مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

اس کتاب کا مرکزی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ تحریکِ اسلامی کا حقیقی مقصود محض فردی عبادات یا ذاتی نیکیوں تک محدود نہیں، بلکہ وہ ایک جامع اجتماعی انقلاب ہے جس کا ہدف 'انقلابِ امامت' ہے؛ یعنی دنیا میں فسّاق و فجّار کی قیادت ختم کرکے صالحین کی امامت کا نظام قائم کرنا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسانی مصائب کی جڑ برائی کے وجود میں نہیں، بلکہ برائی کی قیادت میں ہے۔ جب تک معاملاتِ دنیا کی زمام کار نیک لوگوں کے ہاتھ میں نہ آجائے، تمام تہذیبی، اقتصادی، سیاسی اور اخلاقی نظام بدترین انداز میں متاثر رہیں گے۔

باب اول میں مصنف یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام کا اصل مقصد صرف فردی عبادات نہیں، بلکہ ایک ایسا اجتماعی نظام قائم کرنا ہے جس میں اللہ کا قانون نافذ ہو اور زمین سے فساد مٹ جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے مومنین کو اجتماعی طاقت بن کر نظامِ حق کے قیام کے لیے جدوجہد کرنی ہوگی۔ قرآن و حدیث میں جماعت کی اطاعت اور جہاد کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کیونکہ یہ دونوں ہی نظامِ حق کی تشکیل و حفاظت کے ذرائع ہیں۔ جو شخص اس جدوجہد سے کنارہ کشی کرتا ہے، اس کا ایمان مشکوک ہے، چاہے وہ نماز و روزہ کیوں نہ پڑھتا ہو۔ مصنف یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ الٰہی سنت کے تحت، نظامِ امامت کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی اخلاقی حیثیت کو فعال کرے اور الٰہی قوانین کے مطابق عمل کرے۔

باب دوم میں مودودی یہ ثابت کرتے ہیں کہ انسانی عروج و زوال کا مدار اخلاق پر ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

زمامِ کار کی اہمیت

انسانی زندگی کے مسائل میں جس کو تھوڑی سی بصیرت حاصل ہو، وہ اس حقیقت سے بے خبر نہیں رہ سکتا کہ انسانی معاملات کے بناؤ اور بگاڑ کا آخری فیصلہ جس مسئلے پر منحصر ہے وہ یہ سوال ہے کہ معاملات انسانی کی زمامِ کار کس کے ہاتھ میں ہے۔ جس طرح گاڑی ہمیشہ اس طرف چلا کرتی ہے، جس سمت پر ڈرائیور اسے لے جانا چاہتا ہے اور دوسرے لوگ جو گاڑی میں بیٹھے ہوں، خواستہ وناخواستہ اُسی سمت پر سفر کرنے کے لیے مجبور ہوتے ہیں، اِسی طرح انسانی تمدن کی گاڑی بھی اسی سمت پر سفر کیا کرتی ہے جس سمت پر وہ لوگ جانا چاہتے ہیں جن کے ہاتھ میں تمدن کی باگیں ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ زمین کے سارے ذرائع جن کے قابو میں ہوں، قوت واقتدار کی باگیں جن کے ہاتھ میں ہوں، عام انسانوں کی زندگی جن کے دامن سے وابستہ ہو، خیالات وافکار ونظریات کو بنانے اور ڈھالنے کے وسائل جن کے قبضے میں ہوں، انفرادی سیرتوں کی تعمیر اور اجتماعی نظام کی تشکیل اور اَخلاقی قدروں کی تعیین جن کے اختیار میں ہو، ان کی راہ نمائی وفرماں روائی کے تحت رہتے ہوئے انسانیت بحیثیت مجموعی اس راہ پر چلنے سے کسی طرح باز نہیں رہ سکتی جس پر وہ اسے چلانا چاہتے ہیں۔ یہ راہ نما وفرماں روا اگر خدا پرست اور صالح لوگ ہوں تو لامحالہ زندگی کا سارا نظام خدا پرستی اور خیر وصلاح پر چلے گا، بُرے لوگ بھی اچھے بننے پر مجبور ہوں گے، بھلائیوں کو نشوونما نصیب ہو گی اور برائیاں اگر مٹیں گی نہیں تو کم از کم پروان بھی نہ چڑھ سکیں گی لیکن اگر راہ نمائی وقیادت اور فرمانروائی کا یہ اقتدار ان لوگوں کے ہاتھ میں ہو جو خدا سے برگشتہ[باغی] اور فسق وفجور میں سرگشتہ [وفادار]ہوں تو آپ سے آپ سارا نظامِ زندگی خدا سے بغاوت اورظلم وبد اَخلاقی پر چلے گا، خیالات ونظریات، علوم وآداب، سیاست ومعیشت، تہذیب ومعاشرت، اَخلاق ومعاملات، عدل وقانون، سب کے سب بحیثیت مجموعی بگڑ جائیں گے۔ برائیاں خوب نشوونما پائیں گی۔ بھلائیوں کو زمین اپنے اندر جگہ دینے سے اور ہوا اور پانی انھیں غذا دینے سے انکار کر دیں گے اور خدا کی زمین ظلم وجور سے لبریز ہو کر رہے گی، ایسے نظام میں برائی کی راہ چلنا آسان اور بھلائی کی راہ پر چلنا کیا معنی، قائم رہنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ جس طرح آپ نے کسی بڑے مجمع میں دیکھا ہو گا کہ سارا مجمع جس طرف جا رہا ہو اس طرف چلنے کے لیے تو آدمی کو کچھ قوت لگانے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ مجمع کی قوت سے خود بخود اسی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے، لیکن اگر اس کی مخالف سمت میں کوئی چلنا چاہے تو وہ بہت زور مار کر بھی بہ مشکل ایک آدھ قدم چل سکتا ہے، اور جتنے قدم وہ چلتا ہے مجمع کا ایک ہی ریلا اس سے کئی گُنا زیادہ قدم اُسے پیچھے دھکیل دیتا ہے، اسی طرح اجتماعی نظام بھی جب غیر صالح لوگوں کی قیادت میں کفر وفسق کی راہوں پر چل پڑتا ہے تو افراد اورگروہوں کے لیے غلَط راہ پر چلنا تو اتنا آسان ہوجاتا ہے کہ انھیں بطور خود اس پر چلنے کے لیے کچھ زورلگانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ لیکن اگر وہ اس کے خلاف چلنا چاہیں تو اپنے جسم وجاں کا سارا زور لگانے پر بھی ایک آدھ قدم ہی راہِ راست پر بڑھ سکتے ہیں اور اجتماعی رو اُن کی مزاحمت کے باوجود انھیں دھکیل کر میلوں پیچھے ہٹا لے جاتی ہے۔

یہ بات جو میں عرض کر رہا ہوں، یہ اب کوئی ایسی نظری حقیقت نہیں رہی ہے جسے ثابت کرنے کے لیے دلائل کی ضرورت ہو، بلکہ واقعات نے اسے ایک بدیہی حقیقت بنا دیا ہے جس سے کوئی صاحبِ دیدۂ بینا[گہرائی تک دیکھنے والی آنکھ]انکار نہیں کر سکتا۔ آپ خود ہی دیکھ لیں کہ پچھلے سو برس کے اندر آپ کے اپنے ملک میں کس طرح خیالات ونظریات بدلے ہیں، مذاق اور مزاج بدلے ہیں، سوچنے کے انداز اور دیکھنے کے زاویے بدلے ہیں، تہذیب واَخلاق کے معیار اور قدروقیمت کے پیمانے بدلے ہیں، اور کون سی چیز رہ گئی ہے جو بدل نہ گئی ہو۔ یہ سارا تغیر جو دیکھتے ہی دیکھتے آپ کی اسی سرزمین میں ہوا اس کی اصلی وجہ آخر کیا ہے؟ کیا آپ اس کی وجہ اس کے سوا کچھ اور بتا سکتے ہیں کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں زمامِ کار تھی، اور راہ نمائی و فرمانروائی کی باگوں پر جن کا قبضہ تھا، انھوں نے پورے ملک کے اَخلاق، اذہان، نفسیات، معاملات اور نظامِ تمدّن کو اُس سانچے میں ڈال کر رکھ دیا جو اُن کی اپنی پسند کے مطابق تھا؟ پھر جن طاقتوں نے اس تغیر کی مزاحمت کی ذرا ناپ کردیکھیے کہ انھیں کامیابی کتنی ہوئی اور ناکامی کتنی۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ کل جو مزاحمت کی تحریک کے پیشوا تھے، آج اُن کی اولاد وقت کی رَو میں بہی چلی جا رہی ہے اور ان کے گھروں تک میں بھی وہی سب کچھ پہنچ گیا ہے جو گھروں سے باہر پھیل چکا تھا؟ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ مقدس ترین مذہبی پیشواؤں تک کی نسل سے وہ لوگ اٹھ رہے ہیں جنھیں خدا کے وجود اور وحی ورسالت کے امکان میں بھی شک ہے؟ اس مشاہدے اور تجربے کے بعد بھی کیا کسی کو اس حقیقت کے تسلیم کرنے میں تامل ہو سکتا ہے کہ انسانی زندگی کے مسائل میں اصل فیصلہ کُن مسئلہ زمامِ کار کا مسئلہ ہے؟ اور یہ اہمیت اس مسئلے نے کچھ آج ہی اختیار نہیں کی ہے بلکہ ہمیشہ سے اس کی یہی اہمیت رہی ہے۔ <<اَلنَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مُلُوْکِھِمْ >> (لوگ اپنے بادشاہوں کے طریقے پر ہوتے ہیں) بہت پرانا مقولہ ہے۔ اور اسی بنا پر حدیث میں قوموں کے بناؤ اور بگاڑ کا ذمہ دار ان کے علما اور اُمرا کو قرار دیا گیا ہے، کیوں کہ لیڈر شپ اور زمامِ کار انھی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔