یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ
اشاعت: 1959ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ" محض ایک فقہی بحث سے کہیں آگے کی چیز ہے؛ یہ دراصل ایک افکاری جدوجہد کا حصہ ہے جس میں شریعتِ اسلامیہ کی بنیادوں، خصوصاً قرآن و سنت کی حتمیت اور حدیث کی حیثیت کے خلاف اُٹھائے جانے والے چیلنجز کا جائزہ لیا گیا ہے۔ مصنف نے اس وقت یہ کتاب تحریر کی جب معاشرے میں 'یتیم پوتے کی وراثت' کا مسئلہ اخبارات اور عوامی تبصروں کا مرکزِ توجہ بن چکا تھا۔ لیکن مودودی صاحب نے اسے صرف ایک فقہی اختلاف تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کے پیچھے کارفرما ذہنی رویوں، افکاری نظاموں اور منکرین حدیث کے مقاصد کو بھی واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ جو لوگ یتیم پوتے کو دادا کی میراث میں شریک کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، ان کا اصل مقصد وراثت کے معاملے کو حل کرنا نہیں بلکہ حدیث کے خلاف اپنے موقف کو قائم کرنے کا ایک موقع فراہم کرنا ہے۔
باب اول میں مودودی صاحب نے اس مسئلے کو اس کے سیاسی، سماجی اور افکاری تناظر میں پیش کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ مسئلہ محض فقہی اختلاف کا معاملہ نہیں بلکہ امت کے تمام مکاتبِ فکر — خواہ وہ اہل سنت ہوں یا شیعہ، حنفی ہوں یا ظاہری — کے طویل عرصے سے قائم اتفاق کے خلاف ایک جدید تحریک ہے۔ اس تحریک کے پیچھے وہ ذہنی کجی کارفرما ہے جو شریعت کی بنیادوں کو ہلا دینا چاہتی ہے۔ مصنف کا مؤقف یہ ہے کہ اسلامی وراثت کے احکام قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب ہوئے ہیں اور ان میں ذاتی رائے یا جدید تعبیر کی گنجائش نہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
متعلقہ نظامات: میراثِ کیلکولیٹر
قائم مقامی کے اصول کی غلطی
اب میں یہ بتاؤں گا کہ فوت شدہ بیٹے اور بیٹی کی اولاد کو وارث قرار دینے پر اصولاً کیا اعتراضات وارد ہوتے ہیں اور یہ تجویز ایک معقول اور منظم قانونِ میراث کو کس طرح غیر معقول اور پراگندہ کرکے رکھ دیتی ہے۔
اس پر پہلا اعتراض یہ ہے کہ یہ اسلامی قانونِ میراث میں ’’قائم مقامی‘‘ کا ایک بالکل غلط نظریہ داخل کر دیتی ہے جس کا کوئی ثبوت قرآن میں ہم کو نہیں ملتا۔ قرآن کی رُو سے جو شخص بھی میراث کا کوئی حصّہ پاتا ہے خود میت کا اقرب ہونے کی حیثیت سے پاتا ہے نہ کہ کسی دوسرے اقرب کے قائم مقام کی حیثیت سے۔ اولاد کی غیرموجودگی میں اولاد کی اولاد اور والدین کی غیرموجودگی میں والدین کے والدین اس لیے میراث نہیں پاتے کہ وہ کسی کے قائم مقام ہیں بلکہ اس لیے پاتے ہیں کہ بلا واسطہ اولاد اور بلاواسطہ والدین کی غیرموجودگی میں بالواسطہ اولاد اور بالواسطہ والدین کو آپ سے آپ حقِ ولدیت اور حقِ والدیت پہنچ جاتا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ بیوی اور شوہر کے وارث چونکہ کوئی بالواسطہ یا بلاواسطہ حق زوجیت نہیں رکھتے۔ اس لیے ایک مرد کے مرنے پر اس کی فوت شدہ بیوی یا ایک عورت کے مرنے پر اس کے فوت شدہ شوہر کا حصّہ کسی حال میں بھی اس کے وارثوں کو نہیں ملتا۔ ورنہ اگر قائم مقامی کا اصول واقعی اسلامی قانون میں موجود ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ ساس اور خسر اور سالے اور سوتیلے بچے میراث میں حصّہ نہ پاتے۔
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ قائم مقامی کا اصول تسلیم کر لینے کے بعد یہ تجویز اس کو صرف بیٹے، بیٹیوں کی اولاد تک محدود رکھتی ہے حالانکہ اس کے لیے کوئی معقول دلیل موجود نہیں ہے۔ اگر قائم مقامی کا اصول واقعی کوئی صحیح اصول ہے تو پھر قانون یہ ہونا چاہیے:
’’ہر ایسا شخص جو مورث کی وفات کے بعد زندہ موجود ہونے کی صورت میں شرعاً وارث ہوتا وہ اگر مورث کی زندگی ہی میں مر گیا ہو تو اس کے تمام شرعی وارثوں کو اس کا قائم مقام مانا جائے گا اور وہ مورث کی وفات کے بعد میراث میں سے حصّہ پائیں گے۔‘‘
مثلاً ایک شخص کی بیوی اس کی زندگی میں مر چکی تھی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اب شوہر کے ترکے میں اس فوت شدہ بیوی کے وارث اس کے قائم مقام نہ مانے جائیں؟ ایک شخص کا باپ اس کی زندگی میں مر گیا تھا۔ قائم مقامی کا اصول تسلیم کر لینے کے بعد کون سی معقول دلیل ایسی ہے جس کی بنا پر اس متوفی باپ کے تمام وارثوں کو اس کا قائم مقام مان کر سب کو اس شخص کے ترکے میں حصّہ دار نہ بنایا جائے؟ ایک شخص کے چار چھوٹے بچے اس کی زندگی میں مر چکے تھے۔ کیا وجہ ہے کہ ان بچوں کی ماں ان کی قائم مقام نہ مانی جائے اور شوہر کے مرنے پر حق زوجیت کے علاوہ اسے ان مرے ہوئے بچوں کا حصّہ بھی بحیثیت قائم مقام نہ ملے؟ ایک شخص کا ایک شادی شدہ لڑکا اس کی زندگی میں لاولد مر گیا تھا۔ کیا وجہ ہے کہ اس کی بیوہ اس کی قائم مقام ہو کر خسر کے ترکے میں سے حصّہ نہ لے؟ صرف اولاد کی اولاد تک اس قائم مقامی کے اصول کو محدود رکھنا اور دوسرے سب لوگوں کو اس سے مستثنیٰ کر دینا اگر کسی قرآنی دلیل پر مبنی ہے تو اس کی نشان دہی کی جائے اور اگر کسی عقلی دلیل پر مبنی ہے تو اسے بھی چھپا کر نہ رکھا جائے۔ ورنہ پھر سیدھی طرح یہ کہہ دیا جائے کہ جس طرح قائم مقامی کا اصول خود ساختہ ہے اسی طرح اس کا انطباق بھی من مانے طریقے پر کیا جائے گا۔
تیسرا اعتراض یہ ہے کہ یہ تجویز ان اصولوں کے بالکل خلاف ہے جو قانونی سمجھ بوجھ رکھنے والا کوئی آدمی قرآن مجید کے احکام میراث سے سمجھ سکتا ہے۔ قرآن کی رو سے کوئی حق وراثت مورث کی زندگی میں پیدا نہیں ہوتا مگر یہ تجویز اس مفروضے پر قائم ہے کہ یہ حق مورث کی زندگی ہی میں قائم ہو جاتا ہے اور صرف اس کا نفاذ مورث کے مرنے تک ملتوی رہتا ہے۔ قرآن کی رو سے میراث میں صرف ان لوگوں کا حصّہ ہے جو مورث کی وفات کے وقت زندہ موجود ہوں مگر یہ تجویز ان لوگوں کا حق بھی ثابت کرتی ہے جو اس کی زندگی میں مر چکے ہوں۔
چوتھا اعتراض یہ ہے کہ قرآن بعض رشتہ داروں کے حصّے قطعی طور پر مقرر کر دیتا ہے جن میں کمی بیشی کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے، مگر قائم مقامی کا اصول خود قرآن کے مقرر کیے ہوئے بعض حصّوں میں کمی اور بعض میں بیشی کر دیتا ہے۔ مثلاً فرض کیجیے کہ ایک شخص کے دو ہی لڑکے تھے اور دونوں اس کی زندگی میں وفات پا گئے۔ ایک لڑکا اپنے پیچھے چار بچے چھوڑ کر مرا۔ دوسرا لڑکا صرف ایک بچہ چھوڑ کر مرا۔ قرآن کی رُو سے یہ پانچوں پوتے حق ولدیت میں بالکل برابر ہیں۔ اس لیے دادا کے ترکے میں سے ان سب کو برابر حصّہ ملنا چاہیے، مگر قائم مقامی کے اصول پر اس کی جائداد میں سے آٹھ آنے ایک پوتے کو ملیں گے اور باقی چار پوتوں کے حصّے میں صرف دو دو آنے آئیں گے۔