مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

مرتد کی سزا

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ارتداد کی سزا کے مسئلے پر ایک مبسوط علمی مقالہ ہے جو ایک قاری کے تفصیلی سوال کے جواب میں لکھا گیا: کیا اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے، اس کا قرآنی ثبوت کیا ہے، اور کیا خلافتِ راشدہ میں غیر مسلموں کو اپنے مذہب کی تبلیغ کا حق حاصل تھا۔

مولانا مودودی قرآن، احادیثِ متعدد، خلفائے راشدینؓ کے فیصلوں اور خلیفہ اول حضرت ابوبکرؓ کے اہلِ رِدّہ کے خلاف جہاد کی تفصیل سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ قتلِ مرتد پر امتِ مسلمہ کا بارہ سو سالہ اجماع رہا ہے اور چاروں فقہی مذاہب اس پر متفق ہیں۔ اس کے بعد وہ دارالاسلام میں تبلیغِ کفر کے مسئلے، ذمیوں اور مستامنوں کی حیثیت، اور انگلستان و امریکہ کی اپنی قانونی مثالوں کی روشنی میں یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہر ریاست کو اپنے نظریاتی تحفظ کا فطری و قانونی حق حاصل ہوتا ہے، اور اسلامی ریاست کا مرتد کے خلاف یہ رویہ اسی اصول کی ایک صورت ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: جرم و سزا کا تصور

اسلامی حکومت کا بنیادی مقصد

اسلام جس غرض کے لیے اپنی حکومت قائم کرتا ہے وہ محض انتظام ملکی نہیں ہے بلکہ اس کا ایک واضح اور متعین مقصد ہے جسے وہ ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:

<<ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہ ٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہ ٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ لا وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَo>> (التوبہ۹:۳۳)

’’وہ اللہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے پوری جنس دین پر غالب کر دے، خواہ شرک کر نے والوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘

<<وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہ ٗ لِلّٰہِ۔>> (الانفال۸:۳۹)

’’اور تم ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہو جائے۔‘‘

<<وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْ نُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا ۔>> (البقرہ۲:۱۴۳)

’’اور اس طرح ہم نے تم کو ایک امت وسط (بہترین گروہ) بنا دیا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو۔‘‘

ان آیات کی رُو سے پیغمبر کے مشن کا اصل مدعا یہ ہے کہ جس ہدایت اور دین حق کو وہ خدا کی طرف سے لایا ہے اسے ہر اُس نظام زندگی کے مقابلے میں غالب کر دے جو ’’دین‘‘ کی نوعیت رکھتا ہو۔ اس سے لامحالہ یہ بات لازم آتی ہے کہ جہاں پیغمبر کو اپنے اس مشن میں کامیابی حاصل ہو جائے وہاں وہ کسی ایسی دعوت کو نہ اٹھنے دے جو خدا کی ہدایت اور اس کے دین کے مقابلے میں کسی دوسرے دین یا نظام زندگی کے غلبے کی کوشش کرنا چاہتی ہو۔

پیغمبر کے بعد جس طرح اس کے جانشین اس دین کے وارث ہوتے ہیں جو وہ خدا کی طرف سے لایا تھا، اسی طرح وہ اس مشن کے بھی وارث ہوتے ہیں جس پر اللہ نے اسے مامور کیا تھا۔ ان کی تمام جدوجہد کا مقصود ہی یہ قرار پاتا ہے کہ دین پورا کا پورا اللہ کے لیے مخصوص ہو۔

لہٰذا جہاں معاملات زندگی اُن کے قبضہ و اختیار میں آجائیں اور جس ملک یا جس سرزمین کے انتظام کے متعلق انھیں پوری طرح خدا کے سامنے ذمہ دارانہ گواہی دینی ہو، وہاں ان کے لیے یہ کسی طرح بھی جائز نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنی حفاظت و نگرانی میں خدا کے دین کے بالمقابل کسی دوسرے دین کی دعوت کو پھیلنے کا موقع دیں۔ اس لیے کہ ایسا موقع دینے کے معنی لازماً یہ ہیں کہ دین پورا کا پورا اللہ کے لیے نہ ہونے پائے اور کسی غلط نظام زندگی کا فتنہ اگر باقی ہے تو وہ اور زیادہ بڑھے۔ آخر وہ خدا کے سامنے گواہی کس چیز کی دیں گے، کیا اس چیز کی کہ جہاں تو نے ہمیں حکمرانی کی طاقت بخشی تھی وہاں ہم تیرے دین کے مقابلے میں ایک فتنے کو سر اٹھانے کا موقع دے آئے ہیں؟