مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

مرتد کی سزا

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ارتداد کی سزا کے مسئلے پر ایک مبسوط علمی مقالہ ہے جو ایک قاری کے تفصیلی سوال کے جواب میں لکھا گیا: کیا اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے، اس کا قرآنی ثبوت کیا ہے، اور کیا خلافتِ راشدہ میں غیر مسلموں کو اپنے مذہب کی تبلیغ کا حق حاصل تھا۔

مولانا مودودی قرآن، احادیثِ متعدد، خلفائے راشدینؓ کے فیصلوں اور خلیفہ اول حضرت ابوبکرؓ کے اہلِ رِدّہ کے خلاف جہاد کی تفصیل سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ قتلِ مرتد پر امتِ مسلمہ کا بارہ سو سالہ اجماع رہا ہے اور چاروں فقہی مذاہب اس پر متفق ہیں۔ اس کے بعد وہ دارالاسلام میں تبلیغِ کفر کے مسئلے، ذمیوں اور مستامنوں کی حیثیت، اور انگلستان و امریکہ کی اپنی قانونی مثالوں کی روشنی میں یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہر ریاست کو اپنے نظریاتی تحفظ کا فطری و قانونی حق حاصل ہوتا ہے، اور اسلامی ریاست کا مرتد کے خلاف یہ رویہ اسی اصول کی ایک صورت ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: جرم و سزا کا تصور

ریاست کا فطری حق

یہ ایک جداگانہ بحث ہے کہ ایک اسٹیٹ کا وجود بجائے خود جائز ہے یا نہیں۔ اس معاملہ میں ہمارا اور دنیوی ریاستوں (Secular States) کے حامیوں کا نقطۂ نظر بالکل مختلف ہے۔ ہمارے نزدیک خدا کی حاکمیت کے سوا ہر دوسری حاکمیت پر ریاست کی تعمیر سرے سے ناجائز ہے، اس لیے جو ریاست بجائے خود ناجائز بنیاد پر قائم ہو اس کے لیے ہم اس بات کو جائز تسلیم نہیں کرسکتے کہ وہ اپنے ناجائز وجوداور غلط نظام کی حفاظت کے لیے قوت استعمال کرے۔ اس کے برعکس ہمارے مخالفین الٰہی ریاست کو ناجائز اور صرف دنیوی ریاست ہی کو جائز سمجھتے ہیں، اس لیے ان کے نزدیک دنیوی ریاست کا اپنے وجود و نظام کی حفاظت میں جبر سے کام لینا عین حق اور الٰہی ریاست کا یہی فعل کرنا عین باطل ہے۔ لیکن اس بحث سے قطع نظر کرتے ہوئے یہ قاعدہ اپنی جگہ عالم گیر مقبولیت رکھتا ہے کہ ریاست اور حاکمیت کی عین فطرت اس امر کی مقتضی ہے کہ اسے اپنے وجود اور اپنے نظام کی حفاظت کے لیے جبر اور قوت کے استعمال کا حق حاصل ہو۔ یہ حق ریاست من حیث الریاست کا ذاتی حق ہے اور اگر کوئی چیز اس حق کو باطل بنا سکتی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ جو ریاست اس حق سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہو وہ آپ ہی باطل پر قائم ہوئی ہو۔ اس لیے کہ باطل کا وجود بجائے خود ایک جرم ہے اور اگر وہ اپنے قیام و بقا کے لیے طاقت سے کام لیتا ہے تو یہ شدید تر جرم ہو جاتا ہے۔