مرکزی مواد پر جائیں
سلطنتیں و ریاستیں · اندلس (مسلم اسپین)

امارتِ غرناطہ (بنو نصر)

إمارة غرناطة

1230ء (627ھ) – 1492ء (897ھ)262 برس

آغاز1230ء (627ھ)
اختتام1492ء (897ھ)
مدت262 برس
خطہاندلس (مسلم اسپین)
بانیمحمد بن یوسف بن نصر (ابن الاحمر)
دارالحکومتغرناطہ

اندلس میں مسلمانوں کی آخری آزاد ریاست، جس نے قشتالہ کو خراج ادا کر کے ڈھائی صدیوں تک اپنا وجود برقرار رکھا۔ الحمراء محل اسی دور کا شاہکار ہے۔

تاریخی تسلسل

  1. دولتِ مرابطین 1056ء–1147ء
  2. دولتِ موحدین 1147ء–1269ء
  3. امارتِ غرناطہ (بنو نصر)
  4. مملکتِ ہسپانیہ (اسپین) 1479ء–تاحال

عروج کے اسباب

خلافتِ قرطبہ کے زوال کے بعد اندلس میں طائفہ ریاستوں، پھر مرابطین و موحدین کی حکومت کا دور آیا؛ انہی کے زوال پر 1230ء میں بنو نصر نے غرناطہ کے محفوظ پہاڑی علاقے میں امارت قائم کی۔

زوال کے اسباب

عیسائی ریاستوں کے اتحاد (فرڈیننڈ و ازابیلا) کے دباؤ اور اندرونی خاندانی چپقلش کے باعث 1492ء میں غرناطہ کی حتمی شکست کے ساتھ اندلس میں آٹھ صدیوں پر محیط مسلم اقتدار کا خاتمہ ہوا۔

حکمران (21)

  1. امارتِ غرناطہ کی بنیاد رکھی اور الحمراء کی تعمیر شروع کروائی۔

  2. محمد ثانی الفقیہ

    1273ء – 1302ء

    مرینی حملوں کے دباؤ کے دوران امارت کو مستحکم رکھا۔

  3. محمد ثالث

    1302ء – 1309ء

    مالگا کی جامع مسجد تعمیر کروائی، بعد میں معزول ہوئے۔

  4. نصر

    1309ء – 1314ء

    قشتالہ کے دباؤ میں امارت کی حدود کم ہوئیں۔

  5. اسماعیل اول

    1314ء – 1325ء

    فوجی کامیابیوں سے امارت کو نئی قوت بخشی۔

  6. محمد رابع

    1325ء – 1333ء

    نوعمری میں تخت نشین ہوئے، امرا کی رسّہ کشی کا سامنا رہا۔

  7. یوسف اول

    1333ء – 1354ء

    الحمراء کی تعمیرات جاری رکھیں اور دفاعی نظام کو مستحکم کیا۔

  8. الحمراء کی تکمیل کروائی، ایک مختصر معزولی کے بعد دوبارہ تخت نشین ہوئے اور امارت کا سب سے طویل و شاندار دور مکمل کیا۔

  9. محمد سادس (البرمیجو)

    1360ء – 1362ء

    محمد خامس کی معزولی کے دوران مختصر عرصے کے لیے تخت پر قابض رہے۔

  10. یوسف ثانی

    1391ء – 1392ء

    مختصر دور، ممکنہ طور پر زہر دیے جانے سے وفات پائی۔

  11. محمد سابع

    1392ء – 1408ء

    قشتالہ کے ساتھ کشیدگی کے باوجود امارت کو برقرار رکھا۔

  12. یوسف ثالث

    1408ء – 1417ء

    علم و ادب کے سرپرست، مگر امارت کی طاقت کمزور پڑنے لگی۔

  13. محمد ثامن (الصغیر)

    1417ء – 1419ء

    دو مرتبہ تخت نشین ہوئے؛ ان کا دور امرا کی رسّہ کشی سے متاثر رہا۔

  14. محمد تاسع (الایسر)

    1419ء – 1427ء

    پندرہویں صدی کے وسط میں کئی بار تخت پر آئے اور اترے — دور کے سب سے بااثر حکمران۔

  15. یوسف رابع ابن المول

    1432ء

    بنو سراج قبیلے کی حمایت سے مختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔

  16. محمد دہم (الاعرج)

    1445ء – 1447ء

    محمد تاسع کے حریف کے طور پر متعدد بار تخت کا دعویٰ کیا۔

  17. یوسف خامس

    1445ء – 1446ء

    خانہ جنگی کے دور میں مختصر عرصوں کے لیے تخت نشین ہوئے۔

  18. سعد (ابونصر سعد)

    1454ء – 1464ء

    محمد تاسع کے بعد امارت پر قابض ہوئے، بعد میں اپنے بیٹے ابوالحسن علی کے ہاتھوں معزول ہوئے۔

  19. والد سعد کو معزول کر کے تخت سنبھالا؛ ان کے دور میں بیٹے ابوعبداللہ (بوابدل) کے ساتھ اقتدار کی رسّہ کشی نے امارت کو کمزور کیا۔

  20. آخری حکمران، جس نے 1492ء میں غرناطہ عیسائیوں کے حوالے کیا۔

  21. محمد ثالث عشر (الزغل)

    1485ء – 1487ء

    اپنے بھتیجے بوابدل کے حریف کے طور پر مالگا کے علاقے پر حکومت کی، غرناطہ کے سقوط سے کچھ عرصہ قبل ہسپانویوں کے حوالے ہوئے۔

متعلقہ واقعات

ماخذ و وضاحت

1417ء–1465ء کا دور نہایت غیر مستحکم رہا، جس میں کئی حکمرانوں نے متعدد بار (بعض اوقات ایک ہی وقت میں حریف کے طور پر) تخت پر دعویٰ کیا — یہاں ہر دور کی صرف نمائندہ مدت درج کی گئی ہے۔