مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

قرآن اور پیغمبر

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "قرآن اور پیغمبر" ایک اہم علمی و فکری تحریر ہے جو انسانی تاریخ میں دینی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والے رویوں کا تنقیدی جائزہ پیش کرتی ہے، خاص طور پر اس بات پر زور دیتی ہے کہ دنیا کے مختلف مذاہب کے پیروکار اپنے پیغمبروں یا روحانی قائدین کے ساتھ کس قدر ظلم کرتے آئے ہیں۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ انسانی تاریخ میں ہر دور میں اللہ کے نمائندوں کو ان کے ہم عصروں نے تو صرف ردّ و انکار کیا، مگر ان کے بعد کے پیروؤں نے ان کی شخصیات کو افسانوں، تخیلات اور الوہیت کے رنگ میں رنگ کر ان کی اصلی شناخت کو مسخ کر دیا۔

کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ انسان اپنی ذات کے بارے میں بدگمان ہے؛ وہ اپنے اندر قدسی اور ملکوتی صفات کے امکان کو تسلیم کرنے سے قاصر ہے۔ اس لیے جب کوئی انسان غیر معمولی معنوی بلندیوں تک پہنچ جاتا ہے، تو اس کے لوگ یا تو اسے بالکل مسترد کر دیتے ہیں یا پھر اسے خدا یا خدائی کا شریک بنا دیتے ہیں۔ یہ دونوں رویے درحقیقت اسی بدگمانی کے نتیجے ہیں کہ انسان اپنے وجود میں ایسی بلندیوں کا تصور نہیں کر سکتا جو اسے بشر رہتے ہوئے بھی ملائکہ مقربین سے بلند درجہ عطا کر سکیں۔

کتاب کا واحد باب تین حصوں میں تقسیم ہے، جن میں ہر حصہ اسی مرکزی موضوع کو مختلف زاویوں سے روشن کرتا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

قرآن اپنے لانے والے کو کس رنگ میں پیش کرتا ہے!

دنیا میں انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے ہمیشہ ایسے پاک نفوس پیدا ہوتے رہے ہیں جنہوں نے اپنی زبان اور اپنے عمل سے اس کو حق و صداقت کا سیدھا راستہ دکھایا ہے۔ لیکن انسان اکثر ان کے اس احسان کا بدلہ ظلم ہی کی شکل میں دیتا رہا ہے۔ ان پر ظلم صرف ان کے مخالفوں ہی نے نہیں کیا کہ ان کے پیغام سے بے رخی برتی، ان کی صداقت سے انکار کیا، ان کی دعوت کو رد کیا اور ان کو تکلیفیں دے کر راہ حق سے پھیرنے کی کوشش کی، بلکہ ان پر ظلم ان کے عقیدت مندوں نے بھی کیا کہ اُن کے بعد اُن کی تعلیمات کو مسخ کیا، اُن کی ہدایتوں کو بدل ڈالا، ان کی کتابوں میں تحریف کی، اور خود ان کی شخصیتوں کو اپنی عجائب پسندی کا کھلونا بنا کر الوہیت اور خدائی کا رنگ دے دیا۔

پہلی قسم کا ظلم تو ان نفوس قدسیہ کی زندگی تک یا حد سے حد اس کے چند سال بعد تک ہی محدود رہا۔ مگر یہ دوسری قسم کا ظلم ان کے بعد صدیوں تک ہوتا رہا۔ اور بہت سے بزرگوں کے ساتھ آج تک ہوئے جا رہا ہے۔

دنیا میں آج تک جتنے داعیانِ حق مبعوث ہوئے ہیں سب نے اپنی زندگی ان جھوٹے خداؤں کی خدائی ختم کرنے میں صرف کی ہے جنہیں انسان نے خدائے واحد کو چھوڑ کر اپنا خدا بنا لیا تھا۔ لیکن ہمیشہ یہی ہوتا رہا کہ ان کے بعد ان کے پیروؤں نے جاہلانہ عقیدت کی بنا پر خود ان ہی کو خدا یا خدائی میں خدا کا شریک بنا لیا۔ اور وہ بھی ان بتوں میں شامل کر لیے گئے جنہیں توڑنے انہوں نے اپنی تمام عمر کی محنتیں صرف کر دی تھیں۔

دراصل انسان اپنے آپ سے کچھ ایسا بد گمان ہے کہ اسے انسانیت میں قدسی و ملکوتی صفات کے امکان اور وجود کا بہت کم یقین آتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو محض کمزوریوں اور پستیوں ہی کا مجموعہ سمجھتا ہے۔ اس کا ذہن اس حقیقت کبریٰ کے علم و اذعان سے عموماً خالی رہتا ہے کہ اس کے جسدِ خاکی میں حق جل مجدہ نے وہ قوتیں بھی ودیعت کی ہیں جو اس کو بشر ہونے اور بشری صفات سے متصف رہنے کے باوجود عالمِ پاک میں ملائکہ مقربین سے بھی بلند درجہ تک پہنچا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی اس دنیا میں کسی انسان نے اپنے آپ کو خدا کے نمائندے کی حیثیت سے پیش کیا ہے تو اس کے ہم جنسوں نے پہلے تو یہ دیکھ کر کہ یہ تو ہماری ہی طرح گوشت پوست کا انسان ہے، اسے خدا رسیدہ ماننے سے صاف انکار کر دیا اور جب بالآخر اس کی ذات میں غیر معمولی محاسن کا جلوہ دیکھ کر سر عقیدت سے جھکایا تو پھر کہا کہ جو ہستی ایسی غیر معمولی خوبیوں کی مالک ہو وہ ہرگز بشر نہیں ہو سکتی۔ پھر کسی گروہ نے اس کو خدا بنایا، کسی نے حلول کا عقیدہ ایجاد کر کے یقین کر لیا کہ خدا نے اس کی شکل میں ظہور کیا تھا، کسی نے اس کے اندر خدائی صفات اور خداوندانہ اختیارات کا گمان کیا۔ اور کسی نے حکم لگا دیا کہ وہ خدا کا بیٹا ہے۔ <<سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَصِفُونَ>>۔

دنیا کے کسی پیشوائے دین کی زندگی کو لے لو تم دیکھو گے کہ اس کی ذات پر سب سے زیادہ ظلم خود اس کے معتقدین ہی نے کیا ہے۔ انہوں نے اس پر اپنے تخیلات و اوہام کے اتنے پردے ڈال دیے ہیں کہ اس کی شکل و صورت دیکھنا بالکل محال ہو گیا ہے صرف یہی نہیں کہ ان کی محرف کتابوں سے یہ معلوم کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ اس کی اصلی تعلیم کیا تھی بلکہ ہم ان سے یہ بھی معلوم نہیں کر سکتے کہ وہ خود اصل میں کیا تھا۔ اس کی پیدائش میں اعجوبگی، اس کی طفولیت میں اعجوبگی، اس کی جوانی اور بڑھاپے میں اعجوبگی، اس کی زندگی کی ہر ہر بات میں اعجوبگی اور اس کی موت تک میں اعجوبگی، غرض ابتدا سے لے کر انتہا تک وہ افسانہ ہی افسانہ نظر آتا ہے اور اس کو اس شکل میں پیش کیا جاتا ہے کہ یا تو وہ خود خدا تھا یا خدا کا بیٹا تھا، یا خدا اس میں حلول کر گیا تھا یا کم از کم وہ ایک خدائی میں کسی حد تک شریک و سہیم تھا۔

مثال کے طور پر گوتم بدھ کو دیکھو۔ بودھ مذہب کے نہایت گہرے مطالعہ سے صرف اتنا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس اولوالعزم انسان نے برہمنیت کے بہت سے نقائص کی اصلاح کی تھی، اور خصوصیت کے ساتھ ان بے شمار ہستیوں کی خدائی کا بطلان کیا تھا جن کو اس عہد کے لوگوں نے اپنا معبود بنا لیا تھا۔ مگر اس کے انتقال کو پوری ایک صدی بھی نہ گزری تھی کہ ویسالی کی کونسل میں اس کے پیروؤں نے اس کی تمام تعلیمات کو بدل ڈالا۔ اصل سوتروں کے بجائے نئے سوتر بنا لیے اور اصول اور فروع میں اپنے اہوا اور افکار کے مطابق جس طرح چاہا تصرف کر ڈالا۔ ایک طرف انھوں نے بودھ کے نام سے اپنے مذہب کے ایسے عقائد مقرر کیے جن میں خدا کا سرے سے کوئی وجود ہی نہ تھا۔ اور دوسری طرف بودھ کو عقلِ کل، مدارِ کائنات اور ایک ایسی ہستی قرار دے لیا جو ہر عہد میں دنیا کی اصلاح کے لیے بودھ بن کر آیا کرتی ہے۔ اس کی پیدائش، زندگی اور گذشتہ و آئندہ جنموں کے متعلق ایسے ایسے عجیب افسانے بنا لیے جن کو پڑھ کر پروفیسر ڈسن جیسے محققین حیران ہو کر یہ کہہ اٹھتے ہیں کہ تاریخ میں فی الواقع بودھ کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ تین چار صدی کے اندر ان افسانوں نے بودھ میں الوہیت کا رنگ پیدا کر دیا اور کنشک کے زمانہ میں بودھ مت کے اعیان و ائمہ کی ایک بہت بڑی کونسل نے (جو کشمیر میں منعقد ہوئی تھی) فیصلہ کر لیا کہ بودھ دراصل خدا کا مادی ظہور تھا—یا با الفاظِ دیگر خدا اس کے جسم میں حلول کر گیا تھا۔

یہی سلوک رام چندر جی کے ساتھ ہوا، رامائن کے مطالعہ سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ راجہ رام چندر جی محض ایک انسان تھے۔ نیک دلی، انصاف، شجاعت، فیاضی، تواضع، حلم اور ایثار میں کمال کا مرتبہ تو انھیں ضرور حاصل تھا مگر الوہیت کا شائبہ تک ان میں نہ تھا۔ لیکن بشریت اور ان اعلیٰ صفات کا اجتماع ایک ایسا معمہ ثابت ہوا کہ اہل ہند کی عقل اس کو حل نہ کر سکی چنانچہ رام چندر جی کی وفات پر ایک زمانہ گزرنے کے بعد یہ عقیدہ تسلیم کر لیا گیا کہ ان کے اندر وشنو نے حلول کیا تھا، اور وہ ان ہستیوں میں سے ایک تھے جن کی شکل میں وشنو جی سنسار کی اصلاح کے لیے باوقات مختلفہ ظہور کرتے رہے ہیں۔

سری کرشن اس معاملہ میں ان دونوں سے زیادہ مظلوم ہیں۔ بھگوت گیتا تحریف و تنسیخ کے کئی عملوں سے نکل کر جس شکل میں ہم تک پہنچی ہے اس کے عمیق مطالعہ سے کم از کم اتنا معلوم ہوتا ہے کہ کرشن جی ایک موحد تھے اور انہوں نے ہستیِ باری تعالیٰ کے ہمہ گیر قادر مطلق اور شدید القویٰ ہونے کا وعظ کہا تھا، لیکن مہابھارت، وشنو پران، بھاگوت پران وغیرہ کتابیں اور خود گیتا ان کو اس طرح پیش کرتی ہیں کہ ایک طرف وہ وشنو [وشنو ہندوؤں کے موجودہ عقائد کے مطابق کائنات کی پرورش کرنے والے خدا یا دیوتا کا نام ہے۔ غالباً اصل میں یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا تصور تھا، جسے بعد میں ایک مستقل شخصیت قرار دے دیا گیا] کے جسمانی مظہر، خالقِ موجودات اور مدبر کائنات نظر آتے ہیں اور دوسری طرف ایسی کمزوریاں اُن کی طرف منسوب ہیں کہ انہیں خدا تو خدا پاکیزہ اخلاق کا انسان بھی تسلیم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ گیتا میں کرشن جی کے یہ اقوال ہمیں ملتے ہیں :-

"اس دنیا کا ماں باپ سہارا اور بابا میں ہی ہوں جو کچھ پاکیزہ یا کچھ جاننے کے قابل ہے وہ سب اور اونکار [واحد کارگزار] رگ وید، سام وید، یجر وید بھی میں ہی ہوں۔ سب کا پالنے والا، مالک، گواہ، جائے قیام، جائے پناہ، دوست، باعثِ پیدائش، باعثِ خاتمہ، باعثِ قیام، خزانہ اور پیدائش کا لازوال بیج میں ہی ہوں۔ اے ارجن! میں گرمی دیتا ہوں‘ میں پانی روکتا ہوں، میں برساتا ہوں، میں امرت ہوں اور موت ست اور است [یعنی سچ اور جھوٹ] بھی میں ہی ہوں"۔ (۹: ۱۷، ۱۹)

تمام دیوتا گن [یعنی دیوتا لوگ] اور مہرشی [ یعنی اولیا ] میری پیدائش کو نہیں جانتے۔ کیونکہ سب دیوتاؤں اور مہرشیوں کی ابتدا ہر حال مجھ ہی سے ہے۔ جو شخص یہ جانتا ہے کہ میں (پرتھویوغیرہ ) [زمین ]سب لوکوں [لوک یعنی عالم، جہان] کا بڑا ایشور ہوں اور میرا جنم یعنی آغاز نہیں ہے۔ وہی انسانوں میں موہ [یعنی لگاؤ دنیا کی محبت] سے آزاد ہو کر سب پاپوں سے چھوٹ جاتا ہے۔"

(۱۰ : ۲ - ۳)

ہے گڈاکیش [یعنی اے گندھے ہوئے بالوں والے، مراد ارجن ہے]! سب جانداروں میں رہنے والی آتما [یعنی تمام جانداروں کی روح ] میں ہوں۔ سب جانداروں کا آغاز، وسط اور انجام بھی میں ہوں۔ بارہ آدتیوں میں وشنو [ہندوؤں کے تمام دیوتاؤں میں سے ۱۲ دیوتا سب سے بڑے ہیں جن کو آدتیہ کہتے ہیں اور وشنو ان میں سب سے بڑا دیوتا ہے۔ یہ بارہ آدتیہ ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق ادتی کے بیٹے تھے] میں ہوں۔ تیجسویوں [تیجسوی یعنی نیر] میں کرنوں کی مالا والا سورج، مرتوں میں مریچی [ہندوؤں کی اصطلاح میں مُرت ان ۴۹ دیوتاؤں کا نام ہے جو ہوا کا انتظام کرتے ہیں اور ان کے سردار کا نام مریچی ہے] اور نکھشتروں میں چندرماں [یعنی تاروں میں چاند] میں ہوں ۔" (۱۰ : ۲ - ۲۱)

"ایسا کوئی متحرک یا ساکن جاندار نہیں جو مجھ سے باہر ہو۔ میں صرف اپنے ایک ہی حصہ سے اس تمام جگت میں پھیلا ہوا ہوں۔" (۱۰ : ۲۹-۴۲)

"ہے پانڈو ! جو شخص اس بدھی [بدھی یعنی شعور] کے ساتھ کرم کرتا [یعنی فعل‛ کام] ہے کہ یہ سب کرم میرے یعنی پرمیشور کے ہیں۔ جو میرا بھروسہ رکھ کر اور سب تعلقات چھوڑ کر سب جانداروں کے بارے میں نرویر (عداوت سے مبرا) ہے۔ وہ میرا بھگت تجھ میں مل جاتا ہے۔" (۱۱ : ۵۵)

"میں سب جانداروں کا مالک ہوں اور پیدائش سے بالا تر ہوں۔ اگرچہ میرے آتم سروپ [یعنی میری ذات میں کبھی تغیر نہیں ہوتا] میں کبھی تغیر نہیں ہوتا مگر پھر بھی اپنی پرکرتی (خاصیت) میں قائم ہو کر اپنی بابا [بابا یعنی قدرت یا تدبیر] سے جنم لیا کرتا ہوں۔ ہے بھارت [بھارت یعنی نیک]! جب دھرم کا تنزل ہوتا ہے اور آدھرم کا زور پھیل جاتا ہے تب میں خود ہی جنم لیا کرتا ہوں نیکوں کی حفاظت اور بروں کا ناش کرنے کے لیے اور یگ [یگ یعنی زمانہ] میں دھرم قائم کرنے کے لیے میں جنم لیا کرتا ہوں۔"

(۴-۶۱-۸)

ان اقوال میں صاف طور پر گیتا کے کرشن نے خدا ہونے کا دعویٰ کیا [اگر گیتا خود اس بات کی مدعی ہوئی کہ وہ خدا کی کتاب ہے اور کرشن اس کے پیش کرنے والے نبی ہیں تو مندرجہ بالا اقوال بیشتر خدا کے قرار پا سکتے تھے اور کرشن کی طرف خدائی کا دعویٰ منسوب نہ ہوتا۔ مگر مشکل یہ ہے کہ یہ کتاب خود اپنے آپ کو کرشن کے اپنے اپدیش کی حیثیت سے پیش کرتی ہے۔ پوری گیتا میں کہیں کوئی اشارہ تک بھی اس بات کی طرف نہیں ہے کہ وہ کلام الہی ہے] ہے۔ مگر دوسری طرف بھاگوت پران انہی کرشن جی کو اس شکل میں پیش کرتی ہے کہ وہ نہاتے میں گوپیوں کے کپڑے چھپا لیتے ہیں، ان سے لطف اندوز ہونے کے لیے اتنے ہی جسم پیدا کر لیتے ہیں، جتنی گوپیاں تھیں اور جب شک رشی سے راجہ پرکشت پوچھتا ہے کہ "خدا تو اوتار کی شکل میں اس لیے ظاہر ہوتا ہے کہ سچا دھرم پھیلائے۔ پھر یہ کیسا خدا ہے کہ دھرم کے تمام اصول کے خلاف دوسروں کی عورتوں سے ناجائز تعلقات رکھتا ہے؟ تو رشی کو یہ اعتراض رفع کرنے کے لیے اس حیلہ کے دامن میں پناہ لینی پڑتی ہے۔ خود دیوتا بھی بعض اوقات نیکی کی راہ سے ہٹ جاتے ہیں۔ مگر ان کے گناہ ان کی ذات پر اسی طرح اثر نہیں کرتے جس طرح آگ تمام چیزوں کو جلانے کے باوجود موردِ الزام نہیں ہو سکتی۔

کوئی سلیم العقل آدمی یہ باور نہیں کر سکتا کہ کسی بلند پایہ معلمِ دین کی زندگی ایسی ناپاک ہو سکتی ہے اور نہ وہ یہی تصور کر سکتا ہے کہ کسی سچے مذہبی پیشوا نے فی الحقیقت اپنے آپ کو انسانوں کے اور کائنات کے رب کی حیثیت سے پیش کیا ہو گا۔ لیکن قرآن اور بائبل کے متقابل مطالعہ سے یہ حقیقت واضح طور پر ہمارے سامنے روشن ہو جاتی ہے کہ قوموں نے اپنے ذہنی انحطاط اور اخلاقی زوال کے دور میں کس طرح دنیا کے پاکیزہ ترین انسانوں کی سیرتوں کو ایک طرف گندی سے گندی شکل میں ڈالا ہے تا کہ خود اپنی کمزوریوں کے لیے وجہ جواز پیدا کریں۔ اور دوسری طرف ان کی شخصیتوں کے گرد کیسے کیسے وہمی افسانے جمع کر دیے ہیں۔ اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بھی سب کچھ کرشن جی کے ساتھ بھی ہوا ہو گا۔ اور ان کی اصل تعلیم اور اصل شخصیت اس سے بالکل مختلف ہو گی جیسی ہندوؤں کی مذہبی کتابیں اسے پیش کرتی ہیں۔

جن بزرگوں کی نبوت معلوم و مسلم ہے ان میں سب سے بڑھ کر ظلم سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر کیا گیا ہے۔ حضرت عیسیٰؑ ویسے ہی ایک انسان تھے جیسے سب انسان ہوا کرتے ہیں۔ بشریت کی تمام خصوصیتیں ان میں بھی اسی طرح موجود تھیں جس طرح ہر انسان میں ہوتی ہیں۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت اور نبوت اور اعجاز کی قوتیں عطا فرما کر ایک بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح کے لیے مامور فرمایا تھا لیکن اول تو ان کی قوم نے ان کو جھٹلایا اور پورے تین سال بھی ان کے وجود مسعود کو برداشت نہ کر سکی۔ یہاں تک کہ عین عالم شباب میں انہیں قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا، پھر جب وہ ان کے بعد ان کی عظمت کی قائل ہوئی تو اس قدر حد سے تجاوز کر گئی کہ ان کو خدا کا بیٹا بلکہ عین خدا بنا دیا، اور یہ عقیدہ ان کی طرف منسوب کیا کہ خدا مسیح کی شکل میں اس لیے نمودار ہوا تھا کہ صلیب پر چڑھ کر انسان کے گناہوں کا کفارہ ادا کرے۔ کیونکہ انسان فطرۃً گناہ گار تھا اور خود اپنے عمل سے اپنے لیے نجات حاصل نہ کر سکتا تھا۔ معاذ اللہ! ایک نبی صادق اپنے پروردگار پر اتنا بڑا بہتان کس طرح اٹھا سکتا تھا۔ مگر اس کے معتقدوں نے جوش عقیدت میں اس پر یہ بہتان اٹھایا اور اس کی تعلیمات میں اپنی ہوائے نفس کے مطابق اتنی تحریف کی کہ آج دنیا کی کسی کتاب میں (سوائے قرآن کے) مسیح کی اصلی تعلیم اور خود ان کی حقیقت کا نشان نہیں ملتا۔ بائبل کے عہد جدید میں جو کتابیں اناجیل اربعہ کے نام سے موجود ہیں، انہیں اٹھا کر دیکھ جاؤ، سب حلول، ابنیت اور عینیت کے فاسد تخیلات سے آلودہ ہیں۔ کہیں حضرت مریمؑ کو بشارت ہوتی ہے کہ تیرا بچہ خدا کا بیٹا کہلائے گا (لوقا ۱: ۳۵) کہیں خدا کی روح کبوتر کے مانند یسوع پر اتر کر آتی ہے اور پکار کر کہتی ہے کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے۔ (متی ۳: ۱۶، ۱۷) کہیں مسیح خود کہتا ہے کہ میں خدا کا بیٹا ہوں اور تم مجھ کو قادر مطلق کے دہنی جانب بیٹھے دیکھو گے۔ (مرقس ۱۴- ۶۲) کہیں روز جزا میں خدا کے بجائے مسیح کو تخت جلال پر بٹھایا جاتا ہے اور وہ جزا وسزا کے فرمان نافذ کرتا ہے (متی ۲۵: ۳۱۔ ۴۱) کہیں مسیح کے منہ سے کہلوایا جاتا ہے کہ باپ مجھ میں ہے اور میں باپ میں ہوں۔‘‘ (یوحنا ۱۰۔ ۳۸) کہیں اس راست گو انسان کی زبان سے یہ غلط الفاظ نکلوائے جاتے ہیں کہ میں خدا میں سے نکل آیا ہوں۔ (یوحنا ۸: ۴۲) کہیں اس کو اور خدا کو بالکل ایک کر دیا جاتا ہے۔ اور اس کی طرف یہ قول منسوب کیا جاتا ہے کہ جس نے مجھے دیکھا اس نے باپ کو دیکھا، اور ”باپ مجھ میں رہ کر اپنے کام کرتا ہے۔ (یوحنا ۱۴: ۱۰، ۹) کہیں خدا کی تمام چیزیں مسیح کی طرف منتقل کر دی جاتی ہیں۔ (یوحنا ۳: ۳۵) اور خدا اپنی خدائی کا سارا کاروبار مسیح کے سپرد کر دیتا ہے۔ (یوحنا ۵: ۲۰- ۲۲)

ان مختلف قوموں نے اپنے پیشواؤں اور ہادیوں پر جتنے بہتان و افتراء کے رَدے چڑھائے ہیں اُن کی اصل وجہ وہی غلو ہے جس کا ہم نے ابتداء میں ذکر کیا ہے، پھر اس خرابی کو جس چیز سے سب سے زیادہ مدد ملی وہ یہ تھی کہ ان بزرگوں کے بعد اکثر حالات میں تو ان کی ہدایات اور تعلیمات کو تحریری شکل میں قلم بند ہی کیا گیا۔ اس لیے تھوڑا زمانہ گزرنے کے بعد اس میں اتنی آمیزش اور تحریف و ترمیم ہو گئی کہ اصل و جعل میں امتیاز کرنا محال ہو گیا۔ اس طرح کسی واضح ہدایت کے موجود نہ ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ جتنا جتنا زمانہ گزرتا گیا حقیقت پر اوہام غالب آتے گئے اور چند صدیوں میں ساری حقیقت گم ہو گئی۔ صرف افسانے ہی افسانے باقی رہ گئے۔

دنیا کے تمام ہادیوں میں یہ خصوصیت صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے کہ آپ کی تعلیم اور آپ کی شخصیت ۱۳ صدیوں سے بالکل اپنے حقیقی رنگ میں محفوظ ہے اور خدا کے فضل سے کچھ ایسا انتظام ہو گیا ہے کہ اب اس کا بدلنا غیر ممکن ہے۔ انسان کی اوہام پرستی اور عجوبہ پسندی سے بعید نہ تھا کہ وہ اس برگزیدہ ہستی کو بھی جو کمال کے سب سے اعلیٰ درجہ پر پہنچ چکی تھی، افسانہ بنا کر الوہیت سے کسی نہ کسی طرح متصف کر ڈالتی، اور پیروی کے بجائے محض ایک ہیرو استعجاب اور عبادت و پرستش کا موضوع بنا لیتی لیکن اللہ تعالیٰ کو بعثت انبیاء کے آخری مرحلہ میں ایک ایسا ہادی و رہنما بھیجنا منظور تھا جس کی ذات انسان کے لیے دائمی نمونہ عمل اور عالمگیر سرچشمہ ہدایت ہو اس لیے اس نے محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو اس ظلم سے محفوظ رکھا، جو جاہل معتقدوں کے ہاتھوں دوسرے انبیاء اور ہادیانِ اقوام کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ بقول تو آپ کے صحابہ و تابعین اور بعد کے محدثین نے پچھلی امتوں کے برعکس اپنے نبی کی سیرت کو محفوظ رکھنے کا خود ہی غیر معمولی اہتمام کیا ہے جس کی بدولت ہم آپ کی شخصیت کو ساڑھے تیرہ سو برس گزر جانے پر بھی آج تقریباً اتنے ہی قریب سے دیکھ سکتے ہیں جتنے قریب سے خود آپ کے عہد کے لوگ دیکھ سکتے تھے لیکن اگر کتابوں کا وہ تمام ذخیرہ دنیا سے مٹ جائے جو ائمہ اسلام نے سالہا سال کی محنتوں سے مہیا کیا ہے، حدیث و سیر کا ایک ورق بھی دنیا میں نہ رہے جس سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا کچھ حال معلوم ہو سکتا ہو اور صرف کتاب اللہ (قرآن) ہی باقی رہ جائے تب بھی ہم اس کتاب سے ان تمام بنیادی سوالات کا جواب حاصل کر سکتے ہیں جو اس کے لانے والے کے متعلق ایک طالب علم کے ذہن میں پیدا ہو سکتے ہیں۔

آئیے اب ہم دیکھیں کہ قرآن اپنے لانے والے کو کس رنگ میں پیش کرتا ہے:

۱- قرآن مجید نے رسالت کے معاملے میں سب سے پہلے جس مسئلہ کو انتہائی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے وہ رسول کی بشریت ہے۔ نزول قرآن سے پہلے صدیوں کے معتقدات نے یہ ایک طے شدہ مسئلہ بنا دیا تھا کہ انسان کبھی اللہ کا رسول اور نائب نہیں بن سکتا۔ دنیا کی اصلاح کے لیے جب کبھی ضرورت ہوتی ہے خدا خود ہی انسان کی صورت میں ظاہر ہوا کرتا ہے، یا کسی فرشتے اور دیوتا کو بھیج دیتا ہے اور یہ کہ جتنے بزرگ دنیا میں اصلاح کے لیے آئے ہیں وہ سب کے سب فوق البشر ہستی تھے اس عقیدے نے انسان میں اتنی گہری جڑیں پکڑ لی تھیں کہ جب بھی اللہ کا کوئی نیک بندہ لوگوں کو اللہ کا کوئی پیغام پہنچانے کے لیے آتا تو سب سے پہلے لوگ حیرت سے پوچھتے تھے کہ یہ کیسا نبی ہے جو ہماری طرح کھاتا، پیتا، سوتا اور چلتا پھرتا ہے؟ یہ کیسا پیغمبر ہے کہ ہماری طرح تمام عوارض اس کو بھی لاحق ہوتے ہیں؛ بیمار ہوتا ہے، تکلیف اور راحت میں مبتلا ہوتا ہے، اور رنج و مسرت سے متاثر ہوا کرتا ہے۔ اگر اللہ کو ہماری ہدایت مقصود ہوتی تو وہ ہم جیسا ایک کمزور انسان کیوں بھیجتا؟ کیا خدا خود نہیں آ سکتا تھا؟ یہ سوالات ہر نبی کی بعثت پر پیدا ہوتے تھے اور ان ہی کو حجت بنا کر یہ لوگ انبیاء کا انکار کیا کرتے تھے۔ حضرت نوحؑ جب اپنی قوم کی طرف پیغام لے کر آئے تو کہا گیا :-

<<مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْۙ يُرِيْدُ اَنْ يَّتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْؕ وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓىِٕكَةً ۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِيْۤ اَابَآىِٕنَا الْاَوَّلِيْنَ>>

یہ شخص اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ تم ہی جیسا ایک انسان ہے جو تم پر فضیلت حاصل کرنا چاہتا ہے ورنہ اگر خدا چاہتا تو فرشتوں کو اتارتا، یہ انوکھی بات تو ہم نے اپنے بزرگوں سے کبھی سنی ہی نہ تھی۔ (مومنون - ۲)

جب حضرت ہودؑ اپنی قوم کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے تو ان پر بھی سب سے پہلے یہی اعتراض ہوا :-

<<مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْۙ يَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ وَلَئِنْ أَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ إِنَّكُمْ إِذًا لَّخَاسِرُونَ>>

یہ شخص اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک بشر ہے تم ہی جیسا وہی کچھ کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی کچھ پیتا ہے جو تم پیتے ہو اگر تم نے

اپنے جیسے ایک بشر کی اطاعت کی تو بڑے ٹوٹے میں رہو گے۔ ( مومنون - ۳ )

جب حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام فرعون کے پاس صداقت کا پیغام لے کر پہنچے، تو ان کی بات ماننے سے بھی اسی بنا پر انکار کیا گیا۔

<<أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا>>

کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں ؟ ( مومنون - ۳ )

چنانچہ ٹھیک یہی سوال اس وقت بھی اٹھا جب مکہ کے ایک اُمّی انسان نے چالیس برس تک خاموش زندگی بسر کرنے کے بعد دفعۃً اعلان کیا کہ میں خدا کی طرف سے رسول مقرر کیا گیا ہوں ۔ لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہ آتی تھی کہ ایک شخص جو ہماری طرح ہاتھ پاؤں آنکھ ناک اور جسم و جان رکھتا ہے کیونکر اللہ کا رسول ہو سکتا ہے وہ حیران ہو کر پوچھتے تھے کہ :-

<<مَا لِهٰذَا الرَّسُولِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ يَمْشِىْ فِي الْاَسْوَاقِ لَوْلَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَهُ نَذِيرًا ۙ أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا >>

یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ؟ کیوں نہ اس پر کوئی فرشتہ اترا کہ اس کے ساتھ رہ کر لوگوں کو ڈراتا ؟ یا کم از کم اس کے لیے کوئی خزانہ ہی اتارا جاتا یا اس کے پاس کوئی باغ ہوتا جس کے پھل یہ کھاتا۔ (الفرقان۔۱)

یہ غلط فہمی چونکہ رسالت کے تسلیم کیے جانے میں سب سے زیادہ مانع ہو رہی تھی اس لیے قرآن مجید میں پورے زور کے ساتھ اس کی تردید کی گئی، اور دلائل کے ساتھ بتایا گیا کہ انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی زیادہ موزوں ہو سکتا ہے۔ کیونکہ بعثت کا مقصود صرف تعلیم ہی دینا نہیں ہے بلکہ خود عمل کر کے دکھانا اور تقلید و پیروی کے لیے ایک نمونہ پیش کرنا بھی ہے۔ اور اس مقصد کے لیے اگر فرشتہ یا اور کوئی فوق البشر ہستی بھیجی جائے، جس میں بشری خصائص اور کمزوریاں موجود نہ ہوں تو انسان کہہ سکتا ہے کہ ہم اس طرح کیونکر عمل کر سکتے ہیں جب کہ وہ ہماری طرح نفس اور نفسانی خواہشات ہی نہیں رکھتا اور اس کی فطرت میں وہ قوتیں ہی نہیں ہیں جو انسان کو گناہ کی طرف راغب کرتی ہیں۔

<<لَوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَلَائِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَّسُولًا>>

اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو البتہ ہم بھی ان پر ان پر آسمان سے کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر اتارتے۔ (بنی اسرائیل ۔ ۱۱)

پھر صاف طور پر تصریح کی کہ اس سے پہلے جتنے انبیاء اور ہادیانِ برحق مختلف قوموں میں بھیجے گئے ہیں وہ سب ایسے ہی انسان تھے جیسے محمد رسول اللہ ہیں اور اسی طرح کھاتے پیتے اور چلتے پھرتے تھے جس طرح ہر انسان کھاتا پیتا اور چلتا پھرتا ہے۔

<<وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِمْ ۖ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ>>

ہم نے تم سے پہلے جن لوگوں کو بھیجا تھا وہ بھی آدمی ہی تھے جن پر ہم وحی نازل کرتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے پوچھ لو۔ ہم نے ان انبیاء کو ایسے جسم نہیں دیے تھے کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ وہ غیر فانی تھے۔ (انبیاء: ۱)

<<وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ>>

اور ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ (الفرقان - ۲)

<<وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّن قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً>>

ہم نے تم سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے تھے اور ان کے لیے ہم نے بیویاں بھی پیدا کی تھیں اور ان کو اولاد بھی دی تھی۔ (الرعد- ٦)

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ تم اپنے بشر ہونے کا صاف اعلان کر دو۔ تاکہ آپ کے بعد لوگ آپ کو بھی اسی طرح الوہیت سے متصف نہ کرنے لگیں جس طرح آپ سے پہلے دوسرے انبیاء کو کر چکے تھے۔ چنانچہ قرآن مجید میں متعدد جگہ یہ آیت آئی ہے :-

<<قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ>>

اے محمد! کہہ دو کہ میں تو محض تم ہی جیسا ایک انسان ہوں، مجھ پر وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے۔ (کہف- ع١۲)

ان تصریحات نے صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے متعلق تمام فاسد عقائد کا دروازہ بند نہیں کیا بلکہ تمام انبیاء سابقین اور بزرگانِ دین کی ذات سے بھی اس غلط فہمی کا ازالہ کر دیا۔

۲- دوسری چیز جس کو نہایت وضاحت کے ساتھ قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے، نبی کی قوت و قدرت کا مسئلہ ہے۔ جہل و نادانی نے جب خدا رسیدگی کو خدائی کا ہم معنی بنا دیا تو طبعاً اس کے ساتھ یہ عقیدہ بھی پیدا ہو گیا کہ خدا رسیدہ لوگوں میں غیر معمولی طاقتیں ہوتی ہیں، خدا کے کارخانہ میں ان کو کچھ خاص اختیارات حاصل ہوتے ہیں، جزا و سزا میں ان کو دخل ہوتا ہے۔ غیب و شہادت سب کچھ ان پر روشن ہوتا ہے۔ قسمتوں کے فیصلے ان کی مرضی و رائے سے ادلتے بدلتے ہیں۔ نفع و ضرر پر ان کو اقتدار ہوتا ہے۔ خیر و شر کے وہ مالک ہوتے ہیں کائنات کی تمام قوتیں ان کے تابع ہوتی ہیں اور وہ بیک نظر لوگوں کے دلوں کو بدل کر ان کی ظلمت و ضلالت کو دور کر سکتے ہیں۔ ایسے ہی خیالات تھے جن کی بنا پر لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی عجیب عجیب مطالبے کرتے تھے، چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:-

<<وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنْۢبُوْعًا اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْأَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِيْرًا اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا اَوْ تَأْتِيَ بِاللّٰهِ وَالْمَلٰٓئِكَةِ قَبِيْلًا اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِي السَّمَآءِ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا>>

انہوں نے کہا ہم تو تم پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک تم ہمارے لیے زمین میں سے ایک چشمہ نہ نکال دو، یا تمہارے لیے خرما اور انگوروں کا ایک باغ پیدا ہو۔ اور اس میں تم نہریں پیدا کر دو۔ یا جیسا کہ تم کہا کرتے ہو آسمان کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہم پر گرا دو۔ یا اللہ اور ملائکہ کو ہمارے سامنے لا کھڑا کر دو، یا تمہارے لیے سونے کا ایک گھر بن جائے، یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور ہم تمہارے چڑھنے پر بھی اس وقت تک یقین نہ کریں گے جب تک کہ تم ہمارے اوپر ایسی ایک تحریر نازل نہ کر دے جسے ہم پڑھیں۔ اے محمدؐ ان سے کہو ! پاک ہے میرا رب میں اس کے سوا اور کیا ہوں کہ انسان ہوں جسے رسول بنایا گیا ہے۔ (بنی اسرائیل ۔ ۱۰۰)

خدا رسیدگی اور بزرگی کے متعلق یہ جتنے غلط تصورات لوگوں میں پائے جاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان سب کی تردید فرمائی اور صاف بتا دیا کہ رسول کا خدائی طاقتوں اور خدائی کاموں میں ذرہ برابر کوئی حصہ نہیں ہے، چنانچہ فرمایا : نبی ہمارے اذن کے بغیر دوسروں کو ضرر سے بچانا تو درکنار خود اپنے آپ سے بھی ضرر کو دفع کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔

<<وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ وَإِنْ يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ>>

اے نبی ! اگر خدا تمہیں کوئی نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اس نقصان کا دُور کرنے والا نہیں ہے اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (انعام ۔ ۲)

<<قُل لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي ضَرًّا وَلَا نَفْعًا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ>>

اے محمد کہو ! میں تو اپنی ذات کے لیے بھی نفع یا نقصان کی قدرت نہیں رکھتا سوائے اس کے کہ جو خدا چاہے۔ (یونس ۔ ۵)

اور فرمایا: نبی کے پاس اللہ کے خزانوں کی کنجیاں نہیں ہیں۔ نہ وہ علم غیب رکھتا ہے اور نہ اس کو فوق العادۃ قوتیں حاصل ہیں۔

<<قُل لَّا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ>>

اے محمد! کہو، میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ نہ میں غیب کا حال جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہی کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں (یعنی انسانی کمزوریوں سے پاک ہوں) میں تو صرف اس چیز کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے۔ (انعام - ۵)

<<وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ ۚ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ>>

اور اگر میں غیب جاننے والا ہوتا تو اپنے لیے بہت کچھ فائدے سمیٹ لیتا اور مجھ کو کوئی نقصان نہ پہنچتا۔ میں تو محض ایک متنبہ کرنے والا ہوں اور جو میری بات مان لیں ان کو خوش خبری دینے والا ہوں۔ (اعراف ۱۸۸)

اور فرمایا: نبی کو حساب و کتاب اور جزا اور سزا میں کچھ دخل نہیں، اس کا کام صرف پیغام پہنچانا اور سیدھی راہ بتا دینا ہے، آگے محاسبہ اور مواخذہ کرنا اور لوگوں کو جزا اور سزا دینا خدا کا کام ہے :-

<<قُلْ اِنِّيْ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَكَذَّبْتُمْ بِهٖ مَا عِنْدِيْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ هٖ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ يَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَيْرُ الْفٰصِلِينَ قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِيْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِيَ الْاَمْرُ بَيْنِيْ وَ بَيْنَكُمْ وَاللهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِيْنَ>>

اے محمد ! ان لوگوں سے کہو کہ میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے، اب یہ بات میرے اختیار میں نہیں ہے کہ جس عذاب کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو وہ میں خود تمہارے اوپر نازل کردوں۔ فیصلہ بالکل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہی امر حق بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے، ان سے کہو کہ اگر کہیں وہ عذاب میرے اختیار میں ہوتا جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان کبھی فیصلہ ہو چکا ہوتا۔ مگر اللہ ہی ظالموں سے خوب نپٹنا جانتا ہے۔ ( الانعام ۔ ۷ )

<<فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ>>

اے نبی ! تمہارا کام تو بس پیغام پہنچا دینا ہے، حساب لینا ہمارا کام ہے۔ (الرعد 6)

<< اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ ۚ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۚ وَمَاۤ اَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيْلٍ>>

(اے نبی!) ہم نے لوگوں (کی ہدایت) کے لیے تم پر یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری ہے اب جو کوئی ہدایت قبول کرتا ہے اپنے ہی لیے اچھا کرتا ہے اور جو گمراہی میں پڑتا ہے اپنے ہی حق میں برا کرتا ہے اور تم ان پر کوئی حوالہ دار نہیں ہو۔ ( الزمر ۔ ۴)

اور فرمایا: لوگوں کے دلوں کو پھیر دینا اور جن لوگوں میں قبول حق کی آمادگی نہ ہو ان میں ایمان پیدا کر دینا نبی کے بس کی بات نہیں ہے ۔ وہ ہادی صرف اس معنی میں ہے کہ نصیحت اور تذکیر کا جو حق ہے اس کو وہ پورا پورا ادا کر دیتا ہے اور جو راستہ دیکھنا چاہے اسے راستہ دکھا دیتا ہے ۔

<<اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِيْنَ ٥ وَمَاۤ اَنْتَ بِهٰدِى الْعُمْىِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ يُّؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ ٥>>

تم مُردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں تک آواز پہنچا سکتے ہو جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر لوٹ جائیں ۔ اور نہ تم اندھوں کو گمراہی سے نکال کر سیدھے راستہ پر ڈال سکتے ہو ۔ تم تو صرف ان ہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری نشانیوں پر ایمان لاتے ہیں۔ پھر سرِ اطاعت جھکا دیتے ہیں۔ (النمل - ۶)

<<وَمَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِي الْقُبُورِ ۖ اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِيرٌ ۙ اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ الْحَقِّ بَشِيرًا وَّنَذِيرًا ۚ>>

تم قبر کے مُردوں کو سنانے والے نہیں ہو۔ تم تو صرف آگاہ کر دینے والے ہو اور ہم نے تم کو حق کے ساتھ خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ (فاطر، ۳)

پھر یہ بھی صاف بتا دیا کہ نبی کو جو کچھ قدر و عزت اور علوِ مرتبت حاصل ہے سب اس بنا پر ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے، اس کے احکام پر ٹھیک ٹھیک چلتا ہے اور جو کچھ کلام اس پر نازل کیا جاتا ہے اسے جوں کا توں اللہ کے بندوں تک پہنچا دیتا ہے ورنہ اگر وہ اطاعت سے منہ موڑے، اللہ کے کلام میں اپنے دل سے گھڑ کر باتیں ملا دے تو اس کا کوئی امتیاز باقی نہیں رہتا۔

<<وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ>>

اور اگر تم نے ان کی خواہشات کی پیروی کی، اس علم کے باوجود جو تمہارے پاس آگیا ہے تو یقیناً اس صورت میں تم ظالم ہو گے۔ (بقره، ۱۷ )

<<وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَآءَهُمُ بَعْدَ الَّذِىْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ>>

اور اگر تم نے اس علم کے باوجود جو تمہارے پاس آیا ہے ان کے خواہشات کی پیروی کی تو تمہیں اللہ کی سزا سے بچانے والا کوئی حامی اور مددگار نہ ہوگا۔ (بقرہ ۔ ۱۴)

<<قُلْ مَا يَكُوْنُ لِيْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِىْ ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰىۤ اِلَىَّ ۚ اِنِّيْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّيْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ>>

اے محمد ! ان سے کہو مجھ کو اس کلام میں اپنی طرف سے کچھ رد و بدل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ میں تو صرف اس چیز کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔ (یونس -۲ع)

یہ باتیں اس لیے نہیں کہی گئیں کہ معاذ اللہ رسول اکرمؐ سے کسی نافرمانی یا تحریف و تلبیس کا ادنٰی سا اندیشہ بھی تھا۔ دراصل ان سے مقصود دنیا پر یہ حقیقت واضح کرنا تھی کہ نبی کو بارگاہِ رب العزت میں جو تقرب حاصل ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ نبی کی ذات سے اللہ کا کوئی رشتہ ہے بلکہ اس کے مقرب ہونے کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ اللہ کا نہایت درجہ مطیع فرمان اور دل و جان سے اس کا بندہ ہے۔

۳۔ تیسری چیز جس کا بار بار نہایت صراحت کے ساتھ قرآن مجید میں ذکر کیا گیا ہے یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ’نئے‘ نبی نہیں ہیں، بلکہ جماعتِ انبیاء ؑ کے ایک فرد اور اس سلسلۂ نبوت کی ایک کڑی ہیں جو ابتدائے آفرینش سے لے کر آپ کی بعثت تک جاری رہا۔ اور جس میں ہر قوم اور ہر زمانہ کے انبیاء و رسل شامل ہیں۔ قرآن حکیم نبوت و رسالت کو کسی ایک ذات یا ایک ملک یا ایک قوم سے مخصوص نہیں کرتا، بلکہ وہ صاف صاف اعلان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم اور ہر ملک اور ہر زمانہ میں ایسے مقدس نفوس پیدا کیے ہیں جنہوں نے انسان کو صراطِ مستقیم کی طرف دعوت دی ہے اور گمراہی کے برے نتائج سے ڈرایا ہے۔

<<وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ>>

کوئی قوم ایسی نہیں گزری ہے جس میں کوئی تنبہ کرنے والا نہ آیا ہو۔ (فاطر: ۳)

<<وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ کُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ج>>

اور ہم نے ہر قوم میں ایک پیغمبر بھیجا جس نے پیغام دیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے پرہیز کرو۔ (النحل۵)

ان ہی پیغمبروں اور ڈرانے والوں میں سے ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں، چنانچہ جگہ جگہ ارشاد ہوتا ہے:۔

<<هٰذَا نَذِيْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى>>

یہ ایک ڈرانے والا ہے اگلے ڈرانے والوں میں سے۔ (النجم۔۳)

<<اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَۙ>>

اے محمد! یقیناً تم پیغمبروں میں سے ہو۔ (یٰسٓ۔۱)

<<قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَ لَا بِكُمْ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ>>

اے محمد! کہو، میں کوئی نرالا رسول نہیں ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ برتا جائے گا۔ اور تمہارے ساتھ کیا سلوک ہوگا میں تو اس چیز کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے اور میں محض ایک ڈرانے والا ہوں۔ صاف صاف۔ (احقاف۔۱)

<<وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ>>

محمد کچھ نہیں ہے مگر ایک رسول اور اس سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں۔ (آل عمران۔۱۵)

یہی نہیں بلکہ یہ بھی کہہ دیا کہ رسول عربی کی دعوت وہی دعوت ہے جس کی طرف ابتدائے آفرینش سے ہر داعی حق بلاتا رہا ہے اور آپؐ اسی دین فطرت کی تلقین کرتے ہیں جس کی تلقین ہمیشہ اللہ کے ہر نبی و رسول نے کی ہے۔

<<قُوْلُوْا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَا اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَا اُنْزِلَ اِلٰى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِيْلَ وَ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَا اُوْتِيَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى وَمَا اُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُوْنَ o فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَا اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا>>

کہو ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس تعلیم پر جو ہماری طرف اُتاری گئی ہے اور اس تعلیم پر جو ابراہیمؑ، اسمٰعیلؑ، اسحٰقؑ، یعقوبؑ اور ان کی اولاد پر اُتاری گئی تھی اور جو موسیٰؑ و عیسیٰؑ اور دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی۔ ہم ان کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مطیع فرمان ہیں پس اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم لائے ہو تو وہ سیدھے راستے پر ہیں۔ (بقرہ: ۱۶)

قرآن مجید کی یہ تصریحات اس حقیقت میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رکھتیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پچھلے پیغمبروں میں سے کسی کی تکذیب یا کسی کے لائے ہوئے پیغام کی تردید کرنے کے لیے نہیں آئے تھے بلکہ اسی سچے مذہب کو جو اول دن سے تمام قوموں کے پیغمبر پیش کرتے چلے آئے تھے بعد کے لوگوں کی ملاوٹوں سے پاک کر کے پھر پیش کر دیں۔

۴۔ اس طرح قرآن مجید اپنے لانے والے کی صحیح حیثیت واضح کرنے کے بعد ان کاموں کی تفصیل بیان کرتا ہے جن کے لیے اللہ نے اسے بھیجا تھا۔ یہ کام بحیثیت مجموعی دو شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں، ایک شعبہ تعلیمی، دوسرا شعبہ عملی۔

پہلے شعبہ کے کام حسب ذیل ہیں :

(۱) تلاوت آیات، تزکیہ نفوس، اور تعلیم کتاب و حکمت۔

<<لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيٰتِهِ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ ۚ وَ إِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلَالٍ مُّبِينٍ ٥>>

در حقیقت ایمان لانے والوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے ان کے درمیان خود ان ہی میں سے ایک ایسا رسول اٹھایا جو انہیں اس کی آیات سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ورنہ اس سے پہلے تو وہ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔ (آل عمران : ۱۷)

تلاوت آیات سے مراد اللہ کے فرامین اور ارشادات کو جوں کا توں سنا دینا ہے۔ تزکیہ سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کے اخلاق اور ان کی زندگی کو بُری صفات، بری رسموں اور بُرے طریقوں سے پاک کیا جائے، اور اُن کے اندر اچھے اوصاف، پاکیزہ اخلاق اور صحیح طریقوں کو نشوونما دیا جائے۔ تعلیم کتاب و حکمت یہ ہے کہ لوگوں کو خدا کی کتاب کا صحیح منشاء و مدعا سمجھایا جائے۔ ان کے اندر ایسی بصیرت پیدا کی جائے کہ وہ کتاب کی اصل روح تک پہنچ سکیں۔ اور انہیں وہ حکمت سکھائی جائے جس سے وہ اپنی زندگی کے تمام مختلف وسعت پذیر پہلوؤں کو کتاب اللہ کے مطابق ڈھالتے چلے جائیں۔

(۲) تکمیلِ دین :-

<<الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَ رَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا>>

آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمہارے لیے اسلام کے طریقے کو پسند کیا۔ (المائدہ : ۱)

دوسرے الفاظ میں قرآن کے بھیجنے والے نے اس کے لانے والے سے صرف اتنی ہی خدمت نہیں لی کہ وہ اس کی آیات کی تلاوت کرے، نفوس کا تزکیہ کرے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دے، بلکہ اس نے اپنے اسی نیک بندے کے ذریعے سے اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچا دیا۔ جو آیات نوعِ انسانی تک بھیجنی تھیں وہ سب اس کے واسطہ سے بھیج دیں۔ جن خرابیوں سے انسانی زندگی کو پاک کرنا مقصود تھا وہ سب اس کے ہاتھوں سے دور کرا کے دکھا دیا۔ جن خوبیوں کا نشوونما جس شان کے ساتھ افراد اور سوسائٹی میں ہونا چاہیے تھا اس کا بہترین نمونہ اس کی رہنمائی میں پیش کرا دیا۔ اور کتاب و حکمت کی ایسی تعلیم اس کے ذریعے سے دلوادی کہ آنے والے تمام زمانوں میں مقصودِ کتاب کے مطابق انسانی زندگی کی تشکیل و تعمیر کی جا سکتی ہے۔

(۳) ان اختلافات کی حقیقت واضح کرنا جو اصل دین حق میں پچھلے انبیاء کی امتوں کے درمیان پیدا ہو گئے تھے اور تمام پردوں کو ہٹا کر تمام آمیزشوں کو چھانٹ کر، تمام الجھنوں کو صاف کر کے اس راہ راست کو پوری روشنی میں نمایاں کر دینا جس کی پیروی ہمیشہ سے خدا کی رضا کو پہنچنے کی ایک ہی راہ رہی ہے:۔

<<تَاللهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ أُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ ۭ وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوْا فِيْهِ ۙ وَهُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ o>>

بخدا کہ ہم نے (اے محمد!) تم سے پہلے مختلف امتوں کی طرف ہدایت بھیجی۔ مگر اس کے بعد شیطان نے ان کے غلط اعمال کو ان کے لیے خوشنما بنا دیا، چنانچہ آج وہی ان کا سرپرست بنا ہوا ہے، اور وہ دردناک عذاب کے مستحق ہو گئے ہیں اور ہم نے تم پر یہ کتاب صرف اس لیے نازل کی ہے کہ اس حقیقت کو ان کے سامنے واضح کر دو جس میں ان کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے اور اس لیے کہ یہ کتاب ہدایت اور رحمت ہو۔ ان لوگوں کے لیے جو اس کی پیروی قبول کر لیں۔ (النحل - ۸)

<< يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ ۭ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ ۙ يَهْدِيْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلَامِ وَ يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ يَهْدِيْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍo>>

اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارا رسول آگیا ہے جو تمہارے سامنے بہت سی ان چیزوں کو کھول کر بیان کرتا ہے جنہیں تم کتاب میں سے چھپاتے ہو اور بہت سی باتوں کو معاف کر دیتا ہے۔ تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور ایک واضح کتاب آگئی ہے جس کے ذریعہ سے اللہ ان لوگوں کو جو اس کی پسند کے مطابق چلتے ہیں امن و سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے اور انہیں تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے اور سیدھی راہ کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ (المائدہ : ۳)

(۴)۔ نافرمانوں کو ڈرانا، فرمانبرداروں کو رحمت الہٰی کی خوشخبری دینا اور اللہ کے دین کی اشاعت کرنا :-

<<يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًا وَّ دَاعِيًا اِلَى اللهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِيْرًا>>

اے نبی ! ہم نے تم کو گواہ اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور اللہ کےحکم سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور ایک روشن آفتاب بنا کر بھیجا ہے۔ (احزاب۶)

دوسرا شعبہ عملی زندگی اور اس کے معاملات سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے کام یہ ہیں :

نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، حرام و حلال کی حدود قائم کرنا اور انسان کو خدا کے سوا دوسروں کی عائد کردہ پابندیوں سے آزاد اور اُن کے لادے ہوئے بوجھوں سے ہلکا کرنا۔

<<يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ ۙ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ>>

وہ ان کو نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سےروکتا ہے ان کے لیے پاک چیزوں کوحلال کرتا ہے اور ناپاک چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے۔ اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے، اور ان بندشوں کو کاٹتا ہے جن میں وہ دبے اور جکڑے ہوئےتھے۔ پس جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت کریں اور اس نورکی پیروی کریں جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا ہے وہی فلاح پانے والے ہیں۔ (اعراف: ۱۹)

بندگانِ خدا میں حق اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرنا۔

<<إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ ۚ وَلَا تَكُن لِّلْخَائِنِينَ خَصِيمًا>>

اے محمد ! ہم نے تم پر حق کے ساتھ یہ کتاب نازل کی ہے تا کہ تم اللہ کے بتائے ہوئے قوانین کے مطابق لوگوں کےفیصلے کرو۔ اور خیانت کرنے والوں کے وکیل نہ بنو۔ (النساء: ۱۶)

اللہ کے دین کو اس طرح قائم کر دینا کہ انسانی زندگی کا پورا نظام اسی کا تابع ہو اور دوسرے سب طریقے اس کے مقابلے میں دب کر رہ جائیں۔

<<هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَ دِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ>>

وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کوہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے پوری جنسِ دین پر غالب کر دے۔ (الفتح: ۴)

اسی طرح نبی کے کام کا یہ شعبہ سیاست، عدالت، اصلاح اخلاق و تمدن اور قیام تہذیب صالح کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہو جاتا ہے۔

۵۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کام کسی ایک قوم یا ملک یا دور کے لیے مخصوص نہیں ہے، بلکہ تمام نوع انسانی کے لیے اور تمام زمانوں کے لیے عام ہے۔

<<وَمَا أَرْسَلْنٰكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ>>

اے محمد! ہم نے تم کو تمام انسانوں کے لیے ڈرانے والا اور بشارت دینےوالا بنا کر بھیجا ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (السبا: ۳)

<<قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ۨ الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَاتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ٥>>

اے محمدؐ! کہو کہ اے انسانو! میں تم سب کی طرف خدا کا رسول ہوں، اس خدا کا جو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک ہے۔ جس کے سوا کوئی خدا نہیں، جو مارنے اور جلانے والا ہے پس ایمان لاؤ خدا پر اور اس کےرسول نبی امی پر جو خدا اور اس کے فرامین پر ایمان رکھتا ہے۔ اور اس کی پیروی کرو۔ امید ہے کہ تم راہِ راست پالوگے۔ (الاعراف ۔ ۲۰)

<<وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ>>

(اے محمدؐ! کہو) اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ میں اس کے ذریعہ سے تم کو متنبہ کروں۔ اور جس جس کو یہ پہنچے۔ (الانعام ۔ ۲۰)

<<إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ ۙ لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ ٥>>

یہ قرآن، تو ایک نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لیے، ہر اس شخص کے لیےجو تم میں سے راست رو بننا چاہے۔ (التکویر)

۶- نبوت محمدی کی ایک اور خصوصیت قرآن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اس پر سلسلۂ نبوت و رسالت ختم کر دیا گیا۔ اور اس کے بعد دنیا کو پھر کسی نبی کی حاجت باقی نہ رہی :-

<<مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ>>

محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کےباپ نہیں ہیں۔ مگر وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے (سلسلے کو) ختم کرنے والے ہیں۔ (الاحزاب۵)

یہ درحقیقت لازمی نتیجہ ہے نبوت محمدی کی عالم گیری اور ابدیت اور تکمیل دین کا۔ چونکہ قرآن کے مذکورہ بالا بیانات کی رو سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت تمام دنیا کے انسانوں کے لیے ہے نہ کہ ایک قوم کے لیے اور آپؐ کے ذریعہ سے وہ کام بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ چکا ہے جس کے لیے دنیا میں انبیاء کے آنے کی ضرورت تھی۔ اس لیے یہ سراسر معقول بات تھی کہ آپؐ پر سلسلۂ نبوت کو ختم کر دیا گیا۔ اس مضمون کو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہترین اسلوب کے ساتھ ایک حدیث میں واضح کیا ہے فرماتے ہیں کہ میری مثال نبیوں میں ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک نہایت خوبصورت مکان بنایا اور تمام عمارت بنا کر صرف ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ اب جو لوگوں نے اس کے گرد چکر لگایا تو وہ خالی جگہ انہیں کھٹکنے لگی۔ اور وہ کہنے لگے کہ اگر یہ آخری اینٹ بھی رکھ دی جاتی تو مکان مکمل ہو جاتا۔ سو وہ آخری اینٹ جس کی جگہ نبوت کے محل میں باقی رہ گئی تھی، میں ہی ہوں اور اب میرے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ اس مثال سے ختم نبوت کی وجہ صاف سمجھ میں آجاتی ہے۔ جب دین کامل ہو چکا، آیاتِ الہٰی پوری وضاحت کے ساتھ بیان ہو چکیں، اوامر و نواہی، عقائد و عبادات، تمدن و معاشرت، حکومت و سیاست، غرض انسانی زندگی کے ہر شعبہ کے متعلق پورے پورے احکام بیان کر دیے گئے اور دنیا کے سامنے اللہ کا کلام اور اللہ کے رسول کا اسوۂ حسنہ اس طرح پیش کر دیا گیا کہ ہر قسم کی تلبیس و تحریف سے پاک ہے اور ہر عہد میں اس سے ہدایت حاصل کی جا سکتی ہے تو نبوت کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔ صرف تجدید و تذکیر کی ضرورت رہ گئی ہے جس کے لیے علماء حق اور مومنین صادقین کی جماعت کافی ہے۔

۷- آخری سوال جو دریافت طلب رہ جاتا ہے، یہ ہے کہ اس کتاب کا لانے والا ذاتی طور پر کس قسم کے اخلاق کا انسان تھا؟

اس سوال کے جواب میں قرآن مجید نے دوسری رائج الوقت کتابوں کی طرف اپنے لانے والے کی تعریف کے پل نہیں باندھے ہیں نہ آپؐ کی تعریف کو ایک مستقل موضوع گفتگو بنایا ہے، البتہ آمد سخن میں محض اشارۃً آنحضرتؐ کی اخلاقی خصوصیات ظاہر کی ہیں جن سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس وجود مسعود میں کمال انسانیت کے بہترین خصائص موجود تھے۔

(۱) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا اخلاق کے نہایت بلند مقام پر تھا۔

<< وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ>>

اور اے محمد! یقیناً تم اخلاق کے بڑے درجے پر ہو۔ (القلم - ۱)

(۲) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا ایک راسخ العزم، مستقیم الارادہ اور اللہ پر ہر حال میں بھروسہ رکھنے والا انسان تھا۔ کہ جس وقت اس کی ساری قوم اسے مٹا دینے پر آمادہ ہوگئی تھی اور وہ صرف ایک مددگار کے ساتھ ایک غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوا تھا اس سخت مصیبت کے وقت میں بھی اس نے ہمت نہ ہاری اور اپنے عزم پر قائم رہا۔

<< اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِيَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا >>

یاد کرو، جب کہ کافروں نے اس کو نکال دیا تھا جب کہ وہ غار میں صرف ایک آدمی کے ساتھ تھا جب کہ وہ اپنےساتھی سے کہہ رہا تھا کہ رنج نہ کر! اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ (توبہ - ۶)

(۳) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا ایک نہایت فراخ حوصلہ اور فیاض انسان تھا۔ جس نے اپنے بدترین دشمنوں کے لیے بھی بخشش کی دعا کی۔ اور آخر اللہ تعالیٰ کو اسے اپنا یہ قطعی فیصلہ سنا دینا پڑا کہ وہ ان لوگوں کو نہیں بخشے گا۔

<<اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ>>

چاہے تم ان کے لیے معافی مانگو، چاہے نہ مانگو اگر تم ستر بار بھی ان کے لیے معافی مانگو گے تب بھی اللہ ان کو معاف نہ کرے گا۔ (توبہ :١۰)

(۴) وہ بتاتا ہے کہ اس کے لانے والے کا مزاج نہایت نرم تھا، وہ کبھی کسی کے ساتھ درشتی سے پیش نہیں آتا تھا۔ اور اسی لیے دنیا اس کی گرویدہ ہوگئی تھی :-

<<فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ص>>

یہ اللہ کی رحمت ہے کہ تم ان کے ساتھ نرم ہو۔ ورنہ اگر تم زبان کے تیز اور دل کے سخت ہوتے تو یہ سب لوگ تمہارے گرد و پیش سے چھٹ کر الگ ہو جاتے۔ (آل عمران - ۱۷)

(۵) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا بندگانِ خدا کو راہِ راست پر لانے کی سچی تڑپ دل میں رکھتا تھا۔ اور ان کی گمراہی پر اصرار کرنے سے اس کی روح کو صدمہ پہنچتا تھا حتیٰ کہ وہ ان کے غم میں گھلا جاتا تھا :-

<<فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَىٰ آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَٰذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا>>

اے محمد ! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم ان کے پیچھے رنج و غم میں اپنی جان کھو دو گے۔ اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائے۔ (الکہف - ۱)

(۶) وہ بتاتا ہے کہ اس کے لانے والے کو اپنی امت سے بے حدمحبت تھی، وہ ان کی بھلائی کا حریص تھا، ان کے نقصان میں پڑنے سے کڑھتا تھا، اور ان کے حق میں سراپا شفقت و رحمت تھا :-

<<لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌمِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ>>

تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ایک ایسا رسول آیا ہے جسے ہر وہ چیز شاق گزرتی ہے جو تمہیں نقصان پہنچانے والی ہو، جو تمہاری فلاح کا حریص ہے اور ایمان داروں کے ساتھ نہایت شفیق و رحیم ہے۔ (توبہ - ۱۶)

(۷) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا صرف اپنی قوم ہی کے لیے نہیں بلکہ تمام عالم کے لیے اللہ کی رحمت تھا :۔

<<وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَلَمِيْنَ o>>

اے محمد ! ہم نے تو تم کو تمام عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ (انبیاء -۷)

(۸) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا راتوں کو گھنٹوں اللہ کی عبادت کرتا اور خدا کی یاد میں کھڑا رہتا تھا۔

<<اِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَيِ الَّيْلِ وَنِصْفَهُ وَثُلُثَهُ>>

اے محمد ! تمہارا رب جانتا ہے کہ تم رات کو تقریباً دو تہائی حصہ تک ، اور کبھی نصف رات اور کبھی ایک تہائی حصہ تک نماز میں کھڑے رہتے ہو۔(المزمل - ۲)

(۹) وہ بتاتا ہے کہ اس کا لانے والا ایک سچا انسان تھا نہ کبھی اپنی زندگی میں راہِ حق سے بھٹکا نہ فاسد خیالات سے متاثر ہوا۔ اور نہ کبھی اس نے ایک لفظ خواہشِ نفس کی پیروی میں حق کے خلاف زبان سے نکالا۔

<<مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوٰى o وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى>>

لوگو! تمہارا صاحب نہ کبھی سیدھی راہ سے بھٹکا اور نہ صحیح خیالات سے بہکا اور نہ وہ خواہش نفس سے بولتا ہے۔ (النجم-۱)

(۱۰) وہ بتاتا ہے کہ اس کے لانے والے کی ذات تمام عالم کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ تھی، اور اس کی پوری زندگی کمال اخلاق کا صحیح معیار تھی۔

<<لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ>>

تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں ایک اچھا نمونہ ہے۔ (احزاب-۳)

قرآن مجید کا تتبع کرنے سے صاحب قرآن کی بعض اور خصوصیات پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ لیکن اس مضمون میں تفصیل کی گنجائش نہیں۔ جو کوئی قرآن کا مطالعہ کرے گا وہ خود دیکھ لے گا کہ بخلاف دوسری موجود الوقت مذہبی کتابوں کے یہ کتاب اپنے لانے والے کو جس رنگ میں پیش کرتی ہے وہ کس قدر صاف، واضح اور آلودگی سے پاک ہے۔ اس میں نہ الوہیت کا کوئی شائبہ ہے نہ تعریف و ثنا میں مبالغہ ہے۔ نہ غیر معمولی قوتیں آپ کی طرف منسوب کی گئی ہیں۔ نہ آپ کو خدا کے کاروبار میں شریک و سہیم بنایا گیا ہے اور نہ آپ کو ایسی کمزوریوں سے متہم کیا گیا ہے جو ایک ہادی اور داعی الحق کی شان سے گری ہوئی ہوں۔ اگر اسلامی لٹریچر کی دوسری تمام کتابیں دنیا سے ناپید ہو جائیں اور صرف قرآن مجید ہی باقی رہ جائے تب بھی رسول اکرمؐ کی شخصیت کے متعلق کسی غلط فہمی، کسی شک و شبہ اور کسی لغزشِ عقیدت کی گنجائش نہیں نکل سکتی۔ ہم اچھی طرح معلوم کر سکتے ہیں کہ اس کتاب کا لانے والا ایک کامل انسان تھا، بہترین اخلاق سے متصف تھا۔ انبیاء سابقین کی تصدیق کرتا تھا، کسی نئے مذہب کا بانی نہ تھا اور کسی فوق البشر حیثیت کا مدعی نہ تھا۔ اس کی دعوت تمام عالم کے لیے تھی۔ اس کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے چند مقرر خدمات پر مامور کیا گیا تھا، اور جب اس نے ان خدمات کو پوری طرح انجام دے دیا تو نبوت کا سلسلہ اسی کی ذات پر ختم ہو گیا۔