حقیقتِ جِنّ
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
اس مضمون میں مولانا مودودی قرآن مجید میں مذکور "جن" کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے دو بنیادی اصول وضع کرتے ہیں: پہلا یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی نامعلوم چیز کو بیان کرنے کے لیے ہماری زبان کے اسی لفظ کا انتخاب کرتا ہے جو اس سے قریب ترین مشابہت رکھتا ہو، اور دوسرا یہ کہ جب تک کوئی صریح قرینہ موجود نہ ہو، الفاظ کے وہی معنی مراد لیے جائیں گے جو لغت اور محاورے میں معروف ہیں۔
انہی اصولوں کی روشنی میں وہ لفظ "جن" کی لغوی تحقیق کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس کا مادہ "ج ن ن" پوشیدگی کے مرکزی تصور کے گرد گھومتا ہے، جیسا کہ جنین، جنت، جنان اور اسی مادے کے دیگر مشتقات سے ظاہر ہوتا ہے، اور اسی بنیاد پر وہ جنوں کی قرآنی حقیقت کو متعین کرنے کی طرف بڑھتے ہیں۔
دو قاعدے
اس مسئلے کی تحقیق میں آگے قدم بڑھانے سے پہلے دو قاعدے ذہن نشین کر لیجیے :
اوّل یہ کہ اللہ تعالیٰ جب اپنی معلومات میں سے کسی ایسی شے کو جو ہمارے دائرۂ علم و ادراک سے خارج ہے، ہمارے علم میں لانا چاہتا ہے، تو لامحالہ وہ اس شے کو ہماری زبان کے کسی ایسے ہی لفظ سے تعبیر کرتا ہے جس کو ہم نے اُس چیز کے ساتھ کسی قریب تر مشابہت رکھنے والی کسی چیز کے لیے وضع کیا تھا۔ تاکہ ہم اُس شے کا کسی حد تک صحیح تصور کر سکیں جو اللہ کے علم میں ہے اور ہمارے علم میں نہیں ہے۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ حق تعالیٰ کسی چیز کو یونہی کسی مناسبت اور ربط معنوی کے بغیر کسی خاص لفظ سے موسوم کر دے ، در آں حالیکہ اس چیز کے لیے دوسرے الفاظ کو چھوڑ کر اس خاص لفظ کو ترجیح دینے کی کوئی معقول وجہ نہ ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو جس چیز کو ”جنت“ سے تعبیر کیا گیا ہے اس کے لیے ”جنت“ کا لفظ ”جہنم“ کے مقابلے میں اولیٰ نہ ہوتا، اور جس چیز کو ”نور“ سے تعبیر کیا گیا ہے اس کے لیے ”نار“ کا استعمال بھی اسی طرح جائز ہوتا جس طرح کہ نور کا لفظ ہے۔
دوم یہ کہ اللہ تعالیٰ جب انسانی زبان کا کوئی ایسا لفظ اپنی کتاب میں استعمال فرماتا ہے جس کے ایک معنی لغت اور محاورے میں معلوم و معروف ہوں تو لامحالہ کتاب الٰہی میں بھی اس لفظ کے وہی معنی قرار پائیں گے جو لغت اور محاورے میں شائع و ذائع ہیں۔ الاّ یہ کہ کسی صریح علامت سے ہم کو یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کو کسی خاص موقع پر ، یا مستقل طور پر، عام معنی سے الگ اپنے ایک اصطلاحی معنی میں استعمال فرمایا ہے۔ ایسی کوئی علامت موجود نہ ہونے کی صورت میں یہ کسی طرح درست نہیں ہو سکتا کہ لغت اور محاورے سے قطع نظر کر کے کتاب الہٰی کے کسی لفظ کا خواہ مخواہ کوئی من مانا مفہوم لے لیا جائے۔ یہ دروازہ اگر کھل جائے تو پھر تاویل وتفسیر سے گزر کر معاملہ مسخ وتحریف تک جا پہنچتا ہے، اور اس کے بعد اٹکل پچو تفسیروں کا سلسلہ کسی حد پر جا کر رک نہیں سکتا۔