مرکزی مواد پر جائیں
سنن ابو داؤد کی طرف واپس

سنن ابو داؤد #2505

مسلسل نمبر: 2505 · کتاب 15، حدیث 29

100%
زیرِ جائزہ
حسنHasan (Al-Albani)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ‏{‏ إِلاَّ تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ‏}‏ وَ ‏{‏ مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ يَعْمَلُونَ ‏}‏ نَسَخَتْهَا الآيَةُ الَّتِي تَلِيهَا ‏{‏ وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً ‏}‏

اردو ترجمہ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں «إلا تنفروا يعذبكم عذابا أليما» اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں عذاب دے گا ( سورۃ التوبہ: ۳۹ ) اور «‏‏‏‏ما كان لأهل المدينة» سے «يعملون» ‏‏‏‏ مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گرد و پیش ہیں ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر پیچھے رہ جائیں ( سورۃ التوبہ: ۱۰ ) کو بعد والی آیت «وما كان المؤمنون لينفروا كافة» مناسب نہیں کہ مسلمان سب کے سب جہاد کے لیے نکل پڑیں ( سورۃ التوبہ: ۱۲۲ ) نے منسوخ کر دیا ہے۔

انگریزی ترجمہ

Ibn ‘Abbas said “The Qur’anic verse “Unless you go forth, He will punish you with a grievous penalty, and the verse “It is not fitting for the people of Medina”... up to “that Allaah might required their deed with the best (possible reward) have been repealed by the verse. Nor should the believers all go forth together.”

سند دیکھیں

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔