نوجوان سپہ سالار محمد بن قاسمؒ نے راجہ داہر کو شکست دے کر سندھ فتح کیا، جو برصغیر میں اسلام کی باقاعدہ آمد کا اہم سنگِ میل ہے۔
سندھ اس وقت راجہ داہر کے تحت تھا۔ روایات کے مطابق سراندیپ سے آنے والے عرب تاجروں کے جہاز کو دیبل کے قریب لوٹ لیا گیا اور اموی گورنر حجاج بن یوسف نے کارروائی کا فیصلہ کیا؛ اس کے علاوہ سیاسی و سرحدی اسباب کا بھی ذکر ہوتا ہے۔ حجاج نے اپنے نوجوان بھتیجے و داماد محمد بن قاسمؒ کو، جن کی عمر سترہ برس بتائی جاتی ہے، سندھ کی مہم پر بھیجا۔
محمد بن قاسمؒ نے 711ء کے قریب دیبل فتح کیا اور پھر نیرون، سیہون اور برہمن آباد سے ہوتے ہوئے دریائے سندھ کے کنارے راجہ داہر کو شکست دی؛ داہر میدان میں مارا گیا۔ بعد ازاں آپ نے ملتان تک علاقے فتح کیے۔ آپ نے مقامی آبادی کے ساتھ رواداری اور عدل پر مبنی نظام قائم کیا۔
اس فتح کو برصغیر میں اسلام کی باقاعدہ آمد کا سنگِ میل سمجھا جاتا ہے، اسی وجہ سے سندھ کو 'باب الاسلام' کہا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ عرب و ہند کے علمی و تجارتی روابط قائم ہوئے، اور آج کے پاکستان کی تاریخ کا آغاز بھی انہی واقعات سے جوڑا جاتا ہے۔