مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

نماز اور خطبۂ جمعہ کی زبان

اشاعت: 1937ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ایک وسیع فقہی مقالہ ہے جس میں مولانا مودودی نماز اور خطبۂ جمعہ کی زبان کے مسئلے پر تفصیلی بحث کرتے ہیں۔ آغاز میں وہ اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا امام ابوحنیفہؒ کا واقعی یہ اجتہاد تھا کہ نماز عجمی زبان میں بھی پڑھی جا سکتی ہے، اور آیتِ "لا تقربوا الصلوٰۃ وانتم سکاریٰ حتیٰ تعلموا ما تقولون" سے نماز کی زبان سمجھنے کے لیے استدلال کی صحت پر روشنی ڈالتے ہیں۔

اس کے بعد وہ ائمہ اربعہ کے مسالک کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہیں: امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک ہر زبان میں نماز جائز ہے، جب کہ صاحبین اور امام شافعیؒ کے نزدیک عربی پر قدرت رکھنے والے کے لیے غیر عربی میں نماز درست نہیں۔ اسی تفصیلی طریقِ استدلال کو خطبۂ جمعہ کی زبان پر بھی منطبق کرتے ہوئے وہ نماز اور خطبے کے مقاصد کے فرق کی بنیاد پر اپنا مسلک متعین کرتے ہیں۔

خلاصہ مباحث گزشتہ

یہاں تک جو کچھ عرض کیا گیا ہے، اس سے تین باتیں واضح ہو جاتی ہیں:

ایک یہ کہ خطبہ نماز کا جزو نہیں ہے، لہٰذا نماز کے لیے عربی زبان کے لازم ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ خطبے کے لیے بھی عربیت واجب ہو۔

دوسرے یہ کہ خطبے کا طریقہ مقرر کرنے سے شارع کے پیشِ نظر جس قدر مقاصد ہیں، وہ سب کے سب ایسی حالت میں فوت ہو جاتے ہیں جبکہ خطبہ کسی ایسی زبان میں پڑھا جائے جس کو سامعین نہ سمجھتے ہوں۔ بخلاف اس کے نماز جن مقاصد کے لیے شارع نے فرض کی ہے، ان میں سے کوئی اہم مقصد مصلیوں کے عدمِ فہم سے فوت نہیں ہوتا۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھیے کہ عدمِ فہم سے نماز میں تو محض ایک جزئی سا نقصان آتا ہے مگر خطبے میں اس سے کلی نقصان واقع ہو جاتا ہے۔

تیسرے یہ کہ نماز میں عدمِ فہم سے جو ایک جزئی سا نقصان واقع ہوتا ہے، وہ بھی نماز کا ترجمہ یاد کر کے بآسانی رفع کیا جا سکتا ہے، لیکن خطبے میں اس سے جو کلی نقصان واقع ہوتا ہے، اسے رفع کرنے کی کوئی سبیل نہیں۔