تعلیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی کتاب "تعلیمات" ایک ایسی علمی و فکری دستاویز ہے جو مسلمانوں کے موجودہ تعلیمی نظام کی بنیادی خرابیوں کو بے نقاب کرتی ہے اور اس کی اصلاح کے لیے ایک انقلابی، جامع اور اسلامی نظامِ تعلیم کا خاکہ پیش کرتی ہے۔ کتاب کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ محض نصاب میں دینی مضامین کا اضافہ یا قدیم مدارس میں جدید علوم کا پیوند، مسئلے کا حل نہیں؛ بلکہ پورے تعلیمی نظام کو اسلامی فلسفۂ حیات کے گرد مرکوز کرنا ضروری ہے تاکہ طلبہ میں حقیقی اسلامی روح، کردار اور ذہنیت پروان چڑھ سکے۔
کتاب کا آغاز باب اول سے ہوتا ہے، جس میں مولانا 1930ء کی دہائی میں علی گڑھ یونی ورسٹی سے الحاد و دہریت کے مبلغین کی کثرت کے معاملے کو اٹھاتے ہوئے بتاتے ہیں کہ مسئلہ صرف دینیات کی کمی نہیں، بلکہ نظامِ تعلیم کی بنیادی تشکیل میں ہے۔ ان کا موقف ہے کہ مسلم یونی ورسٹی کا مقصد صرف جدید علوم حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ اسلامی شناخت کے ساتھ جدید تعلیم حاصل کرنا تھا، مگر عملی طور پر یہ یونی ورسٹی دیگر سرکاری یونی ورسٹیوں جیسی ہی ہو گئی، جس کے نتیجے میں طلبہ میں اسلامی کردار کا فقدان ہے۔
باب دوم میں مولانا اس بات پر زور دیتے ہیں کہ موجودہ تعلیمی پالیسی، خواہ وہ جدید ہو یا دینی، دونوں صورتوں میں ناکام ہے۔ جدید اور دینی علوم کا جو امتزاج ہے، وہ دراصل دو متضاد عناصر کا جبری اجتماع ہے، جس میں مغربی تعلیم غالب ہے اور اسلامی عنصر کمزور۔
کتاب دراصل مختلف اوقات میں لکھے گئے کئی مضامین و خطبات کا مجموعہ ہے۔ 'نیا نظامِ تعلیم' میں مولانا علم اور امامت کے رشتے کی بنیاد پر ایک متبادل تعلیمی خاکہ پیش کرتے ہیں، جبکہ 'اسلامی نظامِ تعلیم اور پاکستان میں اس کے نفاذ کی عملی تدابیر' اور 'ایک اسلامی یونی ورسٹی کا نقشہ' میں قدیم و جدید دونوں نظاموں کی خامیوں کی نشان دہی کے بعد ابتدائی، ثانوی، اعلیٰ اور اختصاصی تعلیم کے مراحل، عورتوں کی تعلیم، رسمُ الخط اور انگریزی زبان کے مقام جیسے عملی سوالات کا حل تجویز کیا گیا ہے۔ کتاب کا آخری اور طویل مضمون 'عالمِ اسلام کی تعمیر میں مسلمان طلبہ کا کردار' امتِ مسلمہ کی تہذیبی میراث کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے میں طلبہ کی ذمہ داری، مسلم معاشروں میں غیر اسلامی ثقافت کے پھیلاؤ کے نقصانات، اور اسلام اور سائنس کے تعلق پر تفصیلی گفتگو کرتا ہے، اور یوں کتاب تعلیمی نظام کی خرابی کی تشخیص سے آغاز کر کے طلبہ کی عملی ذمہ داری کے تعین پر ختم ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
قدیم نظامِ تعلیم
جہاں تک ہمارے پرانے نظامِ تعلیم کا تعلق ہے اس کے متعلق یہ غلط فہمی ہے کہ یہ ہماری قدیم مذہبی تعلیم کا نظام تھا۔ دراصل یہ مذہبی تعلیم کا نہیں بلکہ سول سروس کا نظام تھا جو قدیم زمانے میں مسلمان حکومتوں کی ضروریات کے لیے تجویز کیا گیا تھا۔ اس نظامِ تعلیم کی افادیت عملاً اسی روز ختم ہو گئی تھی جس روز انگریزی حکومت یہاں مسلط ہوئی، کیوں کہ اس کے تحت تعلیم پائے ہوئے لوگوں کے لیے نئی مملکت میں کوئی جگہ نہ رہی۔ لیکن چوں کہ اس میں ہماری صدیوں کی تہذیبی میراث موجود تھی اور ہماری مذہبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھی اس کے اندر کچھ نہ کچھ سامان پایا جاتا تھا (اگرچہ کافی نہ تھا)، اس لیے دَورِ غلامی کے آغاز میں ہماری قوم کے ایک اچھے خاصے بڑے عنصر نے یہ محسوس کیا کہ اس نظام کو جس طرح بھی ہو سکے قائم رکھا جائے تاکہ اپنی آبائی میراث سے بالکل منقطع ہو کر ہمارا قومی شیرازہ منتشر اور ہمارا قومی وجود بالکل ہی ختم نہ ہو جائے۔
اسی مصلحت سے انھوں نے کسی تغیر وتبدل کے بغیر اسے جوں کا توں برقرار رکھا، لیکن جتنے جتنے حالات بدلتے گئے اتنی ہی زیادہ اس کی افادیت گھٹتی چلی گئی، کیوں کہ اس نظامِ تعلیم کے تحت جو لوگ تعلیم پا کرنکل رہے ہیں۔ ان کا کوئی مصرف اس کے سوا نہیں ہے کہ وہ ہماری مسجدوں کو سنبھال کر بیٹھ جائیں یا کچھ مدرسے کھول لیں یا وعظ گوئی کا پیشہ اختیار کریں اور طرح طرح کے مذہبی جھگڑے چھیڑتے رہیں تاکہ ان جھگڑوں کی وجہ سے قوم کو ان کی ضرورت محسوس ہو۔ اس طرح ان کی ذات سے اگرچہ کچھ نہ کچھ فائدہ بھی ہمیں پہنچتا ہے، یعنی ان کی بدولت ہمارے اندر دین کا کچھ نہ کچھ علم پھیلتا ہے، دین کے متعلق کچھ نہ کچھ واقفیت لوگوں کو حاصل ہو جاتی ہے اور ہماری مذہبی زندگی میں کچھ نہ کچھ حرارت باقی رہ جاتی ہے۔ لیکن اس فائدے کے مقابلے میں جو نقصان ان سے ہمیں پہنچ رہا ہے وہ بہت زیادہ ہے۔ وہ نہ تو اسلام کی صحیح نمایندگی کر سکتے ہیں، نہ ان کے اندر اب یہ صلاحیت ہے کہ وہ دینی اصولوں پر قوم کی راہ نمائی کر سکیں اور نہ وہ ہمارے اجتماعی مسائل میں سے کسی مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اب ان کی بدولت دین کی عزت میں اضافہ ہونے کی بجائے الٹی اس میں کچھ کمی ہو رہی ہے۔ دین کی جیسی نمائندگی آج ان کے ذریعہ سے ہو رہی ہے اس کی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں میں دین سے روز بروز بُعد بڑھتا جا رہا ہے اور دین کے وقار میں کمی آ رہی ہے۔ پھر ان کی بدولت ہمارے ہاں مذہبی جھگڑوں کا ایک سلسلہ ہے جو کسی طرح ٹوٹنے میں نہیں آتا کیوں کہ ان حضرات کی ضروریاتِ زندگی انھیں مجبور کرتی ہیں کہ وہ ان جھگڑوں کو تازہ رکھیں اور بڑھاتے رہیں۔ یہ جھگڑے نہ ہوں تو قوم کو سرے سے ان کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔
یہ ہے ہمارے پرانے نظامِ تعلیم کی پوزیشن، اس میں دینی تعلیم بہت کم ہے اور علمائے دین اور مذہبی پیشوا تیار کرنے کا جو کام اس سے اس وقت لیا جا رہا ہے اس کے لیے وہ بنایا ہی نہیں گیا تھا۔ وہ تو دراصل جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، اب سے دو ڈھائی سو برس پہلے کی سول سروس کی تعلیم ہے جس میں زیادہ تر اس وجہ سے دینی تعلیم کا جوڑ لگایا گیا تھا کہ اس زمانے میں اسلامی فقہ ہی ملک کا قانون تھی اور اسے نافذ کرنے والوں کے لیے فقہ اور اس کی بنیادوں کا جاننا ضروری تھا۔ آج ہم غنیمت سمجھ کر اسی کو اپنی دینی تعلیم سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں اس کے اندر دینی تعلیم کا عنصر بہت کم ہے۔ اس میں جس قدر زور اس دور کے فلسفہ، منطق، ادب اور صَرف ونحو وغیرہ علوم پر دیا جاتا ہے، قرآن وحدیث اور دین کی اساسی تعلیمات پر نہیں دیا جاتا، آج بھی کوئی عربی مدرسہ ایسا نہیں ہے جس کے نصاب تعلیم میں پورا قرآن مجید داخل ہو۔ صرف ایک یا دو سورتیں (سورۂ بقرہ یا سورۂ آل عمران) باقاعدہ درسًا درسًا پڑھائی جاتی ہیں۔ باقی سارا قرآن اگر کہیں شامل درس ہے بھی تو صرف اس کا ترجمہ پڑھا دیا جاتا ہے۔ تحقیقی مطالعۂ قرآن جو آدمی کو مفسر بنا سکے، کسی مدرسے کے نصاب میں بھی شامل نہیں۔ یہی صورتِ حال تعلیم حدیث کی ہے۔ اس کی بھی باقاعدہ تعلیم جیسی کہ ہونی چاہیے، اور جیسی کہ محدث بننے کے لیے درکار ہے، کہیں نہیں دی جاتی۔ درسِ حدیث کا جو طریقہ ہمارے ہاں رائج ہے وہ یہ ہے کہ جب فقہی اور اعتقادی جھگڑوں سے متعلق کوئی حدیث آ جاتی ہے تو اس پر دو دو تین تین دن صَرف کر دیے جاتے ہیں۔ باقی رہیں وہ حدیثیں جو دین کی حقیقت سمجھاتی ہیں ، یا جن میں اسلام کا معاشی، سیاسی، تمدنی اور اخلاقی نظام بیان کیا گیا ہے، یا جن میں دستورِ مملکت، نظامِ عدالت یا بین الاقوامی قانون پر روشنی پڑتی ہے ان پر سے استاد اور شاگرد سب اس طرح رواں دواں گزر جاتے ہیں کہ گویا ان میں کوئی بات قابل توجہ ہے ہی نہیں۔ حدیث اور قرآن کی بہ نسبت ان کی توجہ فقہ کی طرف زیادہ ہے لیکن اس میں زیادہ تر جزئیاتِ فقہ کی تفصیلات ہی توجہ کا مرکز رہتی ہیں۔ فقہ کی تاریخ، اس کا تدریجی ارتقا، اس کے مختلف اسکولوں کی امتیازی خصوصیات، ان اسکولوں کے متفق علیہ اور مختلف فیہ اصول اور ائمہ مجتہدین کے طریقِ استنباط … جن کے جانے بغیر کوئی شخص حقیقت میں فقیہ نہیں بن سکتا، ان کے درس میں سرے سے شامل ہی نہیں ہیں ، بلکہ ان چیزوں پر شاگرد تو درکنار استاد بھی کم ہی نگاہ رکھتے ہیں۔ رہیں اجتہادی صلاحیتیں، تو ان کا پیدا کرنا سرے سے اس نظامِ تعلیم میں مقصود ہی نہیں، بلکہ شاید گناہ بھی ہے۔ اس لیے مجتہد تیار ہونے کا یہاں کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
اس طرح یہ نظامِ تعلیم ہماری ان مذہبی ضروریات کے لیے بھی سخت ناکافی ہے جن کی خاطر اسے باقی رکھا گیا تھا۔ رہیں دنیوی ضروریات تو ان کے ساتھ جو کچھ بھی اس کا سروکار تھا وہ گزشتہ صدی کے آغاز ہی میں ختم ہو چکا تھا۔