مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

ہدایات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتابِ ہدایات میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ایک جماعتی اور انفرادی اصلاحِ زندگی کے لیے عملی اور نظریاتی رہنمائی پیش کی ہے۔ آغازِ کتاب میں خطبہ مسنونہ کے بعد شرکت کنندگان کو رخصت کرتے ہوئے مولانا مودودی بنیادی ہدایتیں دیتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ یہ تحریر ان ضروری ہدایات کا مجموعہ ہے جو جماعتی کام کو صحیح راستے پر گامزن رکھنے کے لیے درکار ہیں۔ مجموعی موضوع ایک سلیقہ وار دعوتِ اسلامی کا خاکہ ہے جس میں تعلقِ باللہ کو اولین مقام دیا گیا ہے، پھر فکرِ آخرت، اخلاقی و عملی اصلاح، جماعتی نظم و اطاعت، تربیتِ افراد، خاندانی ذمہ داریاں، باہمی اصلاح کے آداب، اجتماعی تنقید کے اصول، اور مخالفین کے مقابلے میں جہادِ فکر و عمل کے طریق کار پر تفصیلی رہنمائی موجود ہے۔

1) مقالہ و حرکتِ کتاب اور اس کی ضرورت کتاب کا مرکزی مقالہ یہ ہے کہ اسلامی سعی و جہد صرف اس وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب اس کا بنیادی محرک خالص تعلقِ الٰہی ہو۔ مولانا نے بتایا کہ جس مقصد کے لیے جماعت وجود میں آئی ہے وہ تعلقِ باللہ کے بل پر قائم ہو کر ہی کارآمد ثابت ہو گا۔ اس لیے پسِ منظر میں دعوتِ اسلامی کو ایک منظم، منضبط اور پرعزم جماعت میں تبدیل کرنے کی ضرورت بیان کی گئی ہے، تاکہ دنیاوی اور شیطانی قوتوں کے مقابلے میں دین کو نظامِ حیات کے طور پر نافذ کیا جا سکے۔

2) ابواب وار دلائل کی پیش رفت کتاب ابتدا میں تعلقِ باللہ کی اہمیت اور معنوں کی تشریح کرتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

امرائے جماعت کو نصیحت

ارکان جماعت کو اطاعتِ حکم کی نصیحت کرنے کے ساتھ میں امرائے جماعت کو بھی یہ نصیحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ حکم چلانے کا صحیح طریقہ سیکھیں۔ جس شخص کو بھی نظم جماعت کے اندر کسی ذمہ داری کا منصب سونپا جائے اور کچھ لوگ اس کے تحت امر دیے جائیں، اس کے لیے یہ ہر گز حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو کوئی بڑی چیز سمجھنے لگے اور اپنے نتائج رفقاء پر بے جا حکم جمانے لگے۔ اسے حکم چلانے میں کبریائی کی لذت نہ لینی چاہیے۔ اسے اپنے رفقاء سے نرمی اور ملاطفت کے ساتھ کام لینا چاہیے۔ اسے اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں کسی کارکن میں عدم اطاعت اور خود سری کا جذبہ ابھار دینے کی ذمہ داری خود اس کے اپنے کسی غلط طریق کار پر عائد نہ ہو جائے۔ اسے جوان اور بوڑھے، کمزور اور طاقت ور، خوش حال اور خستہ حال، سب کو ایک لکڑی سے نہ ہانکنا چاہیے، بلکہ جماعت کے مختلف افراد کی مخصوص انفرادی حالتوں پر نگاہ رکھنی چاہیے اور جو جس لحاظ سے بھی بجا طور پر رعایت کا مستحق ہو اس کو ویسی ہی رعایت دینی چاہیے۔ اسے جماعت کو ایسے طریقے پر تربیت دینی چاہیے کہ امیر جو کچھ مشورے اور اپیل کے انداز میں کہے، رفقاء اس کو حکم کے انداز میں لیں اور اس کی تعمیل کریں۔ یہ دراصل جماعتی شعور کی کمی کا نتیجہ ہے کہ امیر کی ”اپیل“ اثر انداز نہ ہو اور وہ مجبور ہو کر ”حکم“ دینے کی ضرورت محسوس کرے۔ ”حکم“ تو تنخواہ دار فوج کے سپاہیوں کو دیا جاتا ہے۔ وہ رضا کار سپاہی جو اپنے دل کے جذبے سے اپنے خدا کی خاطر اکٹھے ہوئے ہوں، خدا کے کام میں خود اپنے بنائے ہوئے امیر کی اطاعت کے لیے حکم کے محتاج نہیں ہوا کرتے۔ ان کو تو صرف یہ اشارہ مل جانا کافی ہے کہ فلاں جگہ تم کو اپنے رب کی فلاں خدمت بجالانے کا موقع مل رہا ہے۔ یہ کیفیت جس روز امرائے جماعت اور رفقائے جماعت میں پیدا ہو جائے گی، آپ دیکھیں گے کہ آپس کی وہ بہت سی بدمزگیاں آپ سے آپ ختم ہو جائیں گی جو اب وقتاً فوقتاً امیروں اور ماموروں کے درمیان پیدا ہوتی رہتی ہیں۔