مسلم خواتین سے اسلام کے مطالبات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "مسلم خواتین سے اسلام کے مطالبات" ایک ایسی تحریر ہے جو نہ صرف عورت کے دینی فرائض کو واضح کرتی ہے بلکہ اسے اپنی ذاتی ذمہ داری، شعور اور ارادہ کے ساتھ اسلام کو قبول کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ بتانا ہے کہ اسلام محض نسلی ورثہ نہیں، بلکہ ایک شعوری اور جان بوجھ کر کیا گیا انتخاب ہے، جس کے تقاضوں کو پورا کرنا ہر مسلمان—چاہے مرد ہو یا عورت—پر لازم ہے۔ مولانا مودودی اس کتاب کے ذریعے مسلم خواتین کو ان کی ذاتی شناخت، ذمہ داری اور اسلامی نظامِ حیات کے ساتھ ان کے تعلق کی یاد دہانی کراتے ہیں، اور انہیں اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں کہ وہ مردوں کی شخصیت میں گم ہونے والی معاون نہیں، بلکہ اللہ کے سامنے ایک الگ اور ذمہ دار وجود ہیں۔
کتاب کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد اور انسان کو عقل وفہم عطا کرنے کی نعمت سے ہوتا ہے، جس کے ذریعے انسان کو صحیح راستہ دکھایا گیا۔ اس کے بعد مصنف دنیائے اسلام کی موجودہ حالت کا جائزہ لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ آج کے مسلمانوں کی دنیا ایک چڑیا گھر کی طرح ہے، جہاں مختلف قسم کے لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے ہیں، حالانکہ ان میں سے اکثر کفر، شک، غفلت یا منافقت کے شکار ہیں۔ یہ صورتِ حال اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ اکثریت "غیر شعوری مسلمانوں" پر مشتمل ہے—وہ لوگ جو صرف اس لیے مسلمان ہیں کہ ان کے باپ دادا مسلمان تھے، نہ کہ اس لیے کہ انہوں نے اسلام کو سوچ سمجھ کر قبول کیا ہو۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
متعلقہ نظامات: عورت و مرد کا مقام
آپ کا چوتھا کام
یہ ہے کہ اپنے گھر کے مردوں پراثر ڈالیں، اور اپنے شوہروں، باپوں، بھائیوں اور بیٹوں کو اسلام کی زندگی کی طرف بلائیں۔ عورتوں کو نہ معلوم یہ غلط فہمی کہاں سے ہو گئی ہے کہ وہ مردوں کو متاثر نہیں کر سکتیں، حلانکہ واقعہ یہ ہے کہ عورتیں مردوں پر بہت گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔ مسلمان لڑکی اگر یہ کہنے لگے کہ اس کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اورابوبکر رضی اللہ عنہٗ کی شکل پسند ہے، اور چرچل اور ٹرمین کی شکل پسند نہیں ہے، تو آپ دیکھیں گی کہ کس طرح مسلمان نوجوانوں کی شکلیں بدلنی شروع ہو جائیں گی۔ مسلمان عورت اگر کہنے لگے کہ اسے کالے ’’صاحب لوگوں‘‘ کا طرزِ زندگی مرغوب نہیں ہے بلکہ اُسے اسلامی زندگی مرغوب ہے جس میں نماز ہو، روزہ ہو، پرہیز گاری اور حسنِ اخلاق ہو، خدا کا خوف اور اسلامی آداب وتہذیب کا لحاظ ہو تو آپ کی آنکھوں کے سامنے مردوں کی زندگیاں بدلنے لگیں گی۔ مسلمان بیوی اگر صاف صاف کھول کر کہہ دے کہ اُسے حرام کی کمائی سے سجائے ہوئے ڈرائینگ روم پسند نہیں ہیں، رشوت کے روپے سے عیش وعشرت کی زندگی بسر کرنا گوارا نہیں ہے، بلکہ وہ حلال کی محدود کمائی میں روکھی سوکھی روٹی کھا کر جھونپڑے میں رہنا زیادہ عزیز رکھتی ہے، تو حرام خوری کے بہت سے اسباب ختم ہو جائیں گے اور کتنی ہی رائج الوقت خرابیوں کا ازالہ ہو جائے گا۔
اسی طرح پراگروہ تمام بہنیں جنہوں نے اسلام کو اپنے لیے دین تسلیم کر لیا ہے، اصلاح احوال کی مہم شروع کر دیں تو وہ اپنے اعزہ واقرباء، اپنے خاندان کے لوگوں اور اپنے میل ملاپ رکھنے والے گھرانوں کو بھی بہت سی خرابیوں سے بچا سکتی ہیں اور انہیں نئی اور پرانی جاہلیتوں سے پاک کر سکتی ہیں۔ آپ کا فرض ہے کہ آپ شیریں طریقے سے اپنے عزیزوں اور ملنے جُلنے والوں کے سامنے جاہلیت کے طریقوں پر تنقید کریں، انہیں اسلام کے احکام سمجھائیں، ان کو اسلام کے حدود سے آگاہ کریں اور خود بھی اسلامی حدود کی پابندی کرکے اپنا صحیح نمونہ ان کے سامنے پیش کریں۔ یوں اگر کام کیا جائے تو ہماری سوسائٹی کا پورا ڈھانچہ درست ہو سکتا ہے۔