مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

دیہات میں نمازِ جمعہ

اشاعت: 1937ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مضمون ایک دیندار زمیندار کے اس سوال کے جواب میں لکھا گیا ہے جس نے اپنے گاؤں میں مسجد اور مکتب قائم کیا تھا مگر مقامی علماء اسے شہر نہ ہونے کی بنا پر جمعہ کے قیام کی اجازت نہیں دیتے تھے، جس کی وجہ سے دیہاتی آبادی جمعہ کی برکات اور دینی تعلیم سے محروم ہو رہی تھی۔

مولانا مودودی اسلام کے اجتماعیت پسند مزاج کی وضاحت کرتے ہوئے فرضیتِ جمعہ کی حکمت اور اہمیت بیان کرتے ہیں، پھر ان تمام امور کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں جن پر امت کا اتفاق ہے اور ان پر بھی جن میں فقہا کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے، خصوصاً "مصرِ جامع" کی تعریف اور دیہات میں جمعہ کے قیام کی شرائط سے متعلق مختلف مسالک کا تقابل پیش کرتے ہیں۔

اختلافات کا اصل منشا

جیسا کہ ہم اوپر عرض کر چکے ہیں اقامتِ جمعہ میں دو امور بنیادی اہمیت رکھتے ہیں: ایک جمعہ کی فرضیت ، جو عام نمازوں سے بھی زیادہ مؤکد ہے اور ہر عاقل و بالغ ، آزاد اور تندرست مرد پر عائد ہوتی ہے۔

دوسرے اجتماعیت ، جس کا مقصد انتشار کو دور کرنا اور مسلمانوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ اجتماع اور تالف پیدا کرنا ہے۔

ائمہ مجتہدین میں سے ہر ایک نے ان دونوں پہلوؤں پر نظر رکھی ہے اور دونوں کو مرعی رکھنے کی کوشش کی ہے، لیکن اس معاملے میں اشکال یہ واقع ہوتا ہے کہ بعض حالات میں یہ دونوں پہلو جمع نہیں ہو سکتے۔ اگر فرضیت پر زیادہ زور دیا جاتا ہے تو اجتماعیت کا پہلو چھوٹ جاتا ہے۔ کیونکہ فرضیت کا تقاضا یہ ہے کہ دو چار آدمی بھی جہاں موجود ہوں، وہیں فرض ادا کر دیا جائے۔ اگر اجتماعیت پر زیادہ زور دیا جاتا ہے تو فرضیت کا پہلو کمزور ہو جاتا ہے، کیونکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں کافی اجتماع نہ ہو، وہاں افراد پر سے فرض ساقط کر دیا جائے۔ ائمہ مجتہدین نے اس اشکال کو دور کرنے کے لیے دونوں پہلوؤں میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

امام شافعی اور امام احمد نے چالیس آدمیوں کے اجتماع کو جمعہ کے لیے کافی سمجھا اور ہر ایسے قریہ میں اقامتِ جمعہ کا حکم دے دیا جہاں اجتماع کا یہ نصاب پورا ہوتا ہو۔ اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی فتویٰ دیا کہ اس قریہ سے جہاں جہاں تک اذان کی آواز پہنچتی ہو، وہاں کے ہر بالغ اور آزاد مرد پر نماز کے لیے آنا فرض ہے۔

امام مالک نے اجتماع کے لیے کم از کم ۱۲، آدمیوں کی موجودگی کو کافی قرار دیا، لہٰذا ان کے مسلک کی بنیاد پر نسبتاً زیادہ چھوٹے قریوں میں بھی اقامتِ جمعہ کا حکم دیا گیا اور ان سب لوگوں پر جمعہ کی حاضری لازمی قرار دے دی گئی جو مقامِ جمعہ سے چھے میل کی حد میں ہوں۔

امام ابو حنیفہؒ نے محسوس کیا کہ اس طرح قریہ قریہ میں اقامتِ جمعہ کی اجازت دینے سے انتشار پیدا ہوتا ہے اور اجتماع سے شارع کا جو مقصد ہے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوتا۔ انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ عراق و شام وغیرہ ممالک میں جہاں عہدِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے آثار اس وقت بالکل تازہ تھے، کہیں دیہات میں نہ منبر پائے جاتے ہیں اور نہ جامع مسجدوں کا پتا چلتا ہے۔ اُن تک حضرت علیؓ کا وہ اثر بھی پہنچا جس میں تصریح ہے کہ جمعہ صرف امصار (شہروں) میں قائم کیا جائے۔ انھوں نے یہ بھی سنا کہ جب حجاج بن یوسف نے اہواز میں جمعہ قائم کیا تو امام حسن بصری نے فرمایا: <<لعن اللہ الحجاج یترك الجمعة فی الامصار ویقیمھا فی حلاقیم البلاد>>۔ خدا کی لعنت ہو حجاج پر! یہ کم بخت شہروں کو چھوڑ کر ملک کے گوشوں میں جمعہ قائم کرتا ہے۔ ان سب باتوں پر نظر کر کے انھوں نے فتویٰ دیا کہ ہر علاقے کے صدر مقام میں جمعہ قائم کیا جائے اور جن جن لوگوں پر جمعہ کا فرض عائد ہوتا ہو، وہ تین تین میل کے مضافات سے صدر مقام پر اکٹھے ہو جایا کریں۔