شہادت امام حسین
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "شہادت امام حسین" محض ایک تاریخی واقعے کی یادگار نہیں، بلکہ ایک اصولی، فکری اور دینی جدوجہد کی حقیقت کو بے نقاب کرنے کی کوشش ہے۔ مصنف کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ امام حسینؓ کی قربانی صرف ایک ذاتی غم یا محبت کا تقاضا نہیں تھی، بلکہ اسلامی نظامِ حکومت کے بنیادی اصولوں کے تحفظ کے لیے ایک عظیم الشان اور منصوبہ بند جدوجہد تھی۔ وہ استدلال کرتے ہیں کہ اگر یہ شہادت کسی عظیم مقصد کے لیے نہ ہوتی تو صدیوں بعد بھی اس پر غم کا اظہار بے معنی ہوتا۔ امام حسینؓ نے نہ صرف اپنی جان بلکہ اپنے خاندان کے بچوں تک کو قربان کر دیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ ان کے نزدیک وہ مقصد جان سے بھی زیادہ عزیز تھا۔
پہلے باب میں مصنف شہادت کے تاریخی پس منظر کو سمجھاتے ہوئے بتاتے ہیں کہ امام حسینؓ کو یزید کے ذاتی کردار سے زیادہ اسلامی ریاست کے نظام، مزاج اور مقصد میں آنے والی تبدیلی سے اعتراض تھا۔ رسول اللّٰہ ﷺ اور خلفائے راشدینؓ کے دور میں اسلامی ریاست کی بنیاد خدا کی حاکمیت، رعایا کی ذمہ داری اور شریعت کی بالادستی پر تھی، جبکہ بنی امیہ کے دور میں یہ تصور عملی طور پر ختم ہو گیا اور انسانی بادشاہی کا آغاز ہوا، جس میں حکمران خود کو مالک سمجھنے لگے۔ اس نظام میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فرض معطل ہو گیا، اخلاقی زوال کا سلسلہ شروع ہوا، عدل کی جگہ ظلم ہو گیا، اور حرام و حلال کی تمیز ختم ہوتی چلی گئی۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
امام حسین رضی اللہ عنہ کا مومنانہ کردار
یہ تھے وہ تغیرات جو اسلامی خلافت کو خاندانی بادشاہت میں تبدیل کرنے سے رُونما ہوئے۔ کوئی شخص اس تاریخی حقیقت کا انکار نہیں کر سکتا کہ یزید کی ولی عہدی ان تغیرات کا نقطۂ آغاز تھی، اور اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ اس نقطے سے چل کر تھوڑی مدت کے اندر ہی بادشاہی نظام میں وہ سب خرابیاں نمایاں ہو گئیں جو اوپر بیان کی گئی ہیں۔ جس وقت یہ انقلابی قدم اٹھایا گیا تھا، اُس وقت یہ خرابیاں اگرچہ بتمام وکمال سامنے نہ آئی تھیں، مگر ہر صاحبِ بصیرت آدمی جان سکتا تھا کہ اس اقدام کے لازمی نتائج یہی کچھ ہیں اور اس سے ان اصلاحات پر پانی پھر جانے والا ہے جو اسلام نے سیاست وریاست کے نظام میں کی ہیں۔ اسی لیے امام حسینؓ اس پر صبر نہ کر سکے اور انھوں نے فیصلہ کیا کہ جو بدتر سے بدتر نتائج بھی انھیں ایک مضبوط جمی جمائی صورت کے خلاف اُٹھنے میں بھگتنا پڑیں۔ ان کا خطرہ مول لے کر بھی انھیں اس انقلاب کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کوشش کا جو انجام ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ مگر امام نے اس عظیم خطرے میں کود کر اور مردانہ وار اس کے نتائج کو انگیز کرکے جو بات ثابت کی وہ یہ تھی کہ اسلامی ریاست کی بنیادی خصوصیات امت مسلمہ کا وہ بیش قیمت سرمایہ ہیں جسے بچانے کے لیے ایک مومن اپنا سر بھی دے دے اور اپنے بال بچوں کو بھی کٹوا بیٹھے تو اس مقصد کے مقابلے میں یہ کوئی مہنگا سودا نہیں ہے اور ان خصوصیات کے مقابلے میں وہ دوسرے تغیرات جنھیں اوپر نمبروار گنایا گیا ہے، دین اور ملت کے لیے وہ آفت عظمیٰ ہیں جسے روکنے کے لیے ایک مومن کو اگر اپنا سب کچھ قربان کر دینا پڑے تو اس میں دریغ نہ کرنا چاہیے۔ کسی کا جی چاہے تو اسے حقارت کے ساتھ ایک سیاسی کام کہہ لے مگر حسینؓ ابن علیؓ کی نگاہ میں تو یہ سراسر ایک دینی کام تھا، اسی لیے انھوں نے اس کام میں جان دینے کو شہادت سمجھ کر جان دی۔
……٭٭٭……