سلامتی کا راستہ
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تقریر "سلامتی کا راستہ"، جو مئی 1940ء میں ریاست کپور تھلہ میں ہندوؤں، سکھوں اور مسلمانوں کے مشترکہ اجتماع کے سامنے پیش کی گئی، انسانی زندگی کے بنیادی سوالات کا جواب دیتی ہے: امن کیوں ختم ہو گیا؟ ظلم، بے انصافی، فساد اور تباہی کی جڑ کیا ہے؟ اور اس سے نکلنے کا راستہ کون سا ہے؟ مولانا مودودی اس تقریر میں ایک واضح اور منطقی دلیل کے ذریعے ثابت کرتے ہیں کہ تمام مصیبتوں کی اصل وجہ یہ ہے کہ انسان نے حقیقت سے منہ موڑ لیا ہے۔ اُن کا مرکزی موقف یہ ہے کہ کائنات کا نظام ایک واحد خدا کی حکومت پر قائم ہے، اور جب انسان اس حقیقت کو نظر انداز کر کے خود کو خدا سمجھنے لگتا ہے یا دوسروں کو خدا مانتا ہے، تو وہ اپنی ذات اور معاشرے دونوں کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔
تقریر کا آغاز "ہستی باری تعالیٰ" سے ہوتا ہے، جہاں مولانا مودودی عام فہم مثالوں—دکان، کارخانہ، بلب، کرسی—کے ذریعے عقل کو مخاطب کرتے ہوئے ثابت کرتے ہیں کہ جس طرح چھوٹی چھوٹی چیزوں کے پیچھے ایک بنانے والا ضرور ہوتا ہے، اُسی طرح اس وسیع کائنات کے پیچھے بھی ایک واحد، عالم الغیوب، قادرِ مطلق خدا ہونا لازمی ہے۔ وہ استدلال کرتے ہیں کہ انسان کا وجود، جس کے اجزا کی مجموعی قیمت چند روپوں سے زیادہ نہیں، محض بے جان اجزاء کے اتفاقی اجتماع سے پیدا نہیں ہو سکتا؛ بلکہ اس کے پیچھے ایک عظیم الشان حکمت والی قوت ہے۔
اس کے بعد "توحید" کے عنوان سے وہ کائنات کے نظامِ انتظام کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اِنسان کی تباہی کا اصلی سبب
صاحبو! یہ بنیادی حقیقتیں ہیں جن پر اس دنیا کا پورا نظام چل رہا ہے۔ آپ اس دنیا سے الگ نہیں ہیں بلکہ اس کے اندر اس کے ایک جُز کی حیثیت سے رہتے ہیں، لہٰذا آپ کی زندگی کے لیے بھی یہ حقیقتیں اُسی طرح بنیادی ہیں جس طرح کُل جہان کے لیے ہیں۔آج یہ سوال آپ میں سے ہر شخص کے لیے اور دنیا کے تمام انسانوں کے لیے ایک پریشان کُن گتھی بنا ہوا ہے کہ آخر ہم انسانوں کی زندگی سے امن چین کیوں رخصت ہو گیا؟کیوں آئے دن مصیبتیں ہم پر نازل ہو رہی ہیں؟ کیوں ہماری زندگی کی کُل بگڑ گئی ہے؟ قومیں قوموں سے ٹکرا رہی ہیں، ملک ملک میں کھینچا تانی ہو رہی ہے، آدمی آدمی کے لیے بھیڑیا بن گیا ہے، لاکھوں انسان لڑائیوں میں برباد ہو رہے ہیں، کروڑوں اور اربوں کے کاروبار غارت ہو رہے ہیں، بستیوں کی بستیاں اُجڑ رہی ہیں، طاقت ور کم زوروں کو کھائے جاتے ہیں، مال دار غریبوں کو لوٹ لیتے ہیں، حکومت میں ظلم ہے، عدالت میں بے انصافی ہے، دولت میں بدمستی ہے، اقتدار میں غرور ہے، دوستی میں بے وفائی ہے، امانت میں خیانت ہے، اخلاق میں راستی نہیں رہی، انسان پر سے انسان کا اعتماد اُٹھ گیا ہے، مذہب کے جامے میں لا مذہبی ہو رہی ہے، آدم کے بچّے لا تعداد گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ہرگروہ دوسرے گروہ کو دغا، ظلم، بے ایمانی، ہر ممکن طریقہ سے نقصان پہنچانا کارِ ثواب سمجھ رہا ہے۔ یہ ساری خرابیاں آخر کس وجہ سے ہیں؟ خدا کی خدائی میں اور جس طرف بھی ہم دیکھتے ہیں امن ہی امن نظر آتا ہے۔ ستاروں میں امن ہے، ہوا میں امن ہے، پانی میں امن ہے، درختوں اور جانوروں میں امن ہے، تمام مخلوقات کا انتظام پورے امن کے ساتھ چل رہا ہے، کہیں فساد، بد نظمی کا نشان نہیں پایا جاتا مگر ایک انسان ہی کی زندگی کیوں اس نعمت سے محروم ہوگئی؟
یہ ایک بڑا سوال ہے جسے حل کرنے میں لوگوں کو سخت پریشانی پیش آرہی ہے، مگر میں پورے اطمینان کے ساتھ اس کا جواب دینا چاہتا ہوں۔ میرے پاس اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ:
’’آدمی نے اپنی زندگی کو حقیقت اور واقعہ کے خلاف بنا رکھا ہے اس لیے وُہ تکلیف اُٹھا رہا ہے اور جب تک وُہ پھراسے حقیقت کے مطابق نہ بنائے گا کبھی چین نہ پاسکے گا۔‘‘
آپ چلتی ہوئی ریل کے دروازے کو اپنے گھر کا دروازہ سمجھ بیٹھیں اور اسے کھول کر بے تکلّف اس طرح باہر نکل آئیں جیسے اپنے مکان کے صحن میں قدم رکھ رہے ہیں تو آپ کی اس غلط فہمی سے نہ ریل کا دروازہ گھر کا دروازہ بن جائے گا اور نہ وُہ میدان جہاں آپ گریں گے، گھرکاصحن ثابت ہوگا۔ آپ کے اپنی جگہ کچھ سمجھ بیٹھنے سے حقیقت ذرا بھی نہ بدلے گی۔ تیز دوڑتی ہوئی ریل کے دروازے سے جب آپ باہر تشریف لائیں گے تو اس کا جو نتیجہ ظاہر ہونا ہے، وُہ ظاہر ہوکر ہی رہے گا، خواہ ٹانگ اور سر پھٹنے کے بعد بھی آپ یہ تسلیم نہ کریں کہ آپ نے جو کچھ سمجھا تھا غلط سمجھا تھا۔
بالکل اسی طرح اگر آپ یہ سمجھ بیٹھیں کہ اس دنیا کا کوئی خدا نہیں ہے، یا آپ خود اپنے خدا بن بیٹھیں، یا خدا کے سوا کسی اور کی خدائی مان لیں، تو آپ کے ایسا سمجھنے یا مان لینے سے حقیقت ہرگز نہ بدلے گی۔ خدا خدا ہی رہے گا۔ اس کی زبردست سلطنت جس میں آپ محض رعیّت کی حیثیت سے رہتے ہیں، پورے اختیارات کے ساتھ اُسی کے قبضہ میں رہے گی۔ البتّہ آپ اپنی غلط فہمی کی وجہ سے جو طرز زندگی اختیار کریں گے اس کا نہایت برا خمیازہ آپ کو بھگتنا پڑے گا، خواہ آپ تکلیفیں اُٹھانے کے بعد بھی اپنی اس غلط زندگی کو بجائے خود صحیح ہی سمجھتے رہیں۔
پہلے میں جو کچھ بیان کر چکا ہوں اسے ذرا اپنی یاد میں پھر تازہ کر لیجیے۔ خداوند عالم کسی کے بنائے سے خدا وند عالم نہیں بنا ہے۔ وُہ اس کا محتاج نہیں ہے کہ آپ اس کی خدائی مانیں تو وُہ خدا ہوگا۔ آپ خواہ مانیں یا نہ مانیں وُہ تو خود خدا ہے۔ اس کی خدائی خود اپنے زور پر قائم ہے۔ اس نے آپ کو اور اس دُنیا کو خود بنایا ہے۔ یہ زمین، یہ چاند اور سورج اور یہ ساری کائنات اسی کے حکم کی تابع ہے۔ اس کائنات میں جتنی قوتیں کام کر رہی ہیں سب اسی کے زیر حکم ہیں۔ وُہ ساری چیزیں جن کے بل پر آپ زندہ ہیں، اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ خود آپ کا اپنا وجود اس کے اختیار میں ہے۔ اس واقعہ کو آپ کسی طرح بدل نہیں سکتے۔ آپ اسے نہ مانیں تب بھی یہ واقعہ ہے۔ آپ اس سے آنکھیں بند کر لیں تب بھی یہ واقعہ ہے۔ آپ اس کے سوا کچھ اور سمجھ بیٹھیں تب بھی یہ واقعہ ہے۔ ان سب صورتوں میں واقعہ کا تو کچھ بھی نہیں بگڑتا۔ البتہ فرق یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ اس واقعہ کو تسلیم کر کے اپنی وہی حیثیت قبول کر لیں جو اس واقعہ کے اندر دراصل آپ کی ہے تو آپ کی زندگی دُرُست ہو گی۔ آپ کو چین مِلے گا، اطمینان نصیب ہو گا، اور آپ کی زندگی کی ساری کُل ٹھیک چلے گی۔ اور اگر آپ نے واقعہ کے خلاف کوئی اور حیثیت اختیار کی تو انجام وہی ہو گا جو چلتی ہوئی ریل کے دروازے کو اپنے گھر کا دروازہ سمجھ کر قدم باہر نکالنے کا ہوتا ہے۔ چوٹ آپ خود کھائیں گے، ٹانگ آپ کی ٹوٹے گی، سر آپ کا پھٹے گا، تکلیف آپ کو پہنچے گی، واقعہ جیسا تھا ویسا ہی رہے گا۔