مرکزی مواد پر جائیں
سنن ابو داؤد کی طرف واپس

سنن ابو داؤد #4815

مسلسل نمبر: 4815 · کتاب 43، حدیث 43

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بُدٌّ لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنْ أَبَيْتُمْ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الأَذَى وَرَدُّ السَّلاَمِ وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْىُ عَنِ الْمُنْكَرِ ‏"‏ ‏.‏

اردو ترجمہ

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے بچو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں اپنی مجالس سے مفر نہیں ہم ان میں ( ضروری امور پر ) گفتگو کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: پھر اگر تم نہیں مانتے تو راستے کا حق ادا کرو لوگوں نے عرض کیا: راستے کا حق کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: نگاہ نیچی رکھنا، ایذاء نہ دینا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ۔

انگریزی ترجمہ

Abu Sa`id al-Khudri reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying :Avoid sitting in the roads. The people said: Apostle of Allah! We must have meeting places in which to converse. The apostle of Allah (ﷺ) said: If you insist on meeting, give the road its due. They asked: What is the due of roads, Apostle of Allah? He replied: Lowering the eyes, removing anything offensive, returning salutation, commanding what is reputable and forbidding what is disreputable

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ زَيْدٍ، - يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ - عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔