نماز اور خطبۂ جمعہ کی زبان
اشاعت: 1937ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ایک وسیع فقہی مقالہ ہے جس میں مولانا مودودی نماز اور خطبۂ جمعہ کی زبان کے مسئلے پر تفصیلی بحث کرتے ہیں۔ آغاز میں وہ اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا امام ابوحنیفہؒ کا واقعی یہ اجتہاد تھا کہ نماز عجمی زبان میں بھی پڑھی جا سکتی ہے، اور آیتِ "لا تقربوا الصلوٰۃ وانتم سکاریٰ حتیٰ تعلموا ما تقولون" سے نماز کی زبان سمجھنے کے لیے استدلال کی صحت پر روشنی ڈالتے ہیں۔
اس کے بعد وہ ائمہ اربعہ کے مسالک کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہیں: امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک ہر زبان میں نماز جائز ہے، جب کہ صاحبین اور امام شافعیؒ کے نزدیک عربی پر قدرت رکھنے والے کے لیے غیر عربی میں نماز درست نہیں۔ اسی تفصیلی طریقِ استدلال کو خطبۂ جمعہ کی زبان پر بھی منطبق کرتے ہوئے وہ نماز اور خطبے کے مقاصد کے فرق کی بنیاد پر اپنا مسلک متعین کرتے ہیں۔
آیت کا صحیح مفہوم
اب ذرا آیت کے الفاظ پر پھر غور کیجیے! اگر سمجھنا اور معانی کی طرف ملتفت ہونا ہی صحتِ نماز کے لیے ضروری تھا اور اسی بنا پر حالتِ سکر میں نماز سے دور رہنے کا حکم دیا گیا تھا، تو پھر سکر ہی میں کون سی خصوصیت تھی؟ یہ بھی کہنا چاہیے کہ جب تم متفکر ہو تو نماز سے دور رہو۔ جب تمھیں رنج یا پریشانی یا کسی اور قسم کی ذہنی مشغولیت لاحق ہو، تب بھی نماز کے پاس نہ جاؤ۔ جب تمھیں محسوس ہو کہ دورانِ نماز میں تمھارے خیالات کسی اور طرف بھٹک گئے ہیں، تب بھی نماز توڑ دو اور پھر سے شروع کرو، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کوئی قید بھی نہیں لگائی بلکہ صرف حالتِ سکر میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ اس حالت میں تم کو علم نہیں ہوتا کہ کیا کہہ رہے ہو۔ اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ سکر میں کسی اور قسم کی بے خبری ہوتی ہے جو عدمِ فہم اور عدمِ التفات سے مختلف ہے۔ اس حالت میں انسان کو یہ بھی شعور نہیں ہوتا کہ وہ عبادت کے لیے کھڑا ہو رہا ہے یا کسی اور کام کے لیے، قرآن پڑھ رہا ہے یا کچھ اور، قبلہ رُخ بھی ہے یا نہیں۔ اس پر کچھ ایسی مدہوشی طاری ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپے میں نہیں ہوتا۔ ہو سکتا ہے کہ قرآن پڑھتے پڑھتے کوئی شعر گانے لگے۔ یا خدا کا ذکر کرتے کرتے کچھ اُول فول بک جائے۔ یا قبلہ رُخ کھڑے کھڑے کسی دوسری طرف ڈھلک پڑے۔ یا نماز پڑھتے پڑھتے بھول جائے کہ نماز پڑھ رہا ہے اور ادھوری نماز چھوڑ کر کسی سے باتیں کرنے لگے۔ یا مصلے پر سے کہیں چل کھڑا ہو۔ اللہ تعالیٰ کا مقصد حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ سے دراصل ایسی ہی بے شعوری کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ جب تم اپنی حماقت سے اپنے اوپر ایسی حالت طاری کر لو جس میں تم کو اپنی زبان اور اپنے دل و دماغ پر قابو نہ رہتا ہو تو ہمارے دربار میں حاضر ہونے کی جرأت نہ کرو۔
اس تشریح سے یہ بات واضح ہو گئی کہ آیت مذکورہ الصدر کا کوئی تعلق نماز کی زبان کے مسئلے میں نہیں ہے۔ اور اس سے یہ استدلال کرنا درست نہیں کہ نماز اُس زبان میں پڑھنا ضروری ہے جسے مُصَلّی اچھی طرح سمجھتا ہو۔