احد کے پہاڑ کے دامن میں قریش نے بدر کا بدلہ لینے کے لیے حملہ کیا۔ تیر اندازوں کے درّے کی خلاف ورزی سے جنگ کا پانسہ پلٹا اور مسلمانوں کو نقصان اٹھانا پڑا۔
بدر کی شکست کا بدلہ لینے کے لیے قریش نے تقریباً تین ہزار کا لشکر جمع کیا۔ شوال 3 ہجری میں مدینہ کے شمال میں احد کے پہاڑ کے دامن میں معرکہ ہوا۔ نبی کریم ﷺ نے پچاس تیر اندازوں کو پہاڑی درے پر متعین کر کے حکم دیا کہ ہر حال میں وہیں ٹھہرے رہیں۔
ابتدا میں مسلمانوں کو برتری ملی، مگر جب قریش پسپا ہوئے تو کچھ تیر انداز مال غنیمت کے خیال سے درہ چھوڑ گئے۔ خالد بن ولید نے، جو ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے، اس موقع سے فائدہ اٹھا کر پیچھے سے حملہ کیا اور جنگ کا رخ بدل گیا۔ اس معرکے میں حضرت حمزہؓ اور مصعب بن عمیرؓ سمیت ستر کے قریب صحابہ شہید ہوئے، اور نبی کریم ﷺ خود بھی زخمی ہوئے۔
قرآن نے اس واقعے کے ذریعے مسلمانوں کو اطاعتِ رسول اور صبر کا سبق دیا (سورۃ آلِ عمران)۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ فتح کا انحصار محض تعداد پر نہیں بلکہ نظم، اطاعت اور ثابت قدمی پر ہے۔