تجدید و احیائے دین
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "تجدید و احیائے دین" اسلامی تاریخ، فکر اور عمل کے حوالے سے ایک اہم علمی و تحریکی رہنمائی پیش کرتی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ 'تجدیدِ دین' محض ایک جذباتی یا عقیدتی تصور نہیں بلکہ ایک منظم، متعدد شعبوں پر مشتمل، اور تاریخی طور پر ضروری عمل ہے جو ہر صدی میں جاہلیت کے طوفان کے خلاف اسلام کی اصلی روح کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ مصنف کا موقف یہ ہے کہ اگر امتِ مسلمہ کو حقیقی تجدید کا راستہ اختیار کرنا ہے تو اسے ماضی کے مجدّدین کی خدمات کو معروضی، تحقیقی اور تنقیدی انداز میں جانچنا ہوگا، نہ کہ عقیدت کے زاویے سے ان کے کاموں کو مطلق کمال سمجھ کر۔
کتاب کا آغاز دیباچے سے ہوتا ہے جو دو طبعات کے مقدمات پر مشتمل ہے۔ پہلے دیباچے میں مصنف تجدید کے دقیق معنی، مجدّد کی اصلی صفات، اور ماضی کے مجدّدین کے کارناموں کے صحیح جائزے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ عام طور پر لوگ 'مجدّد' کو صرف ایک مقدس شخصیت سمجھتے ہیں، جبکہ درحقیقت یہ ایک تاریخی، فکری اور عملی منصب ہے جس کے لیے مخصوص صلاحیتیں اور کارنامے درکار ہوتے ہیں۔ دوسرے دیباچے میں مصنف طبع پنجم کے موقع پر کی گئی اصلاحات، حوالہ جات کی تکمیل، اور معترضین کے جوابات کا ذکر کرتا ہے تاکہ قاری کو ممکنہ خلفشار سے بچایا جا سکے۔
باب دوم میں مصنف اسلام اور جاہلیت کے درمیان اصولی اور تاریخی کشمکش کا تجزیہ پیش کرتا ہے۔ اس کے بعد کتاب کا مرکزی حصہ 'کارِ تجدید کی نوعیت' مجدد کی تعریف، مجدد اور نبی کے فرق اور تجدید و تجدد کے فرق کو واضح کرتا ہے۔ اس کے بعد ایک باب امت کے چند بڑے مجددین—عمر بن عبدالعزیزؒ، ائمہ اربعہؒ، امام غزالیؒ، ابن تیمیہؒ اور شیخ احمد سرہندیؒ—کے کارناموں کا تنقیدی جائزہ لیتا ہے، جبکہ الگ ابواب شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے تنقیدی و تعمیری کام اور سید احمد بریلویؒ و شاہ اسماعیل شہیدؒ کی تحریک اور اس کی ناکامی کے اسباب پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں۔
کتاب کے آخر میں ایک وقیع ضمیمہ شامل ہے جو تجدید اور امام مہدی کے تصور سے متعلق مزید وضاحتیں، کشف و الہام کی حقیقت، تصوف اور تصورِ شیخ، اور مہدی کی علامات پر تفصیلی بحث پر مشتمل ہے، تاکہ تجدید کے تصور کو مبہم روحانی دعوؤں سے الگ کر کے ایک قابلِ جانچ، معروضی معیار پر استوار کیا جا سکے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
سیّد احمد بریلویؒ اور شاہ اسمٰعیل شہیدؒ
[سید صاحب ۱۲۰۱ھ (۱۷۸۶ء) میں پیدا ہوئے اور ۱۲۴۶ھ (۱۸۳۱ء) میں شہادت پائی۔ شاہ اسمٰعیل صاحب ۱۱۹۳ھ (۱۷۷۹ء) میں پیدا ہوئے۔ ۱۲۴۶ھ (۱۸۳۱ء) میں شہادت پائی۔ انقلابی تحریک کی چنگاری سید صاحب کے دل میں غالباً ۱۸۱۰ھ کے لگ بھگ زمانے ہی میں بھڑک اٹھی تھی۔]
یہی وجہ ہے کہ شاہ ولی اللّٰہ صاحب کی وفات پر پوری نصف صدی بھی نہ گزری تھی کہ ہندوستان میں ایک تحریک اٹھ کھڑی ہوئی جس کا نصب العین وہی تھا جو شاہ صاحب نگاہوں کے سامنے روشن کرکے رکھ گئے تھے۔ سید صاحب کے خطوط اور ملفوظات اور شاہ اسمٰعیل شہید کی منصب ِامامت، عبقات، تقویۃ الایمان اور دوسری تحریریں دیکھئے۔ دونوں جگہ وہی شاہ ولی اللّٰہ صاحب کی زبان بولتی نظر آتی ہے۔ شاہ صاحب نے عملاً جو کچھ کیا وہ یہ تھا کہ حدیث اور قرآن کی تعلیم اور اپنی شخصیت کی تاثیر سے صحیح الخیال اور صالح لوگوں کی ایک کثیر تعداد پیدا کر دی۔ پھر ان کے چاروں صاحبزادوں نے، خصوصاً شاہ عبدالعزیز صاحب نے اس حلقہ کو بہت زیادہ وسیع کیا، یہاں تک کہ ہزارہا ایسے آدمی ہندوستان کے گوشے گوشے میں پھیل گئے جن کے اندر شاہ صاحب کے خیالات نفوذ کئے ہوئے تھے، جن کے دماغوں میں اِسلام کی صحیح تصویر اتر چکی تھی۔ اور جو اپنے علم و فضل اور اپنی عمدہ سیرت کی وجہ سے عام لوگوں میں شاہ صاحب اور ان کے حلقے کا اثر قائم ہونے کا ذریعہ بن گئے تھے۔ اس چیز نے اس تحریک کے لیے گویا زمین تیار کر دی، جو بالآخر شاہ صاحب ہی کے حلقے سے، بلکہ یوں کہیے کہ ان کے گھر سے اٹھنے والی تھی۔
سید صاحب اور شاہ اسمٰعیل صاحب دونوں روحاً و معنًی ایک وجود رکھتے ہیں اور اس وجودِ متحد کو میں مستقل بالذات مجدد نہیں سمجھتا بلکہ شاہ ولی اللّٰہ صاحب کی تجدید کا تتمہ سمجھتا ہوں۔ ان حضرات کے کارنامے کا خلاصہ یہ ہے۔
(۱) انھوں نے عامہ خلائق کے دین، اخلاق اور معاملات کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا اور جہاں جہاں ان کے اثرات پہنچ سکے وہاں زِندگیوں میں ایسا زبردست انقلاب رونما ہوا کہ صحابہؓ کرام کے دور کی یاد تازہ ہو گئی۔
(۲) انھوں نے اتنے وسیع پیمانے پر جو انیسویں صدی کے ابتدائی دور میں ہندوستان جیسے برسرِ تنزل ملک میں بمشکل ہی ممکن ہو سکتا تھا، جہاد کی تیاری کی اور اس تیاری میں اپنی تنظیمی قابلیت کا کمال ظاہر کر دیا۔ پھر غایت تدبر کے ساتھ آغازِ کار کے لیے شمال مغربی ہندوستان کو منتخب کیا جو ظاہر ہے کہ جغرافی و سیاسی حیثیت سے اس کام کے لیے موزوں ترین خطہ… ہو سکتا تھا۔ پھر اس جہاد میں ٹھیک وہی اصولِ اخلاق اور قوانین جنگ استعمال کیے جن سے ایک دُنیا پرست جنگ آزما کے مقابلہ میں ایک مجاہد فی سبیل اللّٰہ ممتاز ہوتا ہے اور اس طرح انھوں نے دُنیا کے سامنے پھر ایک مرتبہ صحیح معنوں میں روحِ اسلامی کا مظاہرہ کر دیا۔ ان کی جنگ ملک و مال، یا قومی عصبیت، یا کسی دنیوی غرض کے لیے نہ تھی بلکہ خالص فی سبیل اللّٰہ تھی۔ ان کے سامنے کوئی مقصد اس کے سوا نہ تھا کہ خلق اللّٰہ کو جاہلیّت کی حکومت سے نکالیں اور وہ نظامت حکومت قائم کریں جو خالق اور مالک الملک کے منشا کے مطابق ہے۔ اس غرض کے لیے جب وہ لڑے تو حسب قاعدہ اِسلام یا جزیہ کی طرف پہلے دعوت دی اور پھر اتمامِ حجت کرکے تلوار اٹھائی اور جب تلوار اٹھائی تو جنگ کے اس مہذب قانون کی پوری پابندی کی جو اِسلام نے سکھایا ہے، کوئی ظالمانہ اور وحشیانہ فعل ان سے سرزد نہیں ہوا۔ جس بستی میں داخل ہوئے مصلح کی حیثیت سے داخل ہوئے نہ کہ مفسد کی حیثیت سے۔ ان کی فوج کے ساتھ نہ شراب تھی، نہ بینڈ بجتا تھا، نہ بیسواؤں کی پلٹن ہوتی تھی، نہ ان کی چھاؤنی بدکاریوں کا اڈہ بنتی تھی اور نہ ایسی کوئی مثال ملتی ہے کہ ان کی فوج کسی علاقے سے گزری ہو اور اس علاقہ کے لوگ اپنے مال اور اپنی عورتوں کی عصمتیں لٹنے پر ماتم کناں ہوں۔ ان کے سپاہی دن کو گھوڑے کی پیٹھ پر اور رات کو جانماز پر ہوتے تھے۔ خدا سے ڈرنے والے، آخرت کے حساب کو یاد رکھنے والے اور ہر حال میں راستی پر قائم رہنے والے تھے، خواہ اس پر قائم رہنے میں انھیں فائدہ پہنچے یا نقصان۔ انھوں نے کہیں شکست کھائی تو بزدل ثابت نہ ہوئے اور کہیں فتح پائی تو جبار اور متکبر نہ پائے گئے۔ اس شان کے ساتھ خالص اسلامی جہاد ہندوستان کی سر زمین میں نہ ان سے پہلے ہوا تھا اور نہ ان کے بعد ہوا۔
(۳) انھیں ایک چھوٹے سے علاقہ میں حکومت کرنے کا جو تھوڑا سا موقع ملا، انھوں نے ٹھیک اس طرز کی حکومت قائم کی جسے خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کہا گیا ہے۔ وہی فقیرانہ امارت۔ وہی مساوات، وہی شوریٰ۔ وہی عدل، وہی انصاف۔، وہی حدودِ شرعیہ۔ وہی مال کو حق کے ساتھ لینا اور حق کے مطابق صرف کرنا۔ وہی مظلوم کی حمایت اگرچہ ضعیف ہو اور ظالم کی مخالفت اگرچہ قوی ہو۔ وہی خدا سے ڈر کر حکومت کرنا اور اخلاقِ صالحہ کی بنیاد پر سیاست چلانا۔ غرض ہر پہلو میں انھوں نے اس حکم رانی کا نمونہ ایک مرتبہ پھر تازہ کر دیا جو صدیق ؓو فاروق ؓنے کی تھی۔
یہ لوگ بعض طبعی اسباب کی وجہ سے، جن کا ذکر آگے آتا ہے، ناکام ہوئے[ناکام بلحاظ ظاہر نہ کہ بلحاظِ حقیقت۔ حقیقی کامیابی تو مسلمان کے نزدیک بس یہ ہے کہ وہ اللّٰہ کی رضا کے لئے اقامت دین کی سعی کرے، جیسا کہ سعی کرنے کا حق ہے۔ اس لحاظ سے یہ حضرات یقینا کامیاب رہے۔ البتہ ان کی ناکامی دنیوی نتائج کے اعتبار سے ہے کہ وہ عملاً جاہلیّت کا اقتدار ختم کرکے اِسلام کا غلبہ قائم نہ کر سکے۔ اسی کے اسباب کا ہمیں جائزہ لینا ہے تاکہ اقامت دین کی سعی میں ان اسبابِ ناکامی سے احتراز کیا جا سکے] مگر خیالات میں جو حرکت وہ پیدا کر گئے تھے اس کے اثرات ایک صدی سے زیادہ مدت گزر جانے کے باوجود اب تک ہندوستان میں موجود ہیں۔