دیہات میں نمازِ جمعہ
اشاعت: 1937ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مضمون ایک دیندار زمیندار کے اس سوال کے جواب میں لکھا گیا ہے جس نے اپنے گاؤں میں مسجد اور مکتب قائم کیا تھا مگر مقامی علماء اسے شہر نہ ہونے کی بنا پر جمعہ کے قیام کی اجازت نہیں دیتے تھے، جس کی وجہ سے دیہاتی آبادی جمعہ کی برکات اور دینی تعلیم سے محروم ہو رہی تھی۔
مولانا مودودی اسلام کے اجتماعیت پسند مزاج کی وضاحت کرتے ہوئے فرضیتِ جمعہ کی حکمت اور اہمیت بیان کرتے ہیں، پھر ان تمام امور کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں جن پر امت کا اتفاق ہے اور ان پر بھی جن میں فقہا کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے، خصوصاً "مصرِ جامع" کی تعریف اور دیہات میں جمعہ کے قیام کی شرائط سے متعلق مختلف مسالک کا تقابل پیش کرتے ہیں۔
مسلک حنفی کے اصل منشا کی تحقیق
اب ہمیں ایک نظر اُس زمانے کے حالات پر بھی ڈالنی چاہیے۔ وہ اسلامی حکومت کا زمانہ تھا۔ جگہ جگہ پرگنوں اور قصبوں میں قاضی اور اصحابِ شُرطہ (تھانے دار) مقرر تھے جو خصومات کے فیصلے کرتے اور مظالم کی دادرسی کرتے تھے۔ ایک کثیر جماعت کے مجتمع ہونے میں چونکہ فتنہ و فساد پیدا ہونے کا بھی احتمال ہوتا ہے، اس لیے اجتماع کی غرض سے ایسی ہی جگہ زیادہ مناسب تھی جہاں امن قائم کرنے والے موجود ہوں۔ پھر اکابرِ احناف کا زمانہ وہ تھا جب عراق اور الجزیرہ اور فارس وغیرہ ممالک کی آبادی بہت زیادہ اور گھنی تھی۔ قصبات اور دیہات کثرتِ آبادی کے سبب سے باہم پیوستہ ہو گئے تھے۔ تمدّن بھی انتہائی عروج پر تھا۔ صنعت و حرفت اور تجارت کے فروغ نے قصبوں کو بھی شہر بنا دیا تھا۔ انھی وجوہ سے ”شہر“ کی وہ تعریفیں کی گئیں جو آپ نے اوپر دیکھی ہیں۔ ورنہ فی نفسہٖ قاضی اور کوتوال کو، یا بازار اور سڑکوں کو، یا دس ہزار اور تین ہزار کی آبادی کو فرضیتِ جمعہ کے اشتراط میں کوئی بھی دخل نہیں ہے۔ اصل شرط ”مصر“ ہے اور اس کے مدلول کو متعین کرنے کے لیے ہر فقیہ مجتہد نے وہ خصوصیات بیان کی ہیں جو اس کے پیشِ نظر امصار میں پائی جاتی تھیں۔ ان خصوصیات سے قطع نظر کر کے اگر دیکھا جائے کہ وہ چیز کیا ہے جس کی بنا پر ”مصر“ کو شرطِ جمعہ قرار دیا گیا ہے، تو معلوم ہوگا کہ وہ ”مرکزیت“ کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ جو مقام کسی علاقے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہو، یا جمعہ کی غرض کے لیے مرکزی مقام ٹھہرا لیا جائے ، وہ ”مصر“ ہے۔ اور اس کے سوا گرد و پیش کے مقامات پر اقامتِ جمعہ کا ناجائز ہونا، اس معنی میں نہیں ہے کہ ان مقامات کے لوگوں سے جمعہ کا فرض ساقط ہے، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کو جمعہ کے لیے اس مرکزی مقام پر آنا چاہیے۔ اگر بغیر عذرِ شرعی کے وہ نہ آئیں گے تو گنہگار ہوں گے۔
اس باب میں فقہائے حنفیہ کے اقوال کی چھان بین کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر کی شرط عائد کرنے اور دیہات میں اقامتِ جمعہ کو ناجائز قرار دینے سے ان کا منشا بھی وہی تھا جو ہم نے سمجھا ہے۔
علامہ ابن ہمام لکھتے ہیں:
<<ولو مصر الامام موضعًا وامرهم بالاقامة فيه جاز.>> (فتح القدير ج ۱ ص ۴۰۹)
اگر امام کسی مقام کو مصر قرار دے اور لوگوں کو وہاں جمعہ پڑھنے کا حکم دے تو جائز ہوگا۔
یہاں ”مصر قرار دینے“ کا مجاز امام کو ٹھہرایا گیا ہے، اس لیے کہ صحیح معنوں میں اسلامی زندگی بغیر امام اور امیر کے نہیں ہوسکتی، لیکن جہاں بدقسمتی سے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں امامت و امارت کا منصب باقی نہ رہا ہو، کیا ناجائز ہوگا، اگر وہاں امام مالکؒ کے اصول پر مسلمانوں کی جماعت باہمی اتفاق سے اپنے علاقے کے کسی بڑے گاؤں یا قصبہ کو، جہاں مسلمانوں کی آبادی نسبتاً زیادہ ہو اور جہاں کوئی بڑی مسجد بھی موجود ہو، جمعہ کی اغراض کے لیے ”مصر“ قرار دے لے؟
آگے چل کر علامہ موصوف لکھتے ہیں:
<<ومن كان فى توابع المصر فحكمه حكم اهل المصر فى وجوب الجمعة عليه بان ياتى المصر فليصليها فيه واختلفوا فيه فعن ابى يوسف انها تجب فى ثلثة فراسخ وقال بعضهم قدر ميل وقيل قدر ميلين وقيل ستة اميال وعن مالك ستة وقيل ان امكنه ان يحضر الجمعة ويبيت بأهله من غير تكلف تجب عليه الجمعة والا فلا قال فى البدائع وهذا حسن.>> (فتح القدير ج ۱ ص ۴۱۱)
اور جو شخص مصر کے مضافات کا رہنے والا ہو، اس پر بھی اہل مصر کی طرح جمعہ فرض ہے اور لازم ہے کہ وہ وہاں جا کر نماز پڑھے۔ مضافاتِ شہر کی تعریف میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے۔ ابو یوسف کہتے ہیں کہ وہ تین کوس کی حد میں واجب ہے۔ بعض نے ایک میل ، بعض نے دو میل، بعض نے چھ میل کی حد قرار دی ہے۔ امام مالک نے بھی چھ میل کہا ہے اور قول یہ ہے کہ اگر کوئی شخص جمعہ میں شریک ہونے کے بعد رات آنے سے پہلے بلا کسی زحمت و تکلیف کے اپنے گھر پہنچ سکتا ہو، اس پر جمعہ کی حاضری واجب ہے، ورنہ نہیں۔ صاحب بدائع نے اسی قول کو پسند کیا ہے۔ بعض احادیث سے بھی اس مؤخر الذکر قول کی تائید نکلتی ہے۔ چنانچہ ترمذی نے ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے:
<<عن النبي صلى الله عليه وسلم قال الجمعة على من اواه الليل الى اهله.>>
نبیؐ نے فرمایا: جمعہ اُس پر فرض ہے جو رات تک اپنے بال بچوں میں پہنچ سکتا ہو۔
بخاری میں ہے:
<<عن عائشة زوج النبىِّ قالت كان النّاس ينتابون الجمعة من منازلهم والعوا فياتون فى الغبار فيصيبهم الغبار والعرق فيخرج منهم العرق فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم انسان منهم وهو عندى فقال لو انكم تطهرتم ليومكم هذا.>>
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ لوگ اپنی فرودگاہوں اور حوالی سے نمازِ جمعہ کے لیے آیا کرتے تھے اور ان پر گرد اور پسینے کی تہیں چڑھ جاتی تھیں۔ ایک مرتبہ رسولؐ اللہ میرے ہاں تشریف رکھتے تھے کہ ان لوگوں میں سے ایک شخص آپؐ کے پاس حاضر ہوا۔ آپؐ نے فرمایا: بہتر ہوتا اگر تم لوگ آج کے دن غسل کر لیا کرتے۔
پہلی حدیث تو صاف ہے، رہی دوسری حدیث تو اس میں یہ ذکر ہے کہ لوگ شرکتِ جمعہ کے لیے عوالی سے آیا کرتے تھے۔ عوالی اُن دیہات کا نام ہے جو مدینہ طیبہ کے مضافات میں واقع تھے اور علامہ ابن حجر نے لکھا ہے کہ یہ دیہات مدینہ سے چار میل اور اس سے زیادہ مختلف فاصلوں پر تھے۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ عوالی سے اونٹ پر یا پیدل جمعہ کے لیے آتے ہوں گے، وہ اس ریگ زار میں شام کے لگ بھگ ہی اپنے گھروں کو واپس پہنچتے ہوں گے۔ یہ اُس زمانے کی کیفیت ہے جب بسیں اور لاریاں نہ چلتی تھیں۔ اُس زمانے میں جب لوگوں کو چھ چھ میل کے فاصلوں سے آنے کے لیے کہا گیا تو آج جب کہ حمل ونقل کی آسانیاں بہت بڑھ گئی ہیں، لوگوں کے لیے بیس بیس میل سے بھی جمعہ کے لیے آنا کچھ مشکل نہیں۔ تاہم اختلاف احوال کو پیش نظر رکھ کر یہ مناسب نہیں کہ فاصلے کی مقدار میلوں کے حساب سے متعین کی جائے بلکہ وہی قید بہتر ہے جو شارع نے بیان فرمائی ہے، یعنی جو شخص نماز کے بعد مغرب تک اپنے گھر بآسانی پہنچ سکتا ہو، وہ اپنے علاقے کے صدر مقام پر جا کر جمعہ پڑھے، اور جو نہ پہنچ سکتا ہو، وہ اپنے ہی گاؤں میں ظہر کی نماز پڑھ لیا کرے۔
اس سلسلے میں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ فقہائے کرام نے مصر کی جو خصوصیات بیان کی ہیں، وہ بالکل ناقابل لحاظ نہیں ہیں۔ کسی دیہاتی علاقے کے مسلمان جب اپنے علاقے کے کسی قصبے کو جمعہ کی اغراض کے لیے ”مصر“ قرار دینا چاہیں تو انھیں انتخاب میں حسب ذیل خصوصیات کو ترجیح دینی چاہیے:
(۱) وہاں مسلمانوں کی آبادی زیادہ سے زیادہ ہو۔
(۲) کوئی بڑی مسجد موجود ہو جس میں زیادہ سے زیادہ اجتماع ہو سکتا ہو۔
(۳) کوئی ایسا عالم موجود ہو جو مسائل شرعیہ کی تعلیم دے سکے اور وعظ و تذکیر کی اچھی قابلیت رکھتا ہو۔
(۴) جہاں سرکاری حکام میں سے کوئی ایسا حاکم موجود ہو جو امن قائم رکھنے کا ذمہ دار ہو۔
(۵) جہاں اس کا بھی امکان ہو کہ آس پاس کے دیہات والے اپنی ضروریات وہاں سے خرید لے جائیں۔
یہ اُمور اقامتِ جمعہ کے شرائط میں سے نہیں ہیں، بلکہ مقامِ جمعہ کے انتخاب میں ان کو ملحوظ رکھنا انسب اور اولیٰ ہے۔
<<هذا ما عندی والله اعلم بالصواب.>>
ترجمان القرآن
(محرم ۱۳۵۶ھ بمطابق مارچ ۱۹۳۷ء)