مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

اسلام دور جدید کا مذہب

اشاعت: 1968ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "اسلام دور جدید کا مذہب" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے ان خیالات کا ایک جامع مجموعہ ہے جو انہوں نے مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں کو دیے گئے انٹرویوز کے ذریعے پیش کیے۔ یہ کتاب دراصل چار مختلف انٹرویوز پر مشتمل ہے جو بالترتیب بی بی سی لندن، ڈیلی سن لندن، سوئس ٹیلی ویژن اور اٹلی ٹیلی ویژن کے لیے ریکارڈ کیے گئے تھے۔ ان تمام انٹرویوز میں مولانا مودودی اسلام کے جامع نظامِ حیات کی وضاحت کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے جو جدید دور کے تمام چیلنجز کا مؤثر جواب دے سکتا ہے۔

کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اسلام ایک ازلی اور ابدی حقیقت ہے جو کسی خاص زمان و مکان کی پابند نہیں۔ اس لیے اسے "پرانا" یا "جدید" کہنا بے معنی ہے۔ مودودی واضح الفاظ میں کہتے ہیں: "صداقت ہر حال میں صداقت ہے، اس کے قدیم یا جدید ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔" اس بنیادی اصول کی روشنی میں وہ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اسلامی نظامِ حکومت، تعلیم، معیشت اور قانون تمام جدید ریاستوں سے برتر ہے اور اس کی بنیاد پر ایک جدید ریاست نہ صرف قائم کی جا سکتی ہے بلکہ وہ دیگر تمام نظاموں پر فائق ثابت ہو گی۔

پہلے حصے میں، جو بی بی سی لندن کے انٹرویو پر مبنی ہے، مودودی پاکستان کے دستور 1973ء میں شامل اسلامی دفعات کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ دفعات ان کی طویل جدوجہد کا نتیجہ ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اٹلی ٹیلی ویژن

اٹلی ٹیلی ویژن: برّصغیر میں اسلام کی آمد پر یہاں کے باشندوں کو بھلا کس چیز نے اپیل کیا تھا ؟

سید مودودی: برّصغیر میں اسلام پہلی صدی ہی میں آگیا تھا۔ پہلی صدی سے میری مراد پہلی صدی ہجری ہے۔ اس زمانے میں اسلام کو دو مذہبوں سے سابقہ پیش آیا۔ ایک بدھ مت دوسرے ہندو مذہب۔ بدھ ازم ایک ایسا مذہب ہے جو انسان کو رہبانیت سکھاتا ہے اور ہندوازم ایک ایسا مذہب ہے جو انسان کو ایسے مستقل طبقات میں تقسیم کرتا ہے، جو کبھی تبدیل نہیں ہو سکتے۔ اس کے علاوہ ہندومت شرک و بت پرستی پر مبنی ہے۔ اسلام جب آیا تو اُس نے یہاں ایک طرف توحید کا عقیدہ پیش کیا۔ دوسری طرف اس نے طبقاتی تقسیم کو باطل ثابت کیا اور تمام انسانیت کی وحدت پر زور دیا۔ تیسری طرف اس نے انسان کو یہ بتایا کہ اس کی ترقی کا فطری راستہ ترکِ دنیا اور رہبانیت نہیں ہے۔ بلکہ اجتماعی زندگی میں رہتے ہوئے خدا اور اس کے بندوں اور خود اپنے نفس کے حقوق ادا کرنا ہے۔ جو اثرات اسلام نے برِصغیر کے باشندوں پر ڈالے ان کا اندازہ کرنے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ جہاں اسلام کی آمد سے پہلے ایک مسلمان بھی موجود نہ تھا‘ وہاں آج کروڑوں مسلمان پائے جاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کے ذہن کو اسلام کی تعلیم توحید نے، وحدتِ انسانی کے تخیل نے اور اجتماعی زندگی کی اصلاح کے پروگرام نے اپیل کیا۔

اٹلی ٹیلی ویژن : جدید دَور کے لیے اسلام کا اجتماعی فلسفہ حیات کیا ہے؟

سید مودودی: اسلام کا اجتماعی فلسفہ حیات ہر زمانے کے لیے ہے۔ وہ موجودہ دَور کے لیے بھی اسی طرح صحیح اور دُرست ہے جس طرح قدیم دَور کے لیے تھا، اور آئندہ آنے والے ہزاروں سال کے لیے رہے گا۔ اس کا فلسفہ حیات اس تصور پر مبنی ہے کہ انسان کے لیے صحیح رویۂ زندگی اللہ وحدہٗ لاشریک کی بندگی و اطاعت اور اس قانون کی بندگی و اطاعت اور اس قانون کی پَیروی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے بھیجا ہے۔ چوں کہ یہ ساری کائنات اللہ کی سلطنت ہے اور انسان فطری طور پر اس کا بندہ ہے۔ اس لیے ہر زمانے میں انسان کے لیے صحیح رویّہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ وہ خُدا کی بندگی اور اطاعت کرے اور اس قانون کی پَیروی کرے جو اس کائنات کے بنانے والے نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے بھیجا ہے۔ یہی طریقِ زندگی ہر زمانے کے لیے ٹھیک اور دُرست ہے۔ جب کبھی انسان نے اس سے انحراف کیا، اس کو ایسے پیچیدہ مسائل سے سابقہ پیش آیا جن کو وہ اپنی عقل سے کبھی صحیح طور پر حل نہ کر سکا۔ موجودہ دور میں جو تمدن اور تہذیب کا نظام پایا جاتا ہے وہ چوں کہ خُدا کی اطاعت سے منحرف اور اس کے قانون سے بے نیاز ہے، اس لیے اس نے بھی بے شمار ایسے مسائل پیدا کر دیے ہیں، جن کے حل کرنے پر انسان قادر نہیں ہو رہا ہے۔

- مثلاً، آج خاندانی زندگی کا نظام موجودہ تہذیب ہی کی وجہ سے درہم برہم ہو رہا ہے۔

- مثلاً، اسی تہذیب و تمدن کی بدولت رنگ اور نسل کے امتیازات اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ دنیا میں کبھی انسانیت پر اتنا ظلم و ستم نہیں ہوا جتنا اس رنگ و نسل کے امتیاز کی بدولت آج ہو رہا ہے۔

- مثلاً، اس تہذیب نے نیشنل ازم کا طوفان برپا کر دیا جس کی بدولت دنیا میں دو عظیم جنگیں ہو چکی ہیں اور مزید ہوتی نظر آ رہی ہیں۔

یہ سب کچھ اسی وجہ سے تو ہے کہ انسان نے علومِ طبیعی کی طرح اپنی اجتماعی زندگی کے لیے بھی اپنی عقل ہی کو کافی سمجھ لیا ہے اور اپنی زندگی کا نظام اپنی عقل سے تصنیف کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر اس فطری نظام کو اختیار کیا جائے جو انسان کے لیے خُدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے بھیجا ہے تو یہ مسائل کبھی پیدا نہ ہوں، اور اگر کبھی پیدا ہو بھی جائیں تو ان کو آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے۔

اٹلی ٹیلی ویژن : نسل اور رنگ کا مسئلہ اسلام کس طرح حل کرتا ہے؟

سید مودودی: نسل اور رنگ کے مسئلے کے پیدا ہونے کا اصل سبب یہ ہے کہ آدمی محض اپنی جہالت اور تنگ نظری کی بنا پر یہ سمجھتا ہے کہ: جو شخص کسی خاص نسل یا ملک یا قوم میں پیدا ہو گیا ہے وہ کسی ایسے شخص کے مقابلے میں زیادہ فضیلت رکھتا ہے جو کسی دوسری نسل یا قوم یا کسی دوسرے ملک میں پیدا ہوا ہے۔ حالاں کہ انسانوں کی پیدایش ایک قدرتی امر ہے ان کے اپنے انتخاب کا نتیجہ نہیں ہے۔

اسلام ایسے تمام تعصبات کو جاہلیت قرار دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تمام انسان ایک ماں اور ایک باپ سے پیدا ہوئے ہیں اور انسان اور انسان کے درمیان فرق کی بنیاد اس کی پیدایش نہیں بلکہ اس کے اخلاق ہیں۔ اگر ایک انسان اعلیٰ درجے کے اخلاق رکھتا ہے تو خواہ وہ کالا ہو یا گورا، خواہ وہ افریقہ میں پیدا ہوا ہو یا امریکا میں یا ایشیا میں بہرحال وہ قابلِ قدر انسان ہے۔ اور اگر ایک انسان اخلاق کے اعتبار سے بُرا آدمی ہے تو خواہ کسی جگہ پیدا ہوا ہو اور اس کا رنگ خواہ کچھ ہی ہو اور اس کا تعلق خواہ کسی نسل سے ہو، وہ ایک بُرا انسان ہے۔ اسی بات کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ: کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر کوئی فضیلت اگر ہے تو وہ تقویٰ کی بنا پر ہے۔ جو شخص خدا کی صحیح صحیح بندگی کرتا ہے اور خدا کے قانون کی صحیح صحیح پیروی کرتا ہے، خواہ وہ گورا ہو یا کالا بہرحال وہ اس شخص سے افضل ہے جو خُدا ترسی اور نیکی سے خالی ہو۔

اسلام نے اسی بنیاد پر تمام نسلی اور قومی امتیازات کو مٹایا ہے۔ وہ پوری نوعِ انسانی کو ایک قرار دیتا ہے اور انسان ہونے کی حیثیت سے سب کو برابر کے حقوق دیتا ہے۔ قرآن وہ پہلی کتاب ہے جس نے انسان کے بنیادی حقوق کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔ اسلام وہ پہلا دین ہے جس نے تمام انسانوں کو جو کسی مملکت میں شامل ہوں، ایک جیسے بنیادی حقوق عطا کیے ہیں۔ فرق اگر ہے تو یہ ہے کہ اسلامی ریاست چوں کہ ایک نظریے اور اصول (ideology) پر قائم ہوتی ہے اس لیے اس نظریے کو جو لوگ مانتے ہوں‘ اسلامی ریاست کو چلانے کا کام انہی کے سپرد کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ جو لوگ اسے مانتے اور سمجھتے ہیں وہی اس پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں۔ لیکن انسان ہونے کی حیثیت سے اسلام تمام ان لوگوں کو یکساں تمدنی حقوق عطا کرتا ہے جو کسی اسلامی ریاست میں رہتے ہوں۔

اسی بنیاد پر اسلام نے ایک عالم گیر امت (world community) بنائی ہے‘ جس میں ساری دنیا کے انسان برابر کے حقوق کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں۔ حج کے موقع پر ہر شخص جا کر دیکھ سکتا ہے کہ ایشیا، افریقہ، امریکا، یورپ اور مختلف ملکوں کے لاکھوں مسلمان ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور ان کے درمیان کسی قسم کا امتیاز نہیں پایا جاتا۔ ان کو دیکھنے والا ایک ہی نظر میں یہ محسوس کر لیتا ہے کہ یہ سب ایک اُمت ہیں اور ان کے درمیان کوئی معاشرتی امتیاز نہیں ہے۔ اگر اس اُصول کو تسلیم کر لیا جائے تو دنیا میں رنگ و نسل کی تفریق کی بنا پر آج جو ظلم و ستم ہو رہا ہے‘ اس کا یک لخت خاتمہ ہو سکتا ہے۔

اٹلی ٹیلی ویژن: شراب اور سُود کی حُرمت کے کیا وجوہ ہیں؟

سید مودودی: سب سے پہلے آپ شراب کے مسئلے پر غور کریں۔ عملی بنیاد پر یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ الکوہل انسان کے جسم کے لیے بھی نقصان دہ ہے اور عقل کے لیے بھی۔ اس وقت دنیا میں الکوہلزم (شراب نوشی) ایک خطرناک مسئلے کی شکل اختیار کیے ہوئے ہے۔ بکثرت انسان ایسے ہیں جو اسی الکوہلزم کی بدولت عملاً اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں کھو چکے ہیں اور معاشرے کے لیے ایک مسئلہ بن چکے ہیں۔ اس بات کو بھی مانا جاتا ہے کہ دنیا میں بکثرت accidents (حادثات) اس وجہ سے ہوتے ہیں کہ آدمی کے خون میں اگر ایک خاص مقدار میں الکوحل موجود ہو اور اس حالت میں وہ گاڑی چلائے تو اپنی جان کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے اور دوسرے انسانوں کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔ لیکن اس پر کوئی اتفاق نہیں ہو سکا ہے کہ وہ خاص مقدار کتنی ہے جس کا پایا جانا ذہنی توازن کو بگاڑ دیتا ہے یا فلاں خاص مقدار تک الکوحل کا استعمال تمام انسانوں کے لیے یکساں مضر ہوگا اور اس سے زائد مقدار سب کے لیے نہیں مضر ہوگی۔ بہرحال یہ امر طے شدہ ہے کہ الکوحل ایک ایسی چیز ہے جو انسان کی ذہنی صلاحیتوں کو متوازن نہیں رہنے دیتی۔ یہ نسبت مختلف انسانوں کے معاملے میں مختلف ہوتی ہے اور کوئی ایسا قاعدہ کلیہ نہیں بنایا جاسکتا۔

اسی لیے اسلام نے الکوحل کو قطعی طور پر ممنوع قرار دیا ہے اور یہ اصول قرار دیا ہے کہ جو چیز حرام ہے اس کی کم سے کم مقدار بھی حرام ہے۔ کیونکہ اس کی کم مقدار کو حلال قرار دینے کے بعد کوئی خط ایسا نہیں کھینچا جاسکتا جہاں جواز کی حد ختم ہو سکے اور عدم جواز کی حد شروع ہو جائے۔ لہٰذا ’قابل عمل صورت‘ یہی ہے کہ اس کو قطعی طور پر ممنوع قرار دے دیا جائے۔ اسلام کے سوا کوئی دوسرا مذہب یا نظامِ تہذیب ایسا نہیں ہے جس نے انسان کو الکوہلزم سے بچانے میں وہ کامیابی حاصل کی ہو جو اسلام نے حاصل کی ہے۔ امریکا نے اسی صدی میں اس بات کی کوشش کی تھی کہ امریکی قوم کو شراب کے نقصانات سے بچایا جائے۔ چنانچہ امریکی دستور میں ایک ترمیم کے ذریعے سے شراب کو ممنوع قرار دیا گیا‘ لیکن یہ تجربہ ناکام ہوگیا۔ اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ شراب کا سائنٹی فک معیار پر ’مضر‘ ہونا پہلے ثابت ہو گیا تھا اور بعد میں اس کا غیر مضر ہونا ثابت ہو گیا، بلکہ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ امریکا کی حکومت اور اس کا پورا قانونی نظام اپنا سارا زور لگا کر بھی لوگوں کو شراب چھوڑنے پر آمادہ نہ کر سکا۔ یہ دراصل امریکی تہذیب کے نظام کی کمزوری تھی۔ اس کے برعکس اسلام کا تہذیبی نظام اتنا طاقت ور تھا کہ ایک حکم مسلمانوں کو شراب سے روک دینے کے لیے کافی ہو گیا اور اس حکم میں آج تک اتنی طاقت ہے کہ دنیا کی کوئی قوم اب بھی شراب سے اجتناب کے معاملے میں مسلمانوں کی برابری نہیں کرسکتی۔

جہاں تک سُود کا تعلق ہے، وہ تمام آسمانی شریعتوں میں ہمیشہ سے حرام رہا ہے۔ آج بھی بائبل میں اس کی حُرمت کا حکم موجود ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں آج سے سُود کو حلال قرار دیتا ہوں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ عیسائیت نے بھی اس حکم کو برقرار رکھا جو پہلے سے بائبل میں سُود کی حرمت کے لیے موجود تھا۔ اگر سُود کسی وقت بھی حلال کیا گیا ہوتا تو اس کا ثبوت موجود ہوتا کہ فلاں پیغمبر نے یا خدا کی فلاں کتاب نے اس کو حلال قرار دیا ہے۔ لیکن میرے علم میں نہیں ہے کہ کبھی خدا کی کسی کتاب میں اس کے حلال ہونے کا حکم آیا ہو۔

اب رہا یہ سوال کہ سُود کیوں حرام ہے؟ اس کے بارے میں یہ اُصولی بات سمجھ لینی چاہیے کہ انسان ان چیزوں کی برائی کو تو جان سکتا ہے جو جسمانی حیثیت سے اس کے لیے نقصان دہ ہوں، لیکن وہ آج تک کبھی یہ جاننے پر قادر نہیں ہوا ہے کہ کون سی غذائیں اس کے اخلاق پر بُرا اثر ڈالتی ہیں اور روحانی حیثیت سے اس کے لیے نقصان دہ ہیں۔ غذاؤں کے اخلاقی اثرات ماننے اور ٹھیک ٹھیک ان کو متعین کرنے کے ذرائع انسان کو حاصل نہیں ہیں۔ اسی لیے یہ کام خُدا نے اپنے ذمے لیا ہے کہ جو چیزیں انسان کے اخلاق اور اس کی رُوح کے لیے نقصان دہ ہیں ان کی نشان دہی وہ خود کر دے اور انھیں حرام قرار دے۔ اب اگر کوئی شخص خُدا پر اعتماد کرتا ہو تو اسے وہ چیزیں چھوڑ دینی چاہئیں جن سے اس نے منع کیا ہے اور جو خُدا پر اعتماد نہ رکھتا ہو وہ جو کچھ چاہے کھاتا رہے۔[اٹلی ٹیلی ویژن کے ریکارڈ کردہ انٹرویو کا ترجمہ ہفت روزہ ایشیا، ۱۷ اپریل ۱۹۶۹ء میں شائع ہوا) ، تدوین : س م خ]