مرکزی مواد پر جائیں
صحیح مسلم کی طرف واپس

صحیح مسلم #5563

مسلسل نمبر: 5563 · کتاب 37، حدیث 173

100%
زیرِ جائزہ

‏ إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ فِي الطُّرُقَاتِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَإِذَا أَبَيْتُمْ إِلاَّ الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَمَا حَقُّهُ قَالَ ‏"‏ غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الأَذَى وَرَدُّ السَّلاَمِ وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْىُ عَنِ الْمُنْكَرِ ‏"‏ ‏.‏

اردو ترجمہ

حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے ، انھوں نے عطاء بن یسار سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " راستوں میں بیٹھنے سے بچو ۔ " لوگوں نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے لیے اپنی مجلسوں میں بیٹھے بغیر چارہ نہیں وہی ہم ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اگر تم بیٹھے بغیر نہیں رہ سکتے تو راستے کا ( جہاں مجلس ہے ) حق ادا کرو ۔ " لوگوں نے پو چھا : راستے کا حق کیا ہے ؟ آپ نے فر ما یا : " نگا ہیں جھکا کر رکھنا ( چلنے والوں کے لیے ) تکلیف کا سبب بننے والی چیزوں کو ہٹانا سلام کا جواب دینا ، اچھی بات کا حکم دینا اور برا ئی سے روکنا ۔

انگریزی ترجمہ

Abu Sa'id Al-Khudri reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Avoid sitting on the paths. They (his Companions) said: Allah's Messenger, there is no other help to it (but to sit there as we) hold our meetings and discuss matters there. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: If you have to sit at all, then fulfil the rights, of the path. They said: What are their rights? Thereupon he said: Keeping the eye downward (so that you may not stare at the women), refraining from doing some harm to the other and exchanging mutual greetings (saying as-Salamu 'Alaikum to one another) and commanding the good and forbidding the evil

سند دیکھیں

حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ، بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔