مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

حقیقتِ جِنّ

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

اس مضمون میں مولانا مودودی قرآن مجید میں مذکور "جن" کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے دو بنیادی اصول وضع کرتے ہیں: پہلا یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی نامعلوم چیز کو بیان کرنے کے لیے ہماری زبان کے اسی لفظ کا انتخاب کرتا ہے جو اس سے قریب ترین مشابہت رکھتا ہو، اور دوسرا یہ کہ جب تک کوئی صریح قرینہ موجود نہ ہو، الفاظ کے وہی معنی مراد لیے جائیں گے جو لغت اور محاورے میں معروف ہیں۔

انہی اصولوں کی روشنی میں وہ لفظ "جن" کی لغوی تحقیق کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس کا مادہ "ج ن ن" پوشیدگی کے مرکزی تصور کے گرد گھومتا ہے، جیسا کہ جنین، جنت، جنان اور اسی مادے کے دیگر مشتقات سے ظاہر ہوتا ہے، اور اسی بنیاد پر وہ جنوں کی قرآنی حقیقت کو متعین کرنے کی طرف بڑھتے ہیں۔

’جن‘ کی لغوی تحقیق

قاعدۂ اوّل کے مطابق ہم کو دیکھنا چاہیے کہ عربی لغت میں لفظ ’جن‘ کا اصل کیا ہے اور اہل زبان نے اسے کس مفہوم کے لیے وضع کیا ہے۔

’جن‘ کا مادہ ج ن ن ہے۔ اس مادّے کا مرکزی تصور ’پوشیدگی‘ ہے، اور اس کے تمام مشتقات میں کسی نہ کسی طور پر یہ تصور ضرور پایا جاتا ہے۔ <<أَصْلُ الْجِنِّ سِتْرُ الشَّيْءِ عَنِ الْحَاسَّةِ>> (راغب) <<كُلُّ شَيْءٍ سَتَرَ عَنْكَ فَقَدْ جَنَّ عَنْكَ۔>> (جمہرہ ابن درید و لسان العرب) اسی بنا پر جنان ہر چیز کے جوف کو کہتے ہیں جو نظر نہیں آتا۔ رُوح کو جنان اس لیے کہتے ہیں کہ جسم اس کو چھپائے ہوئے ہے۔ دل کو جنان اس لیے کہتے ہیں کہ وہ صندوقِ سینہ میں مستور ہے۔ حریم خانہ کو جنان اس لیے کہتے ہیں کہ وہ چار دیواری میں چھپا ہوا ہوتا ہے۔ باغ کو جنت اس لیے کہتے ہیں کہ درختوں کے جھنڈ اس کی زمین کو چھپا لیتے ہیں۔ اگر باغ میں یہ صفت نہ ہو تو اس کو جنت نہیں کہہ سکتے۔ بچہ جب تک ماں کے پیٹ میں ہے جنین ہے۔ رحم کو بھی جنین کہتے ہیں۔ میت جب دفن کر دی جائے تو وہ بھی جنین ہے۔ حتیٰ کہ ہر چیز جو چھپی ہوئی ہے اس پر جنین کا اطلاق ہوگا۔ چنانچہ چھپے ہوئے کینے کو ’حقدِ جنین‘ کہا گیا ہے۔ قبر کو جَنَن کہتے ہیں۔ کفن کے لیے بھی یہ لفظ آیا ہے۔ دفن کرنے کے لیے اِجنان کا لفظ آتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے: <<وَلِيَ دَفْنَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاجْنَانَهُ عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسِ۔>> پردے اور آڑ کو جُنَّہ کہتے ہیں۔ چنانچہ قرآن میں ہے: <<اِتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً>> (المنافقون 2:63) انھوں نے اپنی قسموں کو اُس نفاق کے لیے پردہ بنا لیا ہے جو وہ اپنے دلوں میں لیے ہوئے ہیں۔ <<جَنَّهُ وَجَنَّ عَلَيْهِ۔>> ”چھپا لیا اس کو“۔ چنانچہ قرآن میں ہے: <<فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ۔>>

”جب رات کی تاریکی اس پر چھا گئی“۔ اجنان کے معنی چھپا دینا اور استجنان کے معنی چھپ جانا۔ <<جَنَّ الَّيْلُ وَجَنَانُ الَّيْلِ وَجُنُوْنُ الَّيْلِ>>۔ رات کی شدید تاریکی جو پردہ پوش ہوتی ہے۔ چنانچہ دُرَید بن الصّمہ کہتا ہے: <<وَلَوْ لَا جُنُوْنُ الَّيْلِ اَدْرَكَ رَكْضَنَا>> اور ہذلی کہتا ہے: <<حَتّٰی يَجِيْئَنِی وَجُنُّ الَّيْلِ يُوْغِلُهُ>> راز اور پوشیدگی کو بھی جِنّ کہتے ہیں۔ مثل ہے: <<لَاجِنَّ بِهٰذَا الْاَمْرِ>>۔ یعنی اس معاملے میں کوئی راز نہیں ہے۔ جن الناس اور اجنان الناس۔ آدمیوں کی اُس بھیڑ کو کہتے ہیں جس میں اگر کوئی آدمی گھر جائے تو پتا نہ چل سکے کہ کہاں ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ عربی زبان میں جِنّ کے نام سے جس نوعِ مخلوقات کو بھی موسوم کیا جائے گا وہ بہر حال غیر محسوس یا کم از کم مستور ہی ہو گی۔ جس مخلوق میں مستوری کی صفت نہ پائی جائے اُس کو اِس نام سے کبھی موسوم نہیں کیا جا سکتا۔ تمام اکابرِ اہلِ لغت نے بالاتفاق یہی بات جنوں کی وجہ تسمیہ میں لکھی ہے۔ چنانچہ جمہرہ ابن دُرید، مفردات امام راغب، صحاح، قاموس، لسان العرب، تاج العروس، غرض زبان کی کسی مستند لغت کو اُٹھا کر دیکھ لیجیے سب میں یہی لکھا ملے گا کہ ’جِنّ‘ اس نام سے اس لیے موسوم ہوئے کہ وہ نگاہوں سے پوشیدہ رہتے ہیں۔