صحرائی صنہاجہ بربروں کی اصلاحی و جہادی تحریک سے ابھرنے والی سلطنت، جو موریتانیہ سے اندلس تک پھیلی؛ 1086ء میں معرکۂ زلاقہ میں یوسف بن تاشفین نے قشتالہ کے بادشاہ الفانسو ششم کو شکست دی اور اندلس کی طوائف الملوکی کا خاتمہ کیا۔
تاریخی تسلسل
- دولتِ مرابطین
- دولتِ موحدین 1147ء–1269ء
جانشین:
عروج کے اسباب
مالکی فقیہ عبداللہ بن یاسین کی دعوت سے صحرا کے قبائل ایک تحریک میں منظم ہوئے؛ 1056ء کے بعد انہوں نے مغربِ اقصیٰ فتح کیا اور 1070ء میں مراکش شہر بسایا۔
زوال کے اسباب
اندلس کی جنگوں کا بوجھ اور موحدین کی تحریک؛ 1147ء میں موحدین نے مراکش شہر فتح کر لیا۔
حکمران (2)
یوسف بن تاشفین
1061ء – 1106ءسلطنت کو عروج دیا؛ زلاقہ کی فتح۔
علی بن یوسف
1106ء – 1143ءاندلس اور مغرب پر حکمرانی جاری رکھی۔
متعلقہ واقعات
ماخذ و وضاحت
تحریک کا آغاز تقریباً 1040ء میں ہوا؛ یہاں سیاسی اقتدار کے آغاز (1056ء) کو لیا گیا ہے۔ اس سے پہلے کا مغرب مختلف بربر امارتوں میں بٹا ہوا تھا، اس لیے پیش رو درج نہیں۔
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔