قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں" قرآن مجید کے مرکزی پیغام کو سمجھنے کے لیے ایک نہایت اہم راہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ قرآن کی تمام تعلیمات، دعوتِ توحید، اور نظامِ حیات کا محور صرف چار اصطلاحوں — الٰہ، ربّ، عبادت، اور دین — پر گھومتا ہے۔ مولانا کا خیال ہے کہ جب تک ان چار الفاظ کے صحیح، جامع اور قرآنی مفہوم کو نہ سمجھ لیا جائے، قرآن کا پیغام درست طور پر سمجھنا ناممکن ہے۔ اس کتاب کی تحریر کا بنیادی جذبہ یہ ہے کہ آج بھی بہت سے لوگ لفظی طور پر لا الٰہ الا اللہ کہتے ہیں، مگر عملی زندگی میں متعدد الٰہوں، اربابٍ، معبودوں اور دینوں کی غلامی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس لیے ان اصطلاحوں کی وضاحت نہ صرف علمی ضرورت ہے بلکہ ایمانی اور عملی بقا کا مسئلہ ہے۔
کتاب کا پہلا باب اسی بنیادی خیال کو پیش کرتا ہے کہ قرآن کی دعوت کا مرکزی محور یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی واحد الٰہ اور واحد ربّ ہے، اور انسان کو چاہیے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کرے اور اپنا دین خالص طور پر اسی کے لیے وقف کر دے۔ مولانا نے متعدد قرآنی آیات کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ تمام انبیاء کی دعوت کا یہی مرکزی پیغام رہا ہے۔ اس کے بعد وہ خبردار کرتے ہیں کہ اگر ان اصطلاحوں کا مفہوم ذہن میں غیر واضح یا نامکمل ہو، تو عقیدہ اور عمل دونوں ناقص رہ جاتے ہیں۔
اس تمہید کے بعد کتاب چاروں اصطلاحوں کو باری باری ایک ہی طریقِ کار سے کھولتی ہے: پہلے لفظ کی لغوی تحقیق، پھر قرآن میں اس کے استعمالات کا جائزہ۔ 'الٰہ' کے باب میں جاہلیتِ عرب کے تصورِ الٰہ کا تجزیہ کیا گیا ہے، جبکہ 'ربّ' کا باب سب سے تفصیلی ہے جس میں قومِ نوح، عاد، ثمود، ابراہیم و نمرود، لوط، شعیب، فرعون اور یہود و نصاریٰ کی مثالوں سے یہ دکھایا گیا ہے کہ گمراہ قومیں کس طرح ربوبیت کے تصور میں غلطی کا شکار ہوئیں۔
'عبادت' کے باب میں اس لفظ کے تین مفہوم—اطاعت، پرستش، اور بندگی و اطاعت کا مجموعہ—کو قرآنی مثالوں سے واضح کیا گیا ہے، اور آخری باب 'دین' میں اس اصطلاح کے چار مختلف قرآنی استعمالات کو یکجا کر کے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ 'دین' دراصل ایک جامع اصطلاح ہے جو اقتدارِ اعلیٰ، اطاعت، نظامِ زندگی اور جزا و سزا، سب کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
قرآن میں لفظِ ’’دین‘‘ کا استعمال:
ان تفصیلات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ لفظِ دین کی بنیاد میں چار تصورات ہیں، یا بالفاظِ دیگر یہ لفظ عربی ذہن میں چار بنیادی تصورات کی ترجمانی کرتا ہے۔
۱۔ غلبہ وتسلط، کسی ذی اقتدار کی طرف سے۔
۲۔ اِطاعت، تعبد اور بندگی صاحبِ اقتدار کے آگے جھک جانے والے کی طرف سے۔
۳۔ قاعدہ وضابطہ اور طریقہ جس کی پابندی کی جائے۔
۴۔ محاسبہ اور فیصلہ اور جزا وسزا۔
انھی تصورات میں سے کبھی ایک کے لیے اور کبھی دوسرے کے لیے اہلِ عرب مختلف طور پر اس لفظ کو استعمال کرتے تھے، مگر چوں کہ ان چاروں اُمور کے متعلق عرب کے تصورات پوری طرح صاف نہ تھے اور کچھ بہت زیادہ بلند بھی نہ تھے اس لیے اس لفظ کے استعمال میں ابہام پایا جاتا تھا۔ اور یہ کسی باقاعدہ نظامِ فکر کا اصطلاحی لفظ نہ بن سکا۔ قرآن آیا تو اس نے اس لفظ کو اپنے منشا کے لیے مناسب پاکر بالکل واضح ومتعین مفہومات کے لیے استعمال کیا اور اسے اپنی مخصوص اصطلاح بنا لیا۔ قرآنی زبان میں لفظ دین ایک پورے نظام کی نمایندگی کرتا ہے جس کی ترکیب چار اجزا سے ہوتی ہے۔
۱۔ حاکمیت واقتدارِ اعلیٰ
۲۔ حاکمیت کے مقابلہ میں تسلیم واطاعت۔
۳۔ وہ نظامِ فکرو عمل جو اس حاکمیت کے زیر اثر بنے۔
۴۔ مکافات جو اقتدارِ اعلیٰ کی طرف سے اس نظام کی وفاداری واطاعت کے صلے میں یا سرکشی وبغاوت کی پاداش میں دی جائے۔
قرآن کبھی لفظِ دین کا اطلاق معنیٔ اوّل ودوم پر کرتا ہے، کبھی معنیٔ سوم پر، کبھی معنیٔ چہارم پر اور کہیں الدین بول کر یہ پورا نظام اپنے چاروں اجزا سمیت مراد لیتا ہے۔ اس کی وضاحت کے لیے حسبِ ذیل آیاتِ قرآنی ملاحظہ ہوں۔