طارق بن زیادؒ نے جبلِ طارق عبور کر کے وادی لکہ (گواڈالیٹ) میں ویزیگوتھ بادشاہ راڈرک کو شکست دی، جس سے اسپین میں تقریباً آٹھ سو سالہ مسلم دور کا آغاز ہوا۔
شمالی افریقہ کے اموی والی موسیٰ بن نصیر نے اپنے نائب طارق بن زیادؒ کو، جو بربر نسل کے تھے، اندلس (اسپین) کی مہم پر روانہ کیا۔ اس وقت اندلس پر ویزیگوتھ بادشاہ راڈرک کی حکومت تھی، جس کے خلاف اندرونی تنازعات اور بغاوتیں بھی تھیں۔ 92 ہجری (711ء) میں طارق بارہ ہزار کے لشکر کے ساتھ آبنائے کے پار اترے، اور وہ مقام آج 'جبلِ طارق' (Gibraltar) کے نام سے جانا جاتا ہے۔
وادیِ لکہ (گواڈالیٹ) کے میدان میں راڈرک کے بہت بڑے لشکر کو شکست ہوئی اور راڈرک مارا گیا۔ روایت ہے کہ طارق نے کشتیاں جلا دیں تاکہ فوج کے پاس پیچھے ہٹنے کا راستہ نہ رہے؛ اس روایت کی تاریخی حیثیت میں مؤرخین کے درمیان اختلاف ہے۔ اس کے بعد موسیٰ بن نصیر بھی اندلس آئے اور چند برس میں تقریباً پورا جزیرہ نما اسلامی سلطنت کے تحت آ گیا۔
اندلس آگے چل کر آٹھ صدیوں تک علم، فن تعمیر، طب اور فلسفے کا مرکز رہا۔ قرطبہ، اشبیلیہ اور غرناطہ جیسے شہر یورپ کی سب سے ترقی یافتہ تہذیب کی علامت بنے، اور ان علوم نے بعد میں یورپ کی نشاۃِ ثانیہ پر گہرا اثر ڈالا۔