تَكُوْنُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا >> الفرقان 25: 8-7

یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے؟ کیوں نہ اس پر کوئی فرشتہ اترا کہ اس کے ساتھ رہ کر لوگوں کو ڈراتا؟ یا کم از کم اس کے لیے کوئی خزانہ ہی اتارا جاتا یا اس کے پاس کوئی باغ ہوتا جس کے پھل یہ کھاتا۔

یہ غلط فہمی چونکہ رسالت کے تسلیم کیے جانے میں سب سے زیادہ مانع ہو رہی تھی، اس لیے قرآن مجید میں پورے زور کے ساتھ اس کی تردید کی گئی اور دلائل کے ساتھ بتایا گیا کہ انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی زیادہ موزوں ہو سکتا ہے۔ کیونکہ بعثت کا مقصود صرف تعلیم ہی دینا نہیں ہے بلکہ خود عمل کر کے دکھانا اور تقلید و پیروی کے لیے ایک نمونہ پیش کرنا بھی ہے۔ اور اس مقصد کے لیے ایک فرشتہ یا اور کوئی فوق البشر ہستی بھیجی جائے جس میں بشری خصائص اور کمزوریاں موجود نہ ہوں تو انسان کہہ سکتا ہے کہ ہم اس طرح کیوں کر عمل کر سکتے ہیں جب کہ وہ ہماری طرح نفس اور نفسانی خواہشات ہی نہیں رکھتا اور اس کی فطرت میں وہ قوتیں ہی نہیں جو انسان کو گناہ کی طرف راغب کرتی ہیں۔

<< لَوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّيْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا >> بنی اسرائیل 17: 95

اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو البتہ ہم بھی ان پر آسمان سے کسی فرشتے کو رسول بنا کر اتارتے۔

پھر صاف طور پر تصریح کی کہ اس سے پہلے جتنے انبیا اور ہادیان برحق مختلف قوموں میں بھیجے گئے ہیں، وہ سب ایسے ہی انسان تھے جیسے محمد رسول اللہ ہیں اور اسی طرح کھاتے پیتے اور چلتے پھرتے تھے جس طرح ہر انسان کھاتا پیتا اور چلتا پھرتا ہے:

<<وَ مَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْٓ اِلَیْهِمْ فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ O وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَأْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ>> الانبیاء 21: 7-8

ہم نے تم سے پہلے جن لوگوں کو بھیجا تھا وہ بھی آدمی ہی تھے جن پر ہم وحی نازل کرتے تھے، اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے پوچھ لو، ہم نے ان انبیا کو ایسے جسم نہیں دیے تھے کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ وہ غیر فانی تھے۔

<<وَ مَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَیَأْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ>> الفرقان 20:25

اور ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے وہ سب کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔

<<وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً>> الرعد 38:13

اور ہم نے تم سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے تھے اور ان کے لیے ہم نے بیویاں بھی پیدا کی تھیں اور ان کی اولاد بھی تھی۔

اس کے بعد رسول اللہؐ کو حکم دیا گیا کہ تم اپنے بشر ہونے کا صاف اعلان کرو تا کہ آپؐ کے بعد لوگ آپؐ کو بھی اسی طرح الوہیت سے متصف نہ کرنے لگیں جس طرح آپؐ سے پہلے دوسرے انبیا کو کر چکے تھے۔ چنانچہ قرآن مجید میں متعدد جگہ یہ آیت آئی ہے:

<<قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ>> کہف 110:18

اے محمدؐ! کہہ دو کہ میں تو محض تمھی جیسا انسان ہوں، مجھ پر وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا خدا ایک ہی ہے۔

ان تصریحات نے صرف محمدؐ ہی کے متعلق تمام فاسد عقائد کا دروازہ بند نہیں کیا بلکہ تمام انبیائے سابقین و بزرگانِ دین کی ذات سے بھی اس غلط فہمی کا ازالہ کر دیا۔

(۲) دوسری چیز جس کو نہایت وضاحت کے ساتھ قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے، نبی کی قوت و قدرت کا مسئلہ ہے۔ جہل و نادانی نے جب خدا رسیدگی کو خدائی کا ہم معنی بنا دیا تو طبعاً اس کے ساتھ یہ عقیدہ بھی پیدا ہو گیا کہ خدا رسیدہ لوگوں میں غیر معمولی طاقتیں ہوتی ہیں، خدا کے کارخانے میں ان کو کچھ خاص اختیارات حاصل ہوتے ہیں، جزا و سزا میں ان کو دخل ہوتا ہے، غیب و شہادت سب کچھ ان پر روشن ہوتا ہے، قسمتوں کے فیصلے ان کی مرضی و رائے سے اُدلتے بدلتے ہیں، نفع و ضرر پر ان کو اقتدار ہوتا ہے، خیر و شر کے وہ مالک ہوتے ہیں، کائنات کی تمام قوتیں ان کے تابع ہوتی ہیں، اور وہ بیک نظر لوگوں کے دلوں کو بدل کر ان کی ظلمت و ضلالت کو دُور کر سکتے ہیں، ایسے ہی خیالات تھے جن کی بنا پر لوگ رسول اللہؐ سے بھی عجیب عجیب مطالبے کرتے تھے۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:

<<وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْبُوْعًا ۙ اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِيْرًا ۙ اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا اَوْ تَأْتِيَ بِاللّٰهِ وَالْمَلٰٓئِكَةِ قَبِيْلًا ۙ اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ ؕ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا ۝ وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى اِلَّا اَنْ قَالُوْا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا ۝>>

بنی اسرائیل 17: 94-90

انھوں نے کہا: ہم تو تم پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے، جب تک تم ہمارے لیے زمین میں سے ایک چشمہ نہ نکال دو، یا تمھارے لیے خرما اور انگوروں کا ایک باغ پیدا ہو اور اس میں تم نہریں رواں کر دو، یا جیسا کہ تم کہا کرتے ہو، آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہم پر گرا دو، یا اللہ اور ملائکہ کو ہمارے سامنے لا کھڑا کرو، یا تمھارے لیے سونے کا ایک گھر بن جائے، یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ، اور ہم تمھارے چڑھنے پر بھی اس وقت تک یقین نہ کریں گے، جب تک کہ تم ہمارے اوپر ایسی ایک تحریر نازل نہ کرو جسے ہم پڑھیں، اے محمدؐ ! ان سے کہو: پاک ہے میرا رب، کیا میں ایک پیغمبر انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں؟

خدا رسیدگی اور بزرگی کے متعلق یہ جتنے غلط تصورات لوگوں میں پائے جاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان سب کی تردید فرمائی اور صاف بتا دیا کہ رسول کا خدائی طاقتوں اور خدائی کاموں میں ذرّہ برابر کوئی حصہ نہیں ہے۔ چنانچہ فرمایا: نبی ہمارے اذن کے بغیر دوسروں کو ضرر سے بچانا تو درکنار خود اپنے آپ سے بھی ضرر کو دفع کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔

<<وَ اِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ وَ اِنْ يَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ الانعام 17:6>>

اے نبی! اگر خدا تمھیں کوئی نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نقصان کا دُور کرنے والا نہیں ہے، اور اگر وہ تمھیں فائدہ پہنچانا چاہے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

<<قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ یونس 49:10>>

اے محمدؐ! کہو، میں تو اپنی ذات کے لیے بھی نفع یا نقصان کی صورت نہیں رکھتا سوائے اُس کے جو خدا چاہے۔

اور فرمایا کہ نبی کے پاس اللہ کے خزانوں کی کنجیاں نہیں، نہ وہ علم غیب رکھتا ہے اور نہ اس کو فوق العادت قوتیں حاصل ہیں:

<<قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤی اِلَیَّ الانعام 50:6>>

اے محمدؐ! کہو، میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، نہ میں غیب کا حال جانتا ہوں، اور نہ میں تم سے یہی کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں (یعنی انسانی کمزوریوں سے پاک ہوں) میں تو صرف اس چیز کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے۔

<<وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ الاعراف 188:7>>

اور اگر میں غیب جاننے والا ہوتا تو اپنے لیے بہت کچھ فائدے سمیٹ لیتا اور مجھ کو کوئی نقصان نہ پہنچتا، میں تو محض ایک متنبہ کرنے والا ہوں اور جو میری بات مان لیں ان کو خوشخبری دینے والا ہوں۔

اور فرمایا نبی کو حساب کتاب اور جزا و سزا میں بھی کچھ دخل نہیں، اس کا کام صرف پیغام پہنچانا اور سیدھی راہ دکھانا ہے۔ آگے محاسبہ اور مواخذہ کرنا اور لوگوں کو جزا و سزا دینا خدا کا کام ہے۔

<<قُلْ اِنِّیْ عَلٰی بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ ط اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ o قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ الانعام 6: 57-58>>

اے محمدؐ! ان لوگوں سے کہو کہ میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے، اب یہ بات میرے اختیار میں نہیں ہے کہ جس عذاب کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو، وہ میں خود تمھارے اُوپر نازل کردوں، فیصلہ بالکل اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہی امرِ حق بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے، ان سے کہو کہ اگر کہیں وہ عذاب میرے اختیار میں ہوتا جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو تو میرے اور تمھارے درمیان کبھی کا فیصلہ ہو چکا ہوتا، مگر اللہ ہی ظالموں سے نمٹنا خوب جانتا ہے۔

<< فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ الرعد 40:13 >>

اے نبی! تمھارا کام تو بس پیغام پہنچا دینا ہے، حساب لینا ہمارا کام ہے۔

<< اِنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا وَمَآ اَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيْلٍ الزمر 41:39 >>

اے نبیؐ! ہم نے لوگوں (کی ہدایت) کے لیے تم پر یہ کتاب حق کے ساتھ اُتاری ہے، اب جو کوئی ہدایت قبول کرتا ہے اپنے ہی لیے اچھا کرتا ہے اور جو گمراہی میں پڑتا ہے، اپنے ہی حق میں بُرا کرتا ہے اور تم اُن پر کوئی حوالہ دار نہیں ہو۔

اور فرمایا: لوگوں کے دلوں کو پھیر دینا اور جن لوگوں میں قبولِ حق کی آمادگی نہ ہو، ان میں ایمان پیدا کر دینا نبی کے بس کی بات نہیں ہے۔ وہ ہادی صرف اس معنی میں ہے کہ نصیحت اور تذکیر کا جو حق ہے اس کو وہ پورا پورا ادا کر دیتا ہے، اور جو راستہ دیکھنا چاہے، اُسے راستہ دکھا دیتا ہے۔

<< اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِيْنَ ہ وَمَآ اَنْتَ بِهٰدِى الْعُمْيِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ يُّؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ النمل 80-81:27 >>

تم مُردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں تک آواز پہنچا سکتے ہیں جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر لوٹ جائیں، اور نہ تم اندھوں کو گمراہی سے نکال کر سیدھے راستے پر ڈال سکتے ہو، تم تو صرف اُنھی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری نشانیوں پر ایمان لاتے ہیں پھر سرِ اطاعت جھکا دیتے ہیں۔

<< وَمَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِى الْقُبُوْرِ ہ اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِيْرٌ ہ اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ فاطر 22-24:35 >>

تم قبر کے مُردوں کو سنانے والے نہیں ہو، تم تو صرف آگاہ کر دینے والے ہو اور ہم نے تم کو حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔

پھر یہ بھی صاف بتا دیا کہ نبی کو جو کچھ قدر و منزلت اور علو مرتبت حاصل ہے، سب اس بنا پر ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے، اس کے احکام پر ٹھیک ٹھیک چلتا ہے اور جو کچھ کلام اس پر نازل کیا جاتا ہے اسے جوں کا توں اللہ کے بندوں تک پہنچا دیتا ہے۔ ورنہ اگر وہ اطاعت سے منہ موڑے اور اللہ کے کلام میں اپنے دل سے گھڑ کر باتیں ملا دے تو اس کا کوئی امتیاز باقی نہ رہے، بلکہ وہ خدا کی پکڑ سے بچ بھی نہ سکے۔

<< وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ >>

البقرہ 2: 145

اور اگر تم نے ان کی خواہشات کی پیروی کی اس علم کے باوجود جو تمھارے پاس آ گیا ہے، تو یقیناً اس صورت میں تم ظالم ہو گے۔

<< وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِيْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ >>

البقرہ 120:2

اور اگر تم نے اس علم کے باوجود جو تمھارے پاس آیا ہے ان کی خواہشات کی پیروی کی تو تمھیں اللہ کی سزا سے بچانے والا کوئی حامی اور مددگار نہ ہوگا۔

<< قُلْ مَا يَكُوْنُ لِيْٓ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِيْ ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ ۚ اِنِّيْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّيْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ >>

یونس 15:10

اے محمدؐ! ان سے کہو، مجھ کو اس کلام میں اپنی طرف سے کچھ رَدّ و بدل کرنے کا اختیار نہیں ہے، میں تو صرف اس چیز کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔

یہ باتیں اس لیے نہیں کہی گئی ہیں کہ معاذ اللہ رسول اکرمؐ سے کسی نافرمانی یا تحریف و تلبیس کا ادنیٰ سا اندیشہ تھا۔ دراصل ان سے مقصود دنیا پر یہ حقیقت واضح کرنا تھا کہ نبی کو بارگاہِ رب العزت میں جو تقرب حاصل ہے، اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ نبی کی ذات سے اللہ کا کوئی رشتہ ہے، بلکہ اس کے مقرب ہونے کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ اللہ کا نہایت درجہ مطیع فرمان اور دل و جان سے اُس کا بندہ ہے۔

(۳) تیسری چیز جس کا بارہا نہایت صراحت کے ساتھ قرآن مجید میں ذکر کیا گیا ہے،

یہ ہے کہ نبیؐ کوئی نئے نبی نہیں ہیں، بلکہ جماعت انبیا کے ایک فرد اور اس سلسلۂ نبوت کی ایک کڑی ہیں جو ابتدائے آفرینش سے لے کر آپ کی بعثت تک جاری رہا، اور جس میں ہر قوم اور ہر زمانے کے انبیا ورسل شامل ہیں۔ قرآن حکیم نبوت ورسالت کو کسی ایک ذات یا ایک ملک یا ایک قوم سے مخصوص نہیں کرتا بلکہ وہ صاف صاف اعلان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم اور ہر ملک اور ہر زمانے میں مقدس نفوس پیدا کیے ہیں جنھوں نے انسان کو صراطِ مستقیم کی طرف دعوت دی ہے اور گمراہی کے بُرے نتائج سے ڈرایا ہے:

<<وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ>> فاطر 24:35

کوئی قوم ایسی نہیں گزری ہے جس میں کوئی متنبہ کرنے والا نہ آیا ہو۔

<<وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِىْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ>> النحل 36:16

اور ہم نے ہر قوم میں ایک پیغمبر بھیجا جس نے پیغام دیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے پرہیز کرو۔

اور انھی پیغمبروں اور ڈرانے والوں میں سے ایک محمدؐ بھی ہیں۔ چنانچہ جگہ جگہ ارشاد ہوتا ہے:

<<هٰذَا نَذِيْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى>> النجم 56:53

یہ ایک ڈرانے والا ہے، اگلے ڈرانے والوں میں سے۔

<<اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ>> یٰس 3:36

اے محمدؐ! یقیناً تم پیغمبروں میں سے ہو۔

<<قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِىْ مَا يُفْعَلُ بِىْ وَلَا بِكُمْ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَىَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ>> الاحقاف 9:46

اے محمدؐ! کہو، میں کوئی نرالا رسول نہیں ہوں، میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ برتا جائے گا اور تمھارے ساتھ کیا سلوک ہوگا، میں تو اس چیز کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے اور میں محض ایک ڈرانے والا ہوں صاف صاف۔

<<وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ>> آل عمران 144:3

محمدؐ! کچھ نہیں ہے مگر ایک رسول اور اس سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ یہ بھی کہہ دیا کہ رسول عربی کی دعوت وہی دعوت ہے جس کی طرف ابتدائے آفرینش سے ہر داعیِ حق بلاتا رہا ہے، اور آپ اُسی دینِ فطرت کی طرف تلقین کرتے ہیں، جس کی تلقین ہمیشہ اللہ کے ہر نبی اور رسول نے کی ہے۔

<< قُوْلُوْا امَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَ مَآ أُنْزِلَ إِلَى إِبْرٰھٖمَ وَ إِسْمٰعِيْلَ وَ إِسْحٰقَ وَ يَعْقُوْبَ وَ الْأَسْبَاطِ وَ مَآ أُوْتِيَ مُوْسٰى وَ عِيْسٰى وَ مَآ أُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ o فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا >>البقرہ2: 137-136

کہو، ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس کی تعلیم پر جو ہماری طرف اتاری گئی ہے اور اس تعلیم پر جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب علیہم السلام اور ان کی اولاد پر اتاری گئی تھی اور جو موسیٰ، عیسیٰ علیہما السلام اور دوسرے نبیوں کو اُن کے رب کی طرف سے دی گئی تھی، ہم اُن کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مطیع فرمان ہیں، پس اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم لائے ہو تو وہ سیدھے راستے پر ہیں۔

قرآن مجید کی یہ تصریحات اس حقیقت میں کسی شک وشبہ کی گنجائش باقی نہیں رہنے دیتیں کہ محمدؐ پچھلے پیغمبروں میں سے کسی کی تکذیب یا کسی کے لائے ہوئے پیغام کی تردید کرنے کے لیے نہیں آئے بلکہ اس لیے آئے تھے کہ اُسی سچے مذہب کو، جو اوّل دن سے تمام قوموں کے پیغمبر پیش کرتے چلے آئے تھے، بعد کے لوگوں کی ملاوٹوں سے پاک کر کے پھر پیش کر دیں۔

(۴) اسی طرح قرآن مجید اپنے لانے والے کی صحیح حیثیت واضح کرنے کے بعد اُن کاموں کی تفصیل بیان کرتا ہے جن کے لیے اللہ نے اسے بھیجا تھا۔

یہ کام بحیثیت مجموعی دو شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں: ایک شعبۂ تعلیمی، دوسرا شعبۂ عملی۔

پہلے شعبے کے کام حسب ذیل ہیں: