سانحہ مسجد اقصیٰ
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "سانحہ مسجد اقصیٰ" فلسطین کے مسئلے کو صرف ایک سرزمینی تنازعہ نہ سمجھ کر اسے اسلامی عقیدے، تاریخ اور شناخت کا مرکزی محور قرار دیتی ہے۔ کتاب کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کی آتش زدگی اور اس کے پس منظر میں کارفرما طویل المدتی یہودی منصوبہ بندی، صرف ایک عبادت گاہ کے خلاف حملہ نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے روحانی وجود کے خلاف ایک جنگ ہے۔ مصنف کا مقصد قارئین کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ عرب ممالک کا ذاتی معاملہ نہیں، بلکہ تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے، اور اس کے حل کے لیے اسلامی دنیا کی وحدت اور عملی متحدہ کوشش ضروری ہے۔
کتاب کا آغاز باب "کل اور آج" سے ہوتا ہے، جہاں مصنف موجودہ سیاسی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ دنیا مظلوم فلسطینیوں سے مزاحمت چھوڑنے کا مطالبہ کرتی ہے، جبکہ غاصبوں کو مشروعیت فراہم کی جاتی ہے۔ وہ محمود عباس جیسے رہنماؤں کی تعریف کرتی ہے جو یہودیوں کے خلاف کوئی موقف اختیار نہیں کرتے، جبکہ مزاحمت کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے۔ مصنف واضح کرتے ہیں کہ مسجد اقصیٰ کی بازیابی صرف سیاسی مفاد کا معاملہ نہیں، بلکہ ایمانی فرض ہے، کیونکہ یہ قبلہ اول ہے اور معراجِ رسولی کا مقام ہے۔
باب دوم "مسجد اقصیٰ میں آتشزدنی" میں مصنف اس واقعے کو امتِ مسلمہ کے لیے ایک نازک اور منحوس لمحہ قرار دیتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
یہودی عزائم کی تاریخ :
بیت المقدس اور فلسطین کے متعلق آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ تقریبا تیرہ سو برس قبل مسیح میں بنی اسرائیل اس علاقے میں داخل ہوئے تھے اور وہ صدیوں کی مسلسل کشمکش کے بعد بالآخر اس پر قابض ہو گئے تھے۔ قدیم باشندے دوسرے لوگ تھے جن کے قبائل اور اقوام کے نام خود بائبل میں تفصیل کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں، اور بائبل ہی کی تصریحات سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے ان قوموں کا قتل عام کر کے اس سرزمین پر اسی طرح قبضہ کیا تھا جس طرح فرنگیوں نے سرخ ہندیوں (Red Indians) کو فنا کر کے امریکا پر قبضہ کیا۔ ان کا دعویٰ یہ تھا کہ خدا نے یہ ملک ان کی میراث میں دے دیا ہے، اس لیے انہیں حق پہنچتا ہے کہ اس کے اصل باشندوں کو بے دخل کر کے ، بلکہ ان کی نسل کو مٹا کر اس پر قابض ہو جائیں۔ اس کے بعد آٹھویں صدی قبل مسیح میں اسیر یا نے شمالی فلسطین پر قبضہ کر کے اسرائیلیوں کا بالکل قلع قمع کر دیا اور ان کی جگہ دوسری قوموں کو لا بسایا جو زیادہ تر عربی النسل تھیں۔
پھر چھٹی صدی قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے جنوبی فلسطین پر قبضہ کر کے تمام یہودیوں کو جلا وطن کر دیا، بیت المقدس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور ہیکل سلیمانی (Temple of Solomon) کو، جسے دسویں قبل مسیح میں حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کرایا تھا، اس طرح پیوند خاک کر دیا کہ اس کی ایک دیوار بھی اپنی جگہ قائم نہ رہی۔ ایک طویل مدت کی جلا وطنی کے بعد ایرانیوں کے دور حکومت میں یہودیوں کو پھر سے جنوبی فلسطین میں آکر آباد ہونے کا موقع ملا اور انہوں نے بیت المقدس میں دوبارہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی ۔ لیکن یہ دوسرا وقفہ بھی تین چار سو برس سے زیادہ دراز نہ ہوا۔
۷۰ عیسوی میں یہودیوں نے رومی سلطنت کے خلاف بغاوت کی جس کی پاداش میں بیت المقدس کے شہر اور ہیکل سلیمانی کو بالکل مسمار کر دیا گیا، اور پھر ایک دوسری بغاوت کو کچل کر ۱۳۵ عیسوی میں رومیوں نے پورے فلسطین سے یہودیوں کو نکال باہر کیا۔ اس دوسرے اخراج کے بعد جنوبی فلسطین میں بھی اُسی طرح عربی النسل قبائل آباد ہو گئے جس طرح شمالی فلسطین میں وہ آٹھ سو برس پہلے آباد ہوئے تھے۔ اسلام کی آمد سے پہلے یہ پورا علاقہ عربی قوموں سے آباد تھا، بیت المقدس میں یہودیوں کا داخلہ تک رومیوں نے قانوناً ممنوع کر رکھا تھا اور فلسطین میں بھی یہودی آبادی قریب قریب بالکل ناپید تھی۔
اس تاریخ سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ:
(1) یہودی ابتداً نسل کشی (Genocide) کے مرتکب ہو کر فلسطین پر زبر دستی قابض ہوئے تھے۔
(۲) شمالی فلسطین میں صرف چار پانچ سو برس تک وہ آبادر ہے۔
(۳) جنوبی فلسطین میں ان کے قیام کی مدت زیادہ سے زیادہ آٹھ نو سو برس رہی ۔
(۴) عرب شمالی فلسطین میں ڈھائی ہزار سال سے اور جنوبی فلسطین میں تقریباً دو ہزار سال سے آباد چلے آ رہے ہیں۔
لیکن اس کے باوجود یہودیوں کا آج بھی یہ دعویٰ ہے کہ فلسطین ان کے باپ دادا کی میراث ہے جو خدا نے انہیں عطا فرمائی ہے اور انہیں حق پہنچتا ہے کہ اس میراث کو بزور طاقت حاصل کر کے اس علاقے کے قدیم باشندوں کو اسی طرح نکال باہر کر یں اور خود ان کی جگہ بس جائیں جس طرح تیرہ سو برس قبل مسیح میں انہوں نے کیا تھا۔
دو ہزار برس سے دنیا بھر کے یہودی ہفتے میں چار مرتبہ یہ دعائیں مانگتے رہے ہیں کہ بیت المقدس پھر ہمارے ہاتھ آئے اور ہم ہیکل سلیمانی کو پھر تعمیر کریں۔ ہر یہودی گھر میں مذہبی تقریبات کے موقع پر اس تاریخ کا پورا ڈراما کھیلا جاتا رہا ہے کہ ہم مصر سے کس طرح نکلے اور فلسطین میں کس طرح سے آباد ہوئے اور کیسے بابل والے ہم کو لے گئے اور ہم کس طرح سے فلسطین سے نکالے گئے اور تتر بتر ہوئے۔ اس طرح یہودیوں کے بچے بچے کے دماغ میں یہ بات ۲۰ صدیوں سے بٹھائی جارہی ہے کہ فلسطین تمہارا ہے اور تمہیں واپس ملنا ہے اور تمہارا مقصد زندگی یہ ہے کہ تم بیت المقدس میں ہیکل سلیمانی کو پھر تعمیر کرو۔ بارہویں صدی عیسوی کے مشہور یہودی فلسفی موسیٰ بن میمون (Maimonides) نے اپنی کتاب شریعت یہود (The Code of Jewish Law) میں صاف صاف لکھا ہے کہ ہر یہودی نسل کا یہ فرض ہے کہ وہ بیت المقدس میں ہیکل سلیمانی کو از سر نو تعمیر کرے۔“
مشہور فری میسن تحریک بھی ، جس کے متعلق ہمارے ملک کے اخبارات میں قریب قریب سارے ہی حقائق اب شائع ہو چکے ہیں، اصلاً ایک یہودی تحریک ہے اور اس میں بھی ہیکل سلیمانی کی تعمیر نو کو مقصود قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ پوری فری میسن تحریک کا مرکزی تصور یہی ہے اور تمام فری میسن لاجوں میں اس کا باقاعدہ ڈراما ہوتا ہے کہ کس طرح سے ہیکل سلیمانی کو دوبارہ تعمیر کرنا ہے۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ مسجد اقصیٰ میں آگ لگنا کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے۔ صدیوں سے یہودی قوم کی زندگی کا نصب العین یہی رہا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی کو تعمیر کرے، اور اب بیت المقدس پر ان کا قبضہ ہو جانے کے بعد ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے اس نصب العین کو پو را کرنے سے باز رہ جائیں۔