سیرت کا پیغام
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب کا مرکزی مقصد اور محرک: ‘‘سیرت کا پیغام’’ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی ایک تقریر پر مبنی مختصر لیکن جامع کتابچہ ہے جس کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ جدید دور کی سائنسی و ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجود انسانیت کو حقیقی رہنمائی کے لئے خدائی ہدایت اور پیغمبری نمونۂ عمل کی ضرورت ہے، اور وہ نمونۂ عمل جو مکمل، محفوظ اور عملی طور پر قابلِ اتباع ہو، وہ حضور نبیٔ کریم ﷺ کی سیرت ہے۔ ناشر کی عرض اور مودودیؒ کے علمی انداز کا حوالہ مل کر یہ کتاب جدید تعلیم یافتہ طبقے خصوصاً نوجوانوں کو سیرتِ نبوی ﷺ کے پیغام کو تعصبات سے ماورا سمجھنے کی دعوت دیتی ہے۔
باب بہ باب دلائل و دلائل کی تقدم: کتاب ابتدا میں (بابِ اول) ناشرِ کتاب کا مقدمہ پیش کرتی ہے جس میں مودودیؒ کی تقریر کا پس منظر، اس کا موقع اور اس کی افادیت بیان کی گئی ہے۔ یہاں یہ واضح کیا جاتا ہے کہ مودودیؒ کا سائنٹفک و تاریخی اسلوب جدید ذہن کے سوالات کا موزوں جواب ہے اور اسی اسلوب سے سیرتِ نبوی ﷺ کی افادیت اجاگر کی گئی ہے۔
باب دوم میں مصنف نے بنیاد رکھی: خدائی ہدایت کی ضرورت اور نبوّت کی لازمی حیثیت کو دو علمی دائرۂ کاروں کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے؛ ایک وہ دائرہ جہاں انسانی حواس، تجربہ اور استدلال کارگر ہیں (سائنس وغیرہ) اور دوسرا وہ دائرہ جو حسّی ادراک سے بالا ہے اور صرف خالق ہی اس کا حکیم ہے۔ اس کے نتیجے میں کہا گیا کہ آخری حقیقتوں تک پہنچنے کے لئے انبیاء کی وساطت ضروری ہے اور آج کے دور میں وہ واحد مکمل اور محفوظ ماخذ سیرتِ محمدیہ ﷺ ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
انبیاء کی پیروی کی ضرورت
اس دائرے میں علم اگر پہنچتا ہے تو صرف اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے پہنچتا ہے کیونکہ وہی حقائق کا جاننے والا ہے اور جس ذریعے سے اللہ تعالیٰ انسان کو یہ علم دیتا ہے وہ وحی ہے جو صرف انبیاء پر نازل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آج تک کبھی یہ نہیں کیا کہ ایک کتاب چھاپ کر ہر انسان کے ہاتھ میں دے دی ہو اور اس سے کہا ہو کہ اسے پڑھ کر خود معلوم کر لے کہ تیری اور کائنات کی حقیقت کیا ہے اور اس حقیقت کے لحاظ سے دنیا میں تیرا طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے۔ اس علم کو انسانوں تک پہنچانے کے لیے اس نے ہمیشہ انبیاء ہی کو ذریعہ بنایا ہے۔ تاکہ وہ صرف اس علم کی تعلیم ہی دے کر نہ رہ جائیں۔ بلکہ اسے سمجھائیں بھی، اس کے مطابق عمل بھی کر کے دکھائیں، اس کے خلاف چلنے والوں کو راہِ راست پر لانے کی کوشش بھی کریں اور اسے قبول کرنے والوں کو ایک ایسے معاشرے کی شکل میں منظم بھی کر دیں، جس کی زندگی کا ہر شعبہ اس علم کا عملی مظہر ہو۔
اس مختصر بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہم رہنمائی کے لیے صرف ایک نبی کی سیرت ہی کے محتاج ہیں۔ کوئی غیر نبی اگر نبی کا پیرو نہ ہو تو خواہ وہ کیسا ہی متبحر عالم اور دانا و فرزانہ ہو، ہمارا رہ نما نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کے پاس حقیقت کا علم نہیں ہے اور جسے حقیقت کا علم نہ ہو وہ ہمیں کوئی صحیح و برحق نظامِ حیات نہیں دے سکتا۔