مرکزی مواد پر جائیں
صحیح بخاری کی طرف واپس

صحیح بخاری #5887

مسلسل نمبر: 5887 · کتاب 77، حدیث 104

100%
زیرِ جائزہ

‏ لاَ يَدْخُلَنَّ هَؤُلاَءِ عَلَيْكُنَّ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ يَعْنِي أَرْبَعَ عُكَنِ بَطْنِهَا، فَهْىَ تُقْبِلُ بِهِنَّ، وَقَوْلُهُ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ‏.‏ يَعْنِي أَطْرَافَ هَذِهِ الْعُكَنِ الأَرْبَعِ، لأَنَّهَا مُحِيطَةٌ بِالْجَنْبَيْنِ حَتَّى لَحِقَتْ وَإِنَّمَا قَالَ بِثَمَانٍ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ بِثَمَانِيَةٍ‏.‏ وَوَاحِدُ الأَطْرَافِ وَهْوَ ذَكَرٌ، لأَنَّهُ لَمْ يَقُلْ ثَمَانِيَةَ أَطْرَافٍ‏.‏

اردو ترجمہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف رکھتے تھے۔ گھر میں ایک مخنث بھی تھا، اس نے ام سلمہ رضی اللہ عنہما کے بھائی عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا عبداللہ! اگر کل تمہیں طائف پر فتح حاصل ہو جائے تو میں تمہیں بنت غیلان ( بادیہ نامی ) کو دکھلاؤں گا وہ جب سامنے آتی ہے تو ( اس کے موٹاپے کی وجہ سے ) چار سلوٹیں دکھائی دیتی ہیں اور جب پیٹھ پھیرتی ہے تو آٹھ سلوٹیں دکھائی دیتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب یہ شخص تم لوگوں کے پاس نہ آیا کرے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ سامنے سے چار سلوٹوں کا مطلب یہ ہے کہ ( موٹے ہونے کی وجہ سے ) اس کے پیٹ میں چار سلوٹیں پڑی ہوئی ہیں اور جب وہ سامنے آتی ہے تو وہ دکھائی دیتی ہیں اور آٹھ سلوٹوں سے پیچھے پھرتی ہے کا مفہوم ہے ( آگے کی ) ان چاروں سلوٹوں کے کنارے کیونکہ یہ دونوں پہلوؤں کو گھیرے ہوئے ہوتے ہیں اور پھر وہ مل جاتی ہیں اور حدیث میں «بثمان‏» کا لفظ ہے حالانکہ از روئے قائدہ نحو کے «بثمانية‏.‏» ہونا تھا کیونکہ مراد آٹھ اطراف یعنی کنارے ہیں اور «لأطراف»،‏‏‏‏ «طرف» کی جمع ہے اور «طرف» کا لفظ مذکر ہے۔ مگر چونکہ «لأطراف» کا لفظ مذکور نہ تھا اس لیے «بثمان‏» بھی کہنا درست ہوا۔

انگریزی ترجمہ

0 `Abdullah! If Ta'if should be conquered tomorrow, I recommend you the daughter of Ghailan, for she is so fat that she has four curves in the front (of her belly) and eight at the back." So the Prophet (ﷺ) said (to his wives) "These effeminate (men) should not enter upon you (your houses)

سند دیکھیں (1 راوی)

حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَنَّ عُرْوَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ عِنْدَهَا وَفِي الْبَيْتِ مُخَنَّثٌ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنْ فُتِحَ لَكُمْ غَدًا الطَّائِفُ، فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَى بِنْتِ غَيْلاَنَ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏

ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہیں عروہ نے خبر دی، انہیں زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی اور انہیں رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ

  1. 1
    صحابی (راویِ اول)