مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

مسلم خواتین سے اسلام کے مطالبات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "مسلم خواتین سے اسلام کے مطالبات" ایک ایسی تحریر ہے جو نہ صرف عورت کے دینی فرائض کو واضح کرتی ہے بلکہ اسے اپنی ذاتی ذمہ داری، شعور اور ارادہ کے ساتھ اسلام کو قبول کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ بتانا ہے کہ اسلام محض نسلی ورثہ نہیں، بلکہ ایک شعوری اور جان بوجھ کر کیا گیا انتخاب ہے، جس کے تقاضوں کو پورا کرنا ہر مسلمان—چاہے مرد ہو یا عورت—پر لازم ہے۔ مولانا مودودی اس کتاب کے ذریعے مسلم خواتین کو ان کی ذاتی شناخت، ذمہ داری اور اسلامی نظامِ حیات کے ساتھ ان کے تعلق کی یاد دہانی کراتے ہیں، اور انہیں اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں کہ وہ مردوں کی شخصیت میں گم ہونے والی معاون نہیں، بلکہ اللہ کے سامنے ایک الگ اور ذمہ دار وجود ہیں۔

کتاب کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد اور انسان کو عقل وفہم عطا کرنے کی نعمت سے ہوتا ہے، جس کے ذریعے انسان کو صحیح راستہ دکھایا گیا۔ اس کے بعد مصنف دنیائے اسلام کی موجودہ حالت کا جائزہ لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ آج کے مسلمانوں کی دنیا ایک چڑیا گھر کی طرح ہے، جہاں مختلف قسم کے لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے ہیں، حالانکہ ان میں سے اکثر کفر، شک، غفلت یا منافقت کے شکار ہیں۔ یہ صورتِ حال اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ اکثریت "غیر شعوری مسلمانوں" پر مشتمل ہے—وہ لوگ جو صرف اس لیے مسلمان ہیں کہ ان کے باپ دادا مسلمان تھے، نہ کہ اس لیے کہ انہوں نے اسلام کو سوچ سمجھ کر قبول کیا ہو۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: عورت و مرد کا مقام

نازک وقت آ رہا ہے

اس وقت ہمارے سامنے ایک بہت بڑے کام کا پروگرام ہے ہمیں پاکستان میں اسلام کی حکومت قائم کرنا ہے، اور یہ کام بہت بڑی جدوجہد کا مطالبہ کرتا ہے۔ ۱۴ اگست۱۹۴۷ء سے پہلے تک اس ملک کے رہنے والے خود مختار نہ تھے، لیکن ۱۴ اگست کے بعد ہمارے ملک کی صورتِحال بالکل بدل گئی ہے، اب اس ملک کے لوگ اپنے مستقل کا خود فیصلہ کرنے میں پوری طرح مختار ہیں۔ یہاں کے باشندوں کو اب یہ طے کرنا ہے کہ وہ اپنے لیے کس طریقِ زندگی کو، کس اصولِ اخلاق کو اور کس نظامِ حکومت کو پسند کرتے ہیں؟ اس سلسلہ میں آپ عنقریب دیکھیں گی کہ اس ملک میں ایک شدید کشمکش برپا ہونے والی ہے۔ ایک طرف وہ نام نہاد مدعیانِ اسلام ہیں جن کو صرف اسلام کا نام باپ دادا سے ورثہ میں ملا ہے، لیکن اس کو طریق زندگی کی حیثیت سے انہوں نے نہ قبول کیا ہے اور نہ قبول کرنے پر تیار ہیں۔ اسلام کے نام پر جو حقوق حاصل ہو سکتے ہیں انہیں تو وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن جن پابندیوں کا اسلام مطالبہ کرتا ہے ان سے وہ خود بھی آزاد رہنا چاہتے ہیں اور ملک کو بھی آزاد رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ مسلمانوں کے اوپر کافرانہ حکومت قائم رکھنے اور کافرانہ قوانین جاری رکھنے کے ارادے رکھتے ہیں۔ دوسری طرف ان کے مقابلہ میں وہ سب لوگ ہیں جو اسلام کو اپنے طریقِ زندگی کی حیثیت سے پسند کرتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ اس ملک میں اسلام کی حکومت قائم ہو اور اسلام کا قانون جاری ہو۔ ان دونوں طاقتوں کے درمیان عنقریب ایک کشمکش رونما ہونے والی ہے۔ اس موقع پر جس طرح مردوں کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اسلام نما کفر کا ساتھ دیں گے یا حقیقی اسلام کی حمایت کریں گے، اسی طر ح مسلمان خواتین کو بھی یہ طے کرنا ہو گا کہ وہ اپنا وان کس پلڑے میں ڈالیں گی۔ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کشمکش میں کیا کیا صورتیں پیش آئیں۔ بہرحال بہنوں اور ماؤں سے میں درخواست کروں گا کہ اپنے مستقبل کے طرز عمل کا سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔ اگر وہ اسلام کو دل سے چاہتی ہیں تو انہیں اس کشمکش میں اپنا پورا وزن حقیقی اسلام کے پلڑے میں ڈالنا ہو گا۔