اندلس میں مسلمانوں کی آخری آزاد ریاست، جس نے قشتالہ کو خراج ادا کر کے ڈھائی صدیوں تک اپنا وجود برقرار رکھا۔ الحمراء محل اسی دور کا شاہکار ہے۔
تاریخی تسلسل
- دولتِ مرابطین 1056ء–1147ء
- دولتِ موحدین 1147ء–1269ء
- امارتِ غرناطہ (بنو نصر)
- مملکتِ ہسپانیہ (اسپین) 1479ء–تاحال
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
جانشین:
عروج کے اسباب
خلافتِ قرطبہ کے زوال کے بعد اندلس میں طائفہ ریاستوں، پھر مرابطین و موحدین کی حکومت کا دور آیا؛ انہی کے زوال پر 1230ء میں بنو نصر نے غرناطہ کے محفوظ پہاڑی علاقے میں امارت قائم کی۔
زوال کے اسباب
عیسائی ریاستوں کے اتحاد (فرڈیننڈ و ازابیلا) کے دباؤ اور اندرونی خاندانی چپقلش کے باعث 1492ء میں غرناطہ کی حتمی شکست کے ساتھ اندلس میں آٹھ صدیوں پر محیط مسلم اقتدار کا خاتمہ ہوا۔
حکمران (21)
محمد اول (ابن الاحمر)
1232ء – 1273ءامارتِ غرناطہ کی بنیاد رکھی اور الحمراء کی تعمیر شروع کروائی۔
محمد ثانی الفقیہ
1273ء – 1302ءمرینی حملوں کے دباؤ کے دوران امارت کو مستحکم رکھا۔
محمد ثالث
1302ء – 1309ءمالگا کی جامع مسجد تعمیر کروائی، بعد میں معزول ہوئے۔
نصر
1309ء – 1314ءقشتالہ کے دباؤ میں امارت کی حدود کم ہوئیں۔
اسماعیل اول
1314ء – 1325ءفوجی کامیابیوں سے امارت کو نئی قوت بخشی۔
محمد رابع
1325ء – 1333ءنوعمری میں تخت نشین ہوئے، امرا کی رسّہ کشی کا سامنا رہا۔
یوسف اول
1333ء – 1354ءالحمراء کی تعمیرات جاری رکھیں اور دفاعی نظام کو مستحکم کیا۔
محمد خامس (پہلا و دوسرا دور)
1354ء – 1391ءالحمراء کی تکمیل کروائی، ایک مختصر معزولی کے بعد دوبارہ تخت نشین ہوئے اور امارت کا سب سے طویل و شاندار دور مکمل کیا۔
محمد سادس (البرمیجو)
1360ء – 1362ءمحمد خامس کی معزولی کے دوران مختصر عرصے کے لیے تخت پر قابض رہے۔
یوسف ثانی
1391ء – 1392ءمختصر دور، ممکنہ طور پر زہر دیے جانے سے وفات پائی۔
محمد سابع
1392ء – 1408ءقشتالہ کے ساتھ کشیدگی کے باوجود امارت کو برقرار رکھا۔
یوسف ثالث
1408ء – 1417ءعلم و ادب کے سرپرست، مگر امارت کی طاقت کمزور پڑنے لگی۔
محمد ثامن (الصغیر)
1417ء – 1419ءدو مرتبہ تخت نشین ہوئے؛ ان کا دور امرا کی رسّہ کشی سے متاثر رہا۔
محمد تاسع (الایسر)
1419ء – 1427ءپندرہویں صدی کے وسط میں کئی بار تخت پر آئے اور اترے — دور کے سب سے بااثر حکمران۔
یوسف رابع ابن المول
1432ءبنو سراج قبیلے کی حمایت سے مختصر عرصے کے لیے تخت نشین ہوئے۔
محمد دہم (الاعرج)
1445ء – 1447ءمحمد تاسع کے حریف کے طور پر متعدد بار تخت کا دعویٰ کیا۔
یوسف خامس
1445ء – 1446ءخانہ جنگی کے دور میں مختصر عرصوں کے لیے تخت نشین ہوئے۔
سعد (ابونصر سعد)
1454ء – 1464ءمحمد تاسع کے بعد امارت پر قابض ہوئے، بعد میں اپنے بیٹے ابوالحسن علی کے ہاتھوں معزول ہوئے۔
ابوالحسن علی (مولاے حسن)
1464ء – 1485ءوالد سعد کو معزول کر کے تخت سنبھالا؛ ان کے دور میں بیٹے ابوعبداللہ (بوابدل) کے ساتھ اقتدار کی رسّہ کشی نے امارت کو کمزور کیا۔
محمد ثانی عشر (ابوعبداللہ، بوابدل)
1482ء – 1492ءآخری حکمران، جس نے 1492ء میں غرناطہ عیسائیوں کے حوالے کیا۔
محمد ثالث عشر (الزغل)
1485ء – 1487ءاپنے بھتیجے بوابدل کے حریف کے طور پر مالگا کے علاقے پر حکومت کی، غرناطہ کے سقوط سے کچھ عرصہ قبل ہسپانویوں کے حوالے ہوئے۔
متعلقہ واقعات
ماخذ و وضاحت
1417ء–1465ء کا دور نہایت غیر مستحکم رہا، جس میں کئی حکمرانوں نے متعدد بار (بعض اوقات ایک ہی وقت میں حریف کے طور پر) تخت پر دعویٰ کیا — یہاں ہر دور کی صرف نمائندہ مدت درج کی گئی ہے۔
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔