قریش اور دیگر قبائل کے دس ہزار کے متحدہ لشکر نے مدینہ کا محاصرہ کیا۔ حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورے پر شہر کے گرد خندق کھودی گئی، جس کے باعث محاصرہ ناکام ہوا۔
5 ہجری میں قریش نے غطفان اور دیگر قبائل کے ساتھ اتحاد کر کے مدینہ پر بڑا حملہ کیا؛ اس متحدہ لشکر کی تعداد دس ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے۔ مسلمانوں کے پاس اتنی بڑی فوج سے کھلے میدان میں مقابلے کی طاقت نہیں تھی۔ حضرت سلمان فارسیؓ نے ایران کے دستور کے مطابق شہر کے کھلے حصے کے گرد خندق کھودنے کا مشورہ دیا، جسے نبی کریم ﷺ نے قبول فرمایا۔
مسلمانوں نے چند دنوں میں شدید سردی اور بھوک کی حالت میں خندق کھودی، جسے عرب کے لشکر عبور نہ کر سکے۔ کئی ہفتوں کے محاصرے، تیز آندھی اور اتحادیوں کے باہمی اختلاف کے باعث لشکر ناکام لوٹ گیا۔ اس دوران بنو قریظہ کی عہد شکنی کا معاملہ بھی پیش آیا جس کے بعد ان کے بارے میں فیصلہ ہوا۔
قرآنِ مجید کی سورۃ الاحزاب میں اس آزمائش اور اللہ کی مدد کا ذکر ہے۔ اس کے بعد قریش کی جارحانہ قوت کمزور پڑ گئی اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اب ہم ان پر چڑھائی کریں گے، وہ ہم پر نہیں۔