یوسف بن تاشفینؒ کی قیادت میں مرابطین نے اندلس آ کر قشتالہ کے بادشاہ الفانسو ششم کو شکست دی، جس سے اندلس میں مسلم اقتدار کو طویل مہلت ملی۔
1085ء میں قشتالہ کے بادشاہ الفانسو ششم نے طلیطلہ (ٹولیڈو) فتح کر لیا، جس سے اندلس کی چھوٹی چھوٹی 'طائفہ' مسلم ریاستوں کو اپنے وجود کا خطرہ لاحق ہوا۔ اشبیلیہ کے حکمران المعتمد بن عباد نے، جو ادب اور شاعری کے سرپرست بھی تھے، مغرب (مراکش) کے مرابطین حکمران یوسف بن تاشفینؒ کو مدد کے لیے بلایا۔ روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ مسیحی بادشاہ کے ماتحت رہنے سے بہتر ہے کہ مرابطین کے زیرِ سایہ اونٹ چرائے جائیں۔
اکتوبر 1086ء میں بطلیوس کے قریب زلاقہ (Sagrajas) کے میدان میں یوسف بن تاشفین اور مسلم اندلسی فوجوں نے الفانسو کی فوج کو فیصلہ کن شکست دی۔ الفانسو زخمی ہو کر چند سواروں کے ساتھ بھاگا۔
اس فتح نے مسیحی ریکونکوئسٹا کی پیش رفت کو تقریباً ایک صدی کے لیے روک دیا۔ بعد میں یوسف بن تاشفین نے طائفہ ریاستوں کو ختم کر کے اندلس کو مرابطین کی سلطنت میں شامل کر لیا۔